سنجے دت کو جیل جانا ہی ہوگا: سپریم کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ نے بالی وڈ کے معروف اداکار سنجے دت کی جانب سے سزائے قید کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل مسترد کر دی ہے۔
واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے سنجے دت کو 1993 میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کے دوران غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے پر گزشتہ 21 مارچ کو پانچ برس قید کی سزا سنائی تھی اور خود سپردگی کے لیے انہیں اٹھارہ اپریل تک کا وقت دیا گیا تھا۔
اس کے بعد سنجے دت کو جیل حکام کے سامنے خود سپردگی کے لیے مزید چار ہفتوں کی مہلت دی گئی تھی جو 15 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔
عدالت نے کہا تھا کہ یہ اضافی مہلت انہیں صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی ہے۔
بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق جسٹس پی ستھاشیوم اور جسٹس بی ایس چوہان پر مشتمل سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے سنجے دت کی نظر ثانی کی اپیل پر شنوائی کرتے ہوئے کہا کہ سنجے دت کے ذریعے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے دی گئی دلیل میں کوئی دم نہیں ہے۔
اس کے بعد سنجے دت کے وکیل شیواجی جادھو نے کہا کہ اب سنجے دت کے پاس خود سپردگی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔
لیکن ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایک چارہ یہ ہے کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کوئی ثبوت نظر انداز ہوگیا ہے تو وہ کیوریٹو پیٹیشن دے سکتے ہیں یا پھر وہ رحم کی اپیل کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے انہیں پہلے جیل جانا ہوگا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی بنچ نے اسی معاملے میں دوسرے چھ لوگوں یوسف محسن نل والا، خلیل احمد سید علی نذیر، محمد داؤد یوسف خان، شیخ آصف یوسف، مذمل عمر قادری اور محمد احمد شیخ کی نظر ثانی کی اپیل کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل سنجے دت نے عدالت سے اپیل کی تھی کہ انہیں مزید چھ مہینوں کی مہلت دی جائے لیکن ان کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے انہیں صرف چار ہفتوں کی مہلت دی تھی۔ یہ اضافی مہلت اٹھارہ اپریل سے شروع ہوئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق ان کی کئي فلمیں شوٹنگ کے درمیانی مراحل میں ہیں جس میں تقریباً تین سو کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
فلم سٹار کو غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں پہلے چھ سال کی قید سنائی گئی تھی جسے حال میں کم کرکے پانچ سال کر دیا گیا لیکن وہ اسی زمانے میں تقریبا ڈیڑھ برس جیل میں رہ چکے ہیں اور اس طرح انہیں اب تقریبا ساڑھے تین برس تک قید میں رہنا ہوگا۔ وہ 2007 سے ضمانت پر تھے۔
سال دو ہزار چھ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بم حملوں میں سو افراد کو مجرم قرار دیا تھا اور ان میں سے بارہ افراد کو سزائے موت اور بیس کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
ممبئی میں سن انیس سو ترانوے میں سلسلہ وار بارہ بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 257 افراد ہلاک اور 713 زخمی ہوئے تھے۔







