بالی وڈ ڈائری: بپاشا باسو کا نیا روپ، سنجے کپور کی بیگم کا انکشاف اور جب شبانہ اعظمی رو پڑیں

    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

ایسا کیوں ہوتا ہے جب کسی ہیرو یا ہیروئن کی کوئی فلم یا شو ریلیز ہونے والا ہوتا ہے تب ہی انھیں اپنی اصل زندگی کے کڑوے حقائق یا واقعات یاد آنے لگتے ہیں اور وہ کبھی بے باکی اور کبھی افسردگی تو کبھی غصے کے ساتھ اسے میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا پر شئیر کرتے ہیں؟

ایسا ہی ایک دکھ اداکار سنجے کپور کی بیگم مہیپ کپور نے اپنے ریلیٹی شو 'فیبولیس لائیوز آف بالی ووڈ وائیوز' کے سیزن ٹو کی ایک قسط میں سب کے سامنے رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ 25 سال کی شادی میں میرے شوہر سنجے کپور نے مجھے دھوکہ دیا۔

انڈیا ٹوڈے کے ساتھ انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ بات آن سکرین کہنا مشکل تھا تو مہیپ کا کہنا تھا مشکل کچھ بھی نہیں ہوتا وہ ایک لمحہ تھا جس میں انھوں نے یہ بات کہہ ڈالی۔

نیٹ فلیکس پر اس شو کا سیزن ٹو اسی ہفتے شروع ہوا ہے۔

مہیب کا کہنا تھا کہ عورتوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہمارے ساتھ بھی مسائل ہوتے ہیں، زندگی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہوتا، چاہے کوئی بھی ہو اتار چڑھاؤ ہر ایک کی زندگی میں آتے ہیں، اور ہم انھیں حل کرتے ہوئے زندگی میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ مگر ان کے بارے میں بات کرنا ضروری ہوتا ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سنجے کو اس بارے میں معلوم ہے تو ان کا کہنا تھا 'نہیں، وہ جب شو دیکھیں گے تو جان لیں گے'۔

ویسے اس شو پر ان چاروں کے علاوہ شو کے پروڈیوسر کرن جوہر بھی بار بار نمودار ہوں گے اور ساتھ ہی کئی بڑے فلم سٹار بھی نظر آئیں گے جن میں چنکی پانڈے اور ان کی بیٹی اننیہ پانڈے ، جیکی شروف اور سیما سچدیو کی جیٹھانی ملائکہ اروڑھ بھی ہوں گی۔

یہ شو اسی کی دہائی کی اداکارہ نیلم کوٹھاری، سنجے کپور کی بیگم مہیپ کپور، چنکی پانڈے کی بیوی بھاونا پانڈے اور سیما سچدیو کی ذاتی اور پروفیشنل زندگی پر مبنی ہے جو آپس میں گہری دوست ہیں۔ اس شو میں شاہ رخ خان کی بیگم گوری خان بھی نظر آئی ہیں۔

سیما سچدیو سلمان خان کے بھائی سہیل خان کی اہلیہ تھیں جن کے بیچ اب طلاق ہو رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جمعہ کے روز ریلیز ہونے والی یہ سیریز ڈرامہ ، سرپرائزز اور ایموشنز سے بھر پور ہو گی اور چاروں خواتین اس سیریز کو ایک نئے موڑ پر لانے کی کوشش کریں گی۔

یہ بھی پڑھیے

بپاشا باسو ماں بننے والی ہیں

نیا موڑ تو اداکارہ بپاشا باسو کی زندگی میں آنے والا ہے کیونکہ وہ جلدی ہی ممی بننے والی ہیں ۔

حال ہی میں بپاشا باسو نے اپنے شوہر کرن سنگھ گروور کے ساتھ ایک فوٹو شوٹ کیا اور وہ تصاویر سوشل میڈیا پر بھی شئیر کیں جس میں بپاشا اپنا 'بے بی بمپ' بڑے فخر کے ساتھ دکھاتی نظر آئیں۔

سوشل میڈیا پر لوگوں ان تصاویر کو خوب سراہا ۔ کرینہ کپور غالباً ایسی پہلی بڑی ہیروئن تھیں جنھوں نے اپنے حمل کے دوران نہ صرف آخر تک کام کیا بلکہ پورے حمل کے دوران وہ فیشن شوز اور فوٹو شوٹ کرتی رہیں۔

سوشل میڈیا پر آپ کو ہمیشہ ایسے لوگ بھی ملیں گے جو ان تصاویر پر منفی تبصرے کرتے نظر آئیں گے اب چاہے یہ تصاویر کرینہ کپور کی ہوں، عالیہ بھٹ کی یا پھر بپاشا باسو کی۔

یہ خواتین، عورت کی زندگی کے اس اہم اور نازک دور کو ایک خوبصورت فریم میں پیش کرتی نظر آتی ہیں اور یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ عورت کا یہ روپ بھی انتہائی خوبصورت اور پر وقار ہوتا ہے جسے نہ تو چھپانے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس سے شرمانے کی۔

شبانہ اعظمی کیوں رو پڑیں؟

شبانہ اعظمی ٹی وی چینل این ڈی ٹی وی پر عورتوں کے حقوق اور ان کی حالت زار پر بات کرتے کرتے رو پڑیں۔

حال ہی میں بلقیس بانو کا ریپ اور ان کے خاندان کو قتل کرنے والے گیارہ مجرموں کی رہائی پر شبانہ کا کہنا تھا کہ وہ بہت شرمسار ہیں۔

انٹرویو کے دوران شبانہ کا کہنا تھا کہ کیا ہمیں اس کے خلاف آواز نہیں اٹھانی چاہیے؟ کیا عورتوں کو تحفظ کا احساس نہیں دلوانا چاہیے؟ میں اپنے بچوں کو کیا کہوں؟ ایک عورت ہونے کے ناطے میں بلقیس سے کیا کہوں؟

شبانہ نے یہ بھی کہا کہ ان مجرمان کی رہائی پر خاتون ممبرانِ پارلیمان خاموش کیوں ہیں، ملک میں عورتوں کی بہبود سے متعق وزیر کی خاموشی کا کیا مطلب ہے اور ان سب سے بڑھ کر عورتوں سے متعلق ملک کے قومی کمیشن نے آواز کیوں نہیں اٹھائی۔

شبانہ کا کہنا تھا کہ وہ حیران ہیں کہ اس ملک میں ایسا کیسے ہو سکتا ہے،کیسے کسی کو اس طرح انصاف سے محروم کیا جا سکتا ہے۔

ملک کے لوگ بالکل اسی طرح سڑکوں پر کیوں نہیں نکلے جیسے 2012 کے دلی ریپ کیس میں نکل پڑے تھے؟ شبانہ اعظمی کے اتنے سارے سوالوں پر ٹی وی کی اینکر ندھی رازدان نے صرف اتنا کہا کہ 'شبانہ جی کہیں ایسا اس لیے تو نہیں کہ یہ بلقیں بانو تھیں نربھیہ نہیں' ۔

دراصل شبانہ کے ان تمام سوالوں کا جواب شاید یہی ہو۔ لگتا ہے لوگ بیکار ہی کہتے ہیں کہ 'نام میں کیا رکھا ہے'۔

2002 میں گجرات فسادات ں کے دوران جن لوگوں نے بلقیس بانو کا ریپ کیا، ان کے خاندان کے سات لوگو ںکا قتل کیا اور ان کی تین سال کی بچی کو زمین پر پٹخ پٹخ کر مار ڈالا، انھیں یومِ آزادی کے موقع پر رہا کر دیا گیا تھا اور آج کل زیادہ تر ٹی وی چینلز اسی بارے میں بات کر رہے ہیں۔