آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سرمد کھوسٹ کا انٹرویو: ’تالاب والے سین کے لیے زندگی بھر صبا قمر کا مشکور رہوں گا‘
- مصنف, علی کاظمی
- عہدہ, بی بی سی، لاہور
’ہمیں ایسی کوئی توقع نہیں تھی کہ کملی فلم کوئی کھڑکی توڑ بزنس کرے گی لیکن یہ امید ضرور تھی کہ اچھا بزنس ہو گا اور اب تک ایسا ہی ہوا ہے۔‘
کسی بھی فلم بنانے والے کے لیے سب سے اہم لمحہ وہ ہوتا ہے جب اس کی محنت بڑے پردے پر نمودار ہوتی ہے۔ سرمد سلطان کھوسٹ کے لیے یہ تجربہ نیا نہیں۔ لیکن اب بھی فلم کی ریلیز ان کے لیے ایک اعصاب شکن مرحلہ ہے۔
سرمد سلطان کی فلم کملی حال ہی میں ریلیز ہوئی جس کے بعد بی بی سی نے ان سے اس فلم کے مرکزی خیال اور کہانی سمیت کرداروں کو نبھانے والے اداکاروں اور فلم بنانے میں مشکلات پر بات چیت کی۔
سرمد سے بات شروع ہوئی تو سب سے پہلے یہ معلوم ہوا کہ فلم بنانے سے زیادہ مشکل کام فلم کی پروموشن ہوا کرتی ہے۔
ایک جانب جہاں سرمد سلطان اب تک شائقین اور ناقدین کی جانب سے تبصروں پر خوش نظر آئے وہیں انھوں نے برملا اس بات کا اظہار کیا کہ فلم کے ریلیز سے پہلے کا وقت کتنا مشکل تھا، خاص کر فلم کی پروموشن۔
سرمد سلطان کہتے ہیں کہ ’فلم میں سال میں دو بنا سکتا ہوں لیکن جتنی پروموشن کرنی پڑتی ہے وہ بہت مشکل ہے، اور وہ میں صرف پانچ سال میں ایک بار ہی کر سکتا ہوں۔‘
کملی سے پہلے سرمد سلطان منٹو اور زندگی تماشہ جیسی فلمیں بنا چکے ہیں۔ کملی کہانی ہے حنا کی، جو ایک بے نام وادی کے ایک گھر میں اپنی اندھی نند سکینہ کے ساتھ بظاہر ایک عام سی زندگی گزار رہی ہے۔ آٹھ سال پہلے اس کا شوہر روزگار کی تلاش میں ملک سے باہر گیا اور پھر کبھی مڑ کر واپس نہیں آیا اور نہ ہی اس نے اپنی بہن یا بیوی سے کوئی رابطہ کیا۔
ان حالات میں حنا کی ملاقات اس وادی میں آئے ایک مسافر املتاس سے ہوتی ہے اور ان دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہو جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرمد نے بتایا کہ فلم کا خیال ان کو ایک شارٹ فلم سے ملا۔
’2018 کے وسط میں فلم لکھنی شروع کی۔ پہلے سکیچ بنایا۔ میں نے مہر بانو کی شارٹ فلم دیکھی اور اس سے مجھے کملی کا خیال آیا۔ پہلے میں نے مہر بانو سے بات کی لیکن پھر مجھے فاطمہ ستار کا خیال آیا۔ اور پھر اس نے ہی فلم لکھی۔‘
فلم کی کہانی مکمل ہوئی تو شوٹنگ کا مرحلہ آیا لیکن اس سے قبل فلم کی لوکیشن کا انتخاب کرنا تھا جو آسان نہیں تھا کیوں کہ فلم کی کہانی کے لیے ایک مخصوص جگہ درکار تھی۔
سرمد بتاتے ہیں کہ انھوں نے کلر کہار کی پہاڑیوں میں لوکیشن تلاش کی۔
یہ بھی پڑھیے
’سب سے پہلے ہم نے لوکیشن کاسٹ کی۔ جب ہم پہلی ریکی پر گئے تو ہم نے یہ بھی سوچا کہ کچھ شاید جلو یا چھانگا مانگا میں کر لیں گے۔ لیکن جب ہم اس مقام پر پہنچے تو ہم نے سوچا کہ یہی جگہ ہے۔‘
لیکن یہ جگہ آبادی سے کچھ دور تھی۔
سرمد کہتے ہیں کہ ’وہاں پر ہوٹل نہیں تھے۔ بہت مشکل کام تھا۔ لیکن ٹیم نے ان تمام مشکلات کے باوجود بہت اچھے طریقے سے کام کیا۔‘
اس فلم کے لیے لوکیشن پر گھر بھی تیار کیا گیا۔
’اس گھر کو مکمل طور پر بنایا گیا اور اسی پر سب سے زیادہ خرچہ ہوا۔‘
فلم کی شوٹنگ 2019 کے آخر میں شروع ہوئی لیکن تک تب سرد موسم کا آغاز ہو چکا تھا۔ اور ایسے میں ایک سین شوٹ ہونا تھا جس میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ صبا قمر کو ایک تالاب میں اترنا تھا۔
سرمد نے بتایا کہ ’وہ مشکل شاٹ تھا۔ وہ گھر ایک جنگل میں بنا ہوا تھا۔ تالاب کا شاٹ جس دن لینا تھا اسی دن گیزر خراب ہو گیا۔ میں نے صبا کو کہا کہ آپ نے فکر نہیں کرنی۔ دیگوں سے ہم نے تالاب میں گرم پانی ڈالا جس سے سالن کی مہک آ رہی تھی۔ پہلے میں خود پانی میں لیٹا لیکن صرف گیارہ فریم گزرے اور میں باہر آ گیا۔ صبا نے مجھے کہا کوئی بات نہیں۔ ہم کر لیتے ہیں۔‘
اس سین کو یاد کرتے ہوئے سرمد سلطان کہتے ہیں کہ ’اس ایک شاٹ کے لیے میں زندگی بھر کے لیے صبا قمر کا مشکور رہوں گا۔‘
صبا قمر نے حنا کے کردار کو بہت خوبی سے نبھایا ہے لیکن کیا وہ سرمد کی پہلی چوائس تھیں؟
’مجھے اس بات کا تو یقین تھا کہ ہمیں ایک بینکیبل سٹار چاہیے۔ اور ہمارے پاس بہت زیادہ آپشن نہیں تھے۔‘
سرمد کہتے ہیں کہ ’میں نے صبا جیسا جنونی ایکٹر نہیں دیکھا۔ وہ کردار کو فخر سے نبھاتی ہیں اور اپنا سو فیصد دیتی ہیں، کبھی اپنے پروفیشنلزم پر بھی کمپرومائز نہیں کرتیں۔ آپ صبا کو سکرین پر دیکھیں تو آپ کی نظر کہیں اور نہیں جائے گی۔‘
لیکن ایک جانب جہاں اس فلم کے کرداروں میں صبا قمر اور ثانیہ سعید جیسے منجھے ہوئے اداکار نظر آتے ہیں وہیں املتاس کا کردار نبھانے والے حمزہ خواجہ کی یہ پہلی مکمل دورانیے کی فلم ہے۔
میں نے سرمد سے جب اس بارے میں سوال کیا تو ان کا جواب تھا کہ ’املتاس کے کردار کے لیے مجھے اتنی فکر نہیں تھی کیوں کہ اس کردار کا بہت زیادہ کام نہیں تھا۔ تو میرا خیال تھا کہ شاید کوئی بھی بڑا سٹار مل جائے گا لیکن جب میں نے سوچا کہ باقی سب چہرے جانے پہچانے ہیں، تو میں چاہتا تھا کہ کوئی نیا لڑکا ہو۔‘
لیکن اس کے ساتھ ہی چند اور وجوہات بھی تھیں۔
سرمد کہتے ہیں کہ ’ہیرو کی انٹری میرے ذہن میں پہلے سے تھی کہ وہ پانی میں سے برآمد ہو گا۔ اس کردار نے قمیض بھی اتارنی تھی، تیرنا بھی تھا، دوڑنا بھی تھا تو پھر اس میں جسمانی عنصر بھی شامل تھا۔ اور جب ہم نے ارد گرد دیکھا تو بہت زیادہ آپشن نظر نہیں آئے۔‘
ایسے میں سرمد نے ایک اداکار کو چنا لیکن سرمد کے مطابق ’بات نہیں بنی اور حمزہ نے تقریباً سات ہفتے پہلے فلم کو جائن کیا۔‘
حمزہ نے اس فلم میں کردار کتنا اچھا نبھایا، اس کا فیصلہ تو فلم دیکھنے والے کریں گے لیکن ایک سوال فلم کے اختتام پر بھی اٹھ رہا ہے۔
سرمد کہتے ہیں کہ ’ہم نے کہانی کا اختتام ایک ایسی جگہ پر کیا ہے جہاں پر لوگ خود سے سوچ سکتے ہیں کہ انجام کیا ہوا ہو گا۔‘
فلم مکمل ہوئی تو ڈسٹریبیوشن کا مرحلہ درپیش تھا۔ اس میں بھی مشکلات کا سامنا ہوا جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ کملی میں انٹرمیشن نہیں تھا اور یہ بات سنیما گھروں کو قبول نہیں تھی۔
سرمد کہتے ہیں کہ ’فلم جب لکھی گئی تو اس میں وقفہ نہیں تھا۔ وہ ایک کہانی کی طرح تھی اور جو انٹرمشن ہے وہ زبردستی کا ہے جس سے کم از کم میں تو خوش نہیں ہوں لیکن سنیما والوں نے کہا کہ ہمارا زیادہ منافع تو فلم کے وقفے میں بکنے والی کھانے پینے کی چیزوں سے ہوتا ہے۔‘
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں فلم کا مستقبل کیا ہے؟ اور تمام تر مشکلات کے باجود سرمد سلطان فلم ہی کیوں بنا رہے ہیں؟
سرمد کہتے ہیں کہ ’میں نے فلمیں بنانے کا خواب ٹی وی سے پہلے دیکھا تھا۔ یہ درست بات ہے کہ اس میں محنت زیادہ ہے۔ لیکن میرے اندر کچھ کہانیاں تھیں جو میں سنانا چاہتا تھا۔‘
سرمد فلم انڈسٹری میں نئے لوگوں سے بھی کافی پرامید ہیں، خاص طور پر لکھاریوں سے جب کہ پرانے لوگوں سے ان کا ایک شکوہ ہے۔
’نئے لوگوں میں کہانی لکھنے والے ہیں۔ ان میں کم از کم کوشش کرنے کی صلاحیت ہے۔ جو کچھ پرانے لوگ ہیں انھوں نے شاید تجربہ کرنے سے ہاتھ اٹھا لیا ہے۔ اگر فلم کا کوئی مستقبل ہے تو وہ نئے لوگوں کے ساتھ ہے جن کے پاس نئے خیالات ہیں اور آّج کی کہانیاں ہیں۔‘
اب سرمد کا مستقبل کا کیا ارادہ ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ ’کملی تین چار سال کا کام تھا جو اب نظر آ رہا ہے۔ اب مجھے کچھ وقفہ چاہیے۔ جوائے لینڈ کے بعد مجھے حوصلہ ہو گیا کہ ہر فلم ڈائریکٹ ہی نہیں کرنی۔ اب ایک اداکار کے طور پر بھی مجھے لگتا ہے شاید مجھے کسی فلم میں کام کرنا چاہیے۔‘