سنجے دت کو سپریم کورٹ سے ایک ماہ کی مہلت

بالی وڈ کے معروف اداکار سنجے دت کو بھارتی سپریم کورٹ نے غیر قانونی ہتھیار رکھنے کے الزام میں جیل حکام کے سامنے خود سپردگی کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دے دی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ عدالت عظمیٰ نے سنجے دت کو 1993 میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کے دوران غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے پر پانچ برس قید کی سزا سنائی تھی اور خود سپردگی کےلیے انہیں اٹھارہ اپریل تک کا وقت دیا گیا تھا۔
سنجے دت نے عدالت سے اپیل کی تھی کہ انہیں مزید چھ مہینوں کی مہلت دی جائے لیکن ان کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے انہیں صرف چار ہفتوں کی مہلت دی ہے۔ یہ اضافی مہلت اٹھارہ اپریل سے شروع ہو رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی عدالت نے کہا ہے کہ اس کے بعد انہیں مزید مہلت نہیں دی جائے گی اور یہ کہ انہیں یہ مہلت صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی ہے۔
اس سے قبل عدالت نے بھارت کے سب سے بڑے تفتیشی ادارے سی بی آئی کی اس دلیل کو خارج کردیا جس میں کہا گیا تھا کہ سنجے دت کو مزید مہلت نہیں دی جا سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ان کی کئي فلمیں شوٹنگ کے درمیانی مراحل میں ہیں جس میں تقریباً تین سو کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔

چند روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ وہ سزا کے خلاف اپیل یا رحم کی درخواست نہیں کریں گے۔
دریں اثناء سپریم کورٹ کے سابق جج اور پریس کونسل آف انڈیا کے سربراہ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سنجے دت کی سزام معاف کرنے کے لیے ریاست مہاراشٹر کے گورنر اور صدر مملکت سے رحم کی باضابطہ درخواست کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم سٹار کو غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں پہلے چھ سال کی قید سنائی گئی تھی جسے حال میں کم کرکے پانچ سال کر دیا گیا لیکن وہ اسی زمانے میں تقریبا ڈیڑھ برس جیل میں رہ چکے ہیں اور اس طرح انہیں اب تقریبا ساڑھے تین برس تک قید میں رہنا ہوگا۔ وہ 2007 سے ضمانت پر تھے۔
سال دو ہزار چھ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بم حملوں میں سو افراد کو مجرم قرار دیا تھا اور ان میں سے بارہ افراد کو سزائے موت اور بیس کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
ممبئی میں سن انیس سو ترانوے میں سلسلہ وار بارہ بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 257 افراد ہلاک اور 713 زخمی ہوئے تھے۔







