’دی گڈ روڈ‘ آسکرز میں بھارت کی نمائندہ

فلم میں صحرا سے گزرنے والی ہائی وے پر ہونے والے تین متوازی واقعات کو کہانی کا اہم پہلو بنایا گیا ہے
،تصویر کا کیپشنفلم میں صحرا سے گزرنے والی ہائی وے پر ہونے والے تین متوازی واقعات کو کہانی کا اہم پہلو بنایا گیا ہے

گجراتی فلم ’دی گڈ روڈ‘ کو آسکرز ایوارڈز میں غیر ملکی زبان میں بنائی گئی بہترین فلم کے زمرے میں بھارت کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

معروف فلم ڈائریکٹر گوتم گھوش نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا ہے کہ فلم فیڈریشن آف انڈیا کی طرف سے منتخب کی گئی سلیکشن کمیٹی نے متفقہ طور پر اس فلم کا انتخاب کیا ہے۔

گوتم گھوش اس سولہ رکنی کمیٹی کے سربراہ تھے۔

انہوں نے کہا، ’دی گڈ روڈ ایک نئی لیکن حیران کر دینے والی فلم ہے۔ یہ گمشدہ بچے کے ذریعے اس بھارت سے ہمارا تعارف کرتی ہے جو اب تک ان دیکھا ہے۔‘

نئے ہدایتکار گیان کوریا کی ’دی گڈ روڈ‘ کو اس سال کا بہترین گجراتی فلم کا قومی ایوارڈ بھی ملا تھا۔

بھارت کی طرف سے آسکر کے لیے بھیجی جانے والی فلموں کی دوڑ میں کل 21 فلمیں شامل تھیں۔

لنچ باكس، شپ آف تھيسيس، بھاگ ملکھا بھاگ، انگلش ونگلش جیسی ہندی فلموں کے ساتھ ہی مليالم اور بنگالی فلموں کو بھی آسکر کے لیے نامزدگی کی دوڑ میں اہم دعویدار مانا جا رہا تھا۔

سلیکشن کمیٹی کے سربراہ گوتم گھوش نے کہا، ’لنچ بكس بھی اہم دعویدار تھی۔ لنچ بكس مجھے خود بہت پسند آئی۔‘

’دی گڈ روڈ‘ نیشنل فلم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (این ایف ڈي سي) کی مالی معاونت سے بنی ہے اورگجرات میں 19 جولائی کو ریلیز ہوئی تھی۔

اس فلم کے ساؤنڈ ڈیزائنر رسول پھوكٹي کو 2009 میں سلم ڈاگ ملینيئر کے لیے بہترین ساؤنڈ ڈیزائن کا آسکر ایوارڈ مل چکا ہے۔

فلم میں صحرا سے گزرنے والی ہائی وے پر ہونے والے تین متوازی واقعات کو کہانی کا اہم پہلو بنایا گیا ہے۔

فلم میں ایک ٹرک ڈرائیور، ایک متوسط خاندان اور ان کا بیٹا اور ایک چھوٹی لڑکی شاہراہ پر ایک ساتھ سفر کر رہے ہیں جس کے دوران تینوں کے غیر متوقع واقعات کا سامنا ہوتا ہے جس سے فلم کی کہانی آگے بڑھتی ہے۔