ٹام ہینکس جیوری میں: مقدمہ وقت سے پہلے ختم

مقدمے کے ملزم کو سزا ہونے کی صورت میں ایک سال جیل ہو سکتی تھی
،تصویر کا کیپشنمقدمے کے ملزم کو سزا ہونے کی صورت میں ایک سال جیل ہو سکتی تھی

امریکہ کی ایک مقامی عدالت میں زیرِ سماعت مقدمہ جیوری پر اثر انداز ہونے کے الزامات کی وجہ سے وقت سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔

عدالت میں موجود جیوری میں ہالی ووڈ کے مشہور ادارکار ٹام ہینکس بھی شامل تھے۔

وکیلِ صفائی نے لاس انجلیس کے وکیلِ استغاثہ کے دفتر کی ایک خاتون رکن کا ٹام ہینکس کے قریب جانے اور ان کا شکریہ ادا کرنے کے غیر پیشہ وارانہ برتاؤ کی بنیاد پر عدالت سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کی۔

مقدمے کے ملزم کو سزا ہونے کی صورت میں ایک سال جیل ہو سکتی تھی۔

تاہم ایک سمجھوتے کے تحت ملزم پر 150 امریکی ڈالر جرمانہ عائد کرنے پر اتفاق ہوا۔

آسکر انعامِ یافتہ اداکار ٹام ہینکس گذشتہ ہفتے شروع ہونے والے اس مقدمے میں بارہ ارکان پر مشتمل جیوری کا حصہ تھے۔

وکیلِ صفائی انڈریو فلائر نے ٹی ایم زی کو بتایا کہ بدھ کو کھانے کے وقفے کے دوران لاس انجلیس کے اٹارنی جنرل کے دفتر کی ایک خاتون رکن نے ٹام ہینکس سے بات کی جو کہ وکلا کا کمرۂ عدالت سے باہر جیوری کے ارکان سے بات کرنے کے قانون کے خلاف ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’خاتون رکن عمارت کی سیڑھیوں پر ٹام ہینکس سے ملی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے ٹام سے کہا کہ وہ اس بات سے سب بہت متاثر ہیں کہ ان جیسی اتنی مشہور شخصیت جیوری میں اپنی خدمات دے گی۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’حقیقت میں شاید وہ سٹار سٹرک یا ٹام کے سحر میں تھی لیکن سو فیصد ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اس کی بالکل اجازت نہیں ہے۔‘

وکیلِ صفائی کی طرف سے اس غیر پیشہ ورانہ برتاؤ کو ثابت کرنے کے لیے عدالت میں درخواست کے بعد دونوں طرفین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملزم معمولی الزامات کو مان لے گا۔

لاس انجلیس کے اٹارنی جنرل کے دفتر کی ترجمان اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے سے شہر کے اٹارنی جنرل کو مطلع کیا گیا ہے جو اس صورتِ حال کو دیکھے رہے ہیں۔