کشمیر میں بالی وڈ: مراعات تو ہیں مگر 32 سال سے سنیما گھر کیوں بند ہیں

    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

معروف فلمساز اور اداکار حُسین خان جب سرینگر کے ’فرودس سنیما‘ میں داخل ہوئے تو وہاں کی ویرانی اور خستہ حالی دیکھتے ہی انھوں نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا ’یہ سب دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ کہیں کشمیر یہی تو نہیں۔‘

سنہ 1990 میں مسلح شورش شروع ہوتے ہی کئی سنیما گھروں میں بم دھماکوں کے بعد مسلح گروہوں نے سنیما گھروں کو بند کرنے کی بات کی تو دوسری جانب اکثر سنیما گھروں کو فوجی کیمپوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ مسلح شورش سے قبل بالی وڈ کی شاید ہی کوئی فلم ایسی ہوتی تھی جس میں کشمیر کے دلکش مناظر موجود نہ ہوتے۔

یہی حال کشمیر میں موجود سنیما گھروں کا تھا جہاں بالی وڈ فلموں کی رونمائی ہوتی اور کشمیری ذوق و شوق سے یہ فلمیں دیکھتے۔ لیکن شورش شروع ہوتے ہی یہ سلسلہ تھم سا گیا۔

ماضی میں بھی کئی مرتبہ کشمیر کے حکام نے بالی وڈ کو دوبارہ کشمیر مدعو کرنے کی کوششیں کیں۔ سابق وزیرِ اعلیٰ مفتی محمد سید نے ممبئی میں کئی دن تک قیام کیا اور مقبول فلم ستاروں کے ساتھ ملاقاتیں بھی کیں، لیکن حالات کبھی اتنے موافق نہ ہوئے کہ بند سنیما گھروں کو دوبارہ کھولا جا سکے۔

سنہ 2020 میں لیفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے کئی بڑے فلم ستاروں کو کشمیر مدعو کر کے مقامی فلم پالیسی کا باقاعدہ اعلان کیا تھا جس میں مقامی یا غیر مقامی فلم سازوں کو کشمیر میں شوٹنگ یا کشمیری اداکاروں کی خدمات حاصل کرنے کے عوض نقد مراعات دیے جانے کا اعلان ہو تھا۔

اس موقع پر معروف اداکار عامر خان نے کہا تھا ’بالی وڈ اور کشمیر کا جو رشتہ تھا، وہ ایک بار پھر اُسی گرمجوشی سے قائم ہو گا۔‘ اُن کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر میں بالی وڈ کی فلموں کی شوٹنگ رُک جانے سے دنیا میں سوئزرلینڈ سمیت کئی اور مقامات کو بہت فائدہ ہوا جہاں اب بالی وڈ کے ہدایتکار، پروڈیوسرز اپنی فلموں کی شوٹنگ کے لیے رُخ کرتے ہیں۔

لیکن حسین خان جیسے فلم میکر اس نئی کوشش کو مقامی پس منظر میں دیکھتے ہیں۔

حسین خان کہتے ہیں کہ ’اچھی کوشش ہے، ہو سکتا ہے اس سے دوبارہ وہی دور شروع ہو جائے، لیکن ان کوششوں کو بنیادی فوکس ہے کہ بالی وڈ یہاں آ جائے۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں، لیکن بنیادی فوکس یہاں کی مقامی فلم انڈسٹری ہونا چاہییے۔‘

فردوس سنیما میں گرد اور مٹی میں اٹی کرسیاں اور تار تار پردہ دیکھ کر حُسین خان نے کہا کہ ’پاس میں ہی میرا سکول تھا، ہم کبھی کبھی سکول سے بھاگ کر فلم دیکھتے تھے۔ پتہ نہیں کب شروع ہو گا وہ سب دوبارہ۔ فلمیں یہاں اب بھی بنتی تو ہیں لیکن یہاں کے لوگ ہی سنیما گھروں میں نہیں دیکھ سکتے۔‘

بالی وڈ اور کشمیر کا رشتہ

سنہ 1960 کے آغاز میں ہی جب بالی وڈ نے رنگین فلمیں بنانا شروع کیں تو یہاں کے لوگوں نے سنیما گھروں میں شمی کپور کو برف سے ڈھکی گلمرگ کی ڈھلانوں سے پھسلتے دیکھا۔ وہ نغمہ بہت مشہور ہوا تھا جس میں شمی کپور برف میں مستی کرتے ہوئے گا رہے تھے ’یا ہُو، یا ہُو، چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے۔۔۔‘

یہ بھی پڑھیے

پھر یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلا اور ہر بالی وڈ فلم میں جھیل ڈل کے دلربا پانیوں اور شکاروں (کشتیوں) کے حسین نظارے، وادیوں کے دلفریب مناظر اور سفیدے کے عظیم درختوں کے بیچ تانگے پر سوار اداکاروں کے نغمے دکھائی دینے لگے۔

1990 کے بعد بھی کشمیر میں فلمیں بنیں

کشمیر میں مسلح شورش اور انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں تلخیاں پیدا ہونے کے بعد بالی وڈ کی بعض کمپنیوں نے بے شک کشمیر میں فلموں کی شوٹنگ کی، لیکن اب فلمیں ’محبت‘ کے موضوع سے ہٹ کر قوم پرستانہ اور دہشت گرد مخالف موضوعات کے گرد بننے لگیں۔

سنہ 1992 میں ایک فوجی افسر کے مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا اور اُس کی بیوی کی جدوجہد پر مشتمل فلم ’روجا‘ کی شوٹنگ بھی یہیں پر ہوئی، لیکن تب تک سبھی سنیما گھر بند ہو چکے تھے۔ کشمیر کے حالات پر کئی ایسی فلمیں بھی بنیں جن میں قوم پرستانہ جذبات اور مکالمے تھے، لیکن اُن کی شوٹنگ پڑوسی ریاست ہماچل پردیش میں ہوتی تھی جبکہ ساری کہانی کشمیر پر مشتمل ہوتی تھی۔

ایسی ہی ایک فلم میں بالی وڈ ہیرو سنی دیول نے کہا تھا ’دُودھ مانگو گے کھیر دیں گے، کشمیر مانگو گے تو چیر دیں گے۔‘

حالیہ برسوں میں بھی بعض فلمیں کشمیر میں ہی بنیں ہیں جن میں ’حیدر‘، ’شکارا‘، ’یہاں‘ وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم اس سال ریلیز ہوئی ایک فلم میں کشمیری پنڈتوں کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کو دکھانے کی کوشش کی گئی تو اُس نے پورے انڈیا میں قوم پرستانہ اور کشمیر مخالف جذبات کو ہوا ملی مگر حکومت نے فلم کی خوب حوصلہ افزائی کی۔

فلم پالیسی میں کیا ہے؟

مقامی فلم ساز کمپنی ’رینزو فلمز‘ کے لائن پرڈیوسر طاہر حُسین کہتے ہیں کہ اُنھوں نے گذشتہ تین سال میں کئی فلمیں بنائی ہیں لیکن ابھی تک انھوں نے نئی فلم پالیسی کے تحت مراعات کو کلیم نہیں کیا۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ حکومت کی فلم پالیسی سے یہاں کی مقامی صنعت اور اداکاروں کو ضرور فائدہ ملے گا۔ ’اس پالیسی کے مطابق اگر کوئی فلم کمپنی اپنی فلم کا 75 فیصد حصہ کشمیر میں شوٹ کرتی ہے تو فلم کے بجٹ کا 25 فیصد یا ایک کروڑ روپے (دونوں میں سے جو کم ہو) حکومت ادا کرے گی۔

اسی طرح اگر فلم میں کام کرنے والے پانچ مرکزی اداکار مقامی ہیں تو اُن کی فیس کا 50 فیصد یا 50 لاکھ روپے (دونوں میں سے جو کم ہو) حکومت ہی ادا کرے گی۔‘

پالیسی کے مطابق اگر کوئی کمپنی دوسری مرتبہ کشمیر میں فلم بنانا چاہے تو ان مراعات میں مزید اضافہ بھی ہو گا۔

طاہر حُسین کہتے ہیں کہ اُن کی کمپنی آئندہ ماہ ستمبر میں ایک فیچر فلم بنا رہی ہے جس کی سو فیصد شوٹنگ کشمیر میں ہی ہو گی اور بیشتر اداکار اور فنکار بھی کشمیری ہوں گے۔ ’اُس وقت ہم حکومت سے رجوع کریں گے اور فلم پالیسی میں جو وعدے کیے گئے ہیں اُن کے مطابق کلیم کریں گے۔‘

قابل ذکر بات یہ ہے کہ فلم پالیسی میں اعلان کیا گیا ہے کہ حکومت نے ویران پڑے سنیما گھروں کے احیا اور نئے سنیما ہال تعمیر کرنے کے لیے 500 کروڑ روپے کی رقم مختص کی ہے۔