امریکہ میں میڈونا کے سینما میں فلم دیکھنے پر پابندی

امریکہ میں سینما گھروں کے ایک گروپ نے گلوکارہ میڈونا کو فلم کے دوران ایس ایم ایس پیغامات بھیجنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
نیویارک فلم فیسٹول میں ایک فلم کے دوران 55 سالہ گلوکارہ میڈونا کو وہاں موجود ایک فلم بین نے ایس ایم ایس پیغامات بھجوانے سے منع کیا۔
سینما گھروں کے ایک گروپ آلمو ڈرافٹ ہاؤس گروپ کی ویب سائٹ کے مطابق’فلم کے دوران بات چیت کرنے اور ایس ایم ایس پیغامات سے متعلق ہماری پالیسی کو کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔
اگر آپ بات کرتے ہیں یا ایس ایم ایس کرتے ہیں، تو آپ کو ایک بار متنبہ کیا جائے گا اور اگر دوبارہ ایسا ہوتا ہے تو آپ کو ٹکٹ کی رقم واپس کیے بغیر باہر نکال دیا جائے گا‘۔
سینما گھروں کے اس گروپ نے فلم کے دوران بات چیت کرنے اور فون پر ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے کی سخت پالیسی اپنا رکھی ہے۔
آلمو ڈرافٹ ہاؤس گروپ کے چیف ایگزیکٹو افسر ٹم لیگ نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا’ فلم شائقین سے معذرت نہ کرنے تک میڈونا پر آلمو میں فلمیں دیکھنے پر پابندی ہو گی‘۔
ٹم لیگ کے مطابق ہم نے سینما مینجرز کو ارسال کیے جانے والے خطوط میں ہدایت کی گئی ہے کہ میڈونا کو اس وقت تک ڈرافٹ ہاؤس سینما گھروں میں فلم دیکھنے کی اجازت دی جائے جب تک وہ معافی نہیں مانگ لیتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم ناقد چارلس ٹیلر بھی فلم سکریننگ کے دوران سینما گھر میں موجود تھے۔
انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر لکھا ہے کہ میرے ساتھ بیٹھی ایک خاتون نے انہیں’میڈونا‘ کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ اپنے فون کو ایک طرف رکھ دیں اور انہوں نے ناگواری سے دیکھتے ہوئے کہا کہ’یہ کاروبار کے لیے ہے‘۔
ابھی تک میڈونا کی جانب سے اس پابندی پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔







