صوتی انقلاب کے بانی ڈولبی نہیں رہے

ڈولبی تجربہ گاہوں کے بانی اور آواز کی دنیا میں انقلاب لانے والے امریکی انجینیئر رے ڈولبی کا 80 برس کی عمر میں امریکی شہر فرانسسکو میں انتقال ہوگيا ہے۔
رے ڈولبی نے اپنے تجربات کے ذریعے آڈیو ریکارڈنگ میں شور کم کرنے جیسا اہم کارنامہ انجام دیا تھا جس کے بعد گھروں اور سنیماؤں میں ڈولبی سسٹم بےحد مقبول و معروف ہوا۔
ڈولبي کئی سالوں سے ایلزہائمرز کی بیماری سے متاثر تھے اور موسم گرما میں پتہ چلا کہ انہیں ليوكيميا (خون کا سرطان) بھی ہے۔
ڈولبي نے اپنے بہترین کام کے لیے کئی ایوارڈ جیتے۔ ڈولبي تجربہ گاہوں کے موجودہ صدر کیون ای مین کے مطابق رے ڈولبي ’بصیرت افروز شخص‘ تھے۔
ڈولبي کی پیدائش امریکی ریاست اوریگن کے شہر پورٹ لینڈ میں ہوئی تھی لیکن انہوں نے سان فرانسسکو میں اپنی زندگی کا بیشتر وقت گزارا۔
اپنے طالب علمی کی زندگی میں ہی ویڈیو ٹیپ ریکارڈنگ سسٹم کو تیار کرنے میں مدد کرنے کے ساتھ ہی انہوں نے ایمپیكس کارپوریشن کے ساتھ اپنا کریئر شروع کیا تھا۔
اس کے بعد کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے وہ انگلینڈ چلے گئے اور وہیں سنہ 1965 میں انہوں نے ڈولبي لیبارٹریز قائم کیں۔
ایک وقت یہ تھا کہ ٹیپ ریكارڈنگ کے دوران بیک گراؤنڈ سے آنے والے شور کو کم کرنے اور پھر بعد میں اسے ٹیپ سے ختم کر نے میں کامیابی کے بعد ان کی کمپنی آڈیو ٹیکنالوجی کے میدان میں اول درجہ پر پہنچی گئي تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1976 میں انہوں نے اپنی کمپنی کو سان فرانسسکو منتقل کر لیا۔ 1989 میں انہیں فلم میں اہم شراکت کے لیے آسکر سے نوازا گیا۔
1995 میں انہیں گریمی ایوارڈ اور 1989 و 2005 میں ایمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔
ڈولبي کے بیٹے، فلم ساز اور ناول نگار ٹام ڈولبي نے کہا: ’وہ دل سے ایک انجینئر تھے لیکن آڈیو ٹیکنالوجی میں میرے والد کی کامیابیاں موسیقی اور فن سے محبت کی وجہ سے ہی بڑھیں۔‘
ٹام نے کہا: ’فلم اور آڈیو ریکارڈنگ میں کیے گئے اپنے فنکارانہ کام کے لیے انہیں بہت سراہا گیا۔‘







