ثانیہ سعید: ’مجھے ژغنا کا کردار نبھانے میں کافی فخر محسوس ہوا کیونکہ وہ ایسی خاتون ہیں جن کو اپنی طاقت کا اندازہ ہے‘

‘میں نے شروع میں گھوڑے پر بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا۔ میں نے کہا کہ میں ایسے گھوڑے پر نہیں بیٹھتی جس کا کوئی نام نہ ہو۔ پھر میں نے اپنے گھوڑے کا نام ’زلفی صاحب‘ رکھا، وہ خود پہت پیارے ہیں زلفی صاحب، ان سے کافی دوستی رہی، مجھے تو کافی مزہ آیا۔‘

یہ کہنا ہے اداکارہ ثانیہ سعید کا جو آج کل ہم ٹی وی کے ڈرامہ سیریل ’سنگِ ماہ‘ میں ’ژرغنا‘ کے غیر روایتی کردار میں نظر آ رہی ہیں۔

’سنگِ ماہ‘ کی کہانی بھی اس ڈرامے کے پہلے سیزن ’سنگ مرمر‘ کی طرح پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کی فرسودہ روایات اور رسم و رواج کے گرد گھومتی ہے اور اس ڈرامے میں قبائلی روایت ’غگ‘ یا ’ژغ‘ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اس ڈرامے میں ژرغنا کے کردار نے ایک شال اوڑھی ہوتی ہے جس کی ثقافتی اہمیت پر کافی لوگوں نے سوشل میڈیا پر کافی بات کی۔ مگر کیا اس شال کو اوڑھنا ثانیہ سعید کا اپنا فیصلہ تھا؟

ثانیہ سعید کہتی ہیں کہ ‘وہ شال تو لکھی ہوئی ہے اور اس کی اہمیت ہے جو میں آپ کو ابھی نہیں بتا سکتی، اس کی اہمیت آپ کو اگلی چند قسطوں میں پتہ چلے گی۔‘

اپنا کردار ایک قدرے غیر روایتی خاتون ہونے کے بارے میں ثانیہ سعید کہتی ہیں کہ ‘میں نے سیفی (ہدایتکار) سے بہت بار پوچھا تھا کہ کیا میں گھڑ سواری سیکھ لوں، مجھے کتنا گھوڑا ڈورانا ہے، لیکن اس نے کہا کہ اب (میرا کردار) قدرے زیادہ عمر کا ہے، جوانی میں ڈوراتی ہو گی گھوڑا، لیکن اب اس کو ضرورت نہیں ہے، تو وہ ہمیں نہیں کرنا تو سیکھنا چاہو تو سیکھ لو، لیکن اس کی ہمیں ضرورت نہیں ہے۔‘

اپنے کردار ژرغنا کے بارے میں ثانیہ کا مزید کہنا ہے کہ ‘یقیناً وہ ایک غیر روایتی خاتون ہیں، لیکن جب ہم وہاں شوٹ کر رہے تھے تو مجھے ایک دو لوگوں نے بتایا کہ یہاں قریب کے دیہات میں ایسی خواتین ہیں جو خود اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں، گھڑ سواری کرتی ہیں، بندوق بھی چلاتی ہیں۔ اصل میں وہ غیر روایتی ہیں مگر ہم کتنی طرح کے غیر روایتی کردار ٹی وی پر دیکھتے ہیں، وہ ذرا سا بھی مختلف ہوتا ہے تو غیر روایتی لگنے لگتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’حالانکہ آپ کو قبائلی علاقوں میں ایسی خواتین ملتی ہیں، لیکن ہم نے ان کی ایک طرح دیکھنے کی عادت ڈال لی ہے کہ بس ایک خاص طرح سے چادر اوڑھتی ہوں گی اور کچھ نہیں بولتی ہوں گی۔۔۔۔ مجھے ژغنا کا کردار نبھانے میں کافی فخر محسوس ہوا، کیونکہ وہ ایک ایسی خاتون ہیں جن کو اپنی طاقت کا اندازہ ہے۔‘

مگر ثانیہ سعید کیا صرف ایسی خواتین کے کردار نبھانا چاہتی ہیں جو عام رائے میں غیر روایتی ہوں۔ مثلاً ڈرامہ سیرل ’رقیب‘ میں انھوں نے ہاجرہ کا کردار نبھایا جس کے فیصلوں کو بھی لوگوں نے قدرے حیرانی سے دیکھا۔

اس کے بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ‘زندگی کی طرح، ثقافتی طور پر بھی جس چیز کے بارے میں ہم جانتے نہیں ہیں، ہمیں وہ ٹھیک نہیں لگتی، تو لوگوں کو عجیب لگا کہ کیوں انھوں نے ایسا برتاؤ رکھا اور کیوں ایسا ردعمل ظاہر کیا، مگر یہی تو وہ خاتون تھی، یہ اس کی زندگی کا ایک چناؤ تھا۔‘

ہاجرہ کے کردار کے بارے میں ثانیہ کہتی ہیں کہ ‘اس کی ایک تاریخ تھی، بعد میں آپ کو پتا چل ہی گیا کہ کیوں، جب واقعات نے اس کی شخصیت کو تشکیل دیا تھا اور جو وہ آج ہے، اس میں اس کے لیے بالکل یہ عجیب نہیں تھا، کیونکہ وہ تو یہ سمجھتی ہی نہیں تھی کہ وہ محبت کی حقدار ہے۔ اس کو تو لگ رہا تھا کہ وہ کس طرح اس سکیورٹی کو، اس احسان کو اتار سکے، کیونکہ اس کے تجربات ایسے تھے جس میں وہ صرف احسان سمجھتی تھی، محبت سمجھتی ہی نہیں تھی۔ اس کو بعد میں پتا چلتا ہے کہ نہیں محبت تو ہے، میں اس کی حقدار ہوں، مجھ سے محبت کی جا سکتی ہے، کوئی مجھ سے محبت کرتا ہے۔‘

ثانیہ کہتی ہیں کہ ‘اب ژرغنا اور اس (ہاجرہ) میں کوئی موازنہ میں اس لیے نہیں بتا سکتی کیونکہ ابھی آپ کو یہ دیکھنا ہو گا، مگر (ہاجرہ) کا اپنا ایک مزہ تھا، اس کا انداز ہی مختلف تھا، وہ ایک مختلف بیک گراؤنڈ سے آئی تھی، اس کا سفر بھی مختلف ہے، مگر ہاجرہ اور ژغنا کو ایک جملے میں بھی اکھٹے نہ سوچیں۔‘

مگر ثانیہ کے ایک اور کردار مہک (جو کہ انھوں نے ہاجرہ سے پہلے ادا کیا تھا) کے بارے میں لوگوں نے کہا کہ وہ ایک قدرے روایتی خاتون تھیں۔ شاید لوگوں کو یہ لگ رہا تھا کہ یہ کردار کو ثانیہ سعید کے انداز کا نہیں ہے۔

اس بارے ثانیہ کہتی ہیں کہ ‘بہت سے لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اِن کی عمریں دیکھو، ہم بڑی عمر کے جوڑوں کو محبت کرتے، محبت سے بات کرتے دیکھنے کی عادت ہی نہیں ہیں، کیونکہ ہم اپنے والدین کو لڑتے جھگڑتے جو دیکھتے ہیں، کبھی پیار کرتے نہیں دیکھتے۔‘

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتی ہیں کہ ‘یہ انتہائی افسوسناک ہے، میں اور مظہر اکثر یہ بات کرتے ہیں کہ جن کا سب سے جائز رومانوی رشتہ ہے، جن کی شادی کو 25 سال ہو گئے ہیں، جنھوں نے دو بچے پیدا کیے ہیں، پالے ہیں، ایک زندگی ساتھ گزاری ہے، سب سے جائز رومانوی رشتہ تو ان کا ہے، مگر لوگوں کو ان کا رومانوی رشتہ قبول نہیں ہے اور انھیں ان غیر شادی شدہ نوجوانوں کا رشتہ قبول ہے جو اپنے ثقافتی عقیدے کے مطابق یہ دیکھنے کو تیار ہیں مگر وہ یہ دیکھنے کو تیار نہیں ہے کہ بڑی عمر کے لوگ ایک دوسرے سے محبت کریں، تو مجھے اس میں یہ بات اچھی لگی تھی کہ ان کا رشتہ بہت اچھا ہے۔‘

‘دوسرا یہ خاتون روایتی ہونے کے باوجود اپنی بیٹی کی طاقت بنتی ہے، اور اس کو کہتی ہے کہ کوئی بات نہیں، ہو گئی طلاق تو، یہ آپ کو کہاں ملتا ہے، کون سی ماں آپ کو یہ کہتی ہے اور پھر وہ ہمیشہ اس کا ساتھ دیتی ہے، اپنا کاروبار کرتی ہے، اپنا کام کرتی ہے۔‘

’اپنی بیٹی کو کہتی ہے کہ نہیں چاہییں مجھے تمھارے پیسے، یہ آپ کو کہاں سننے کو ملتا ہے، تو غیر روایتی کوئی بہت زیادہ ڈرامائی انداز میں مختلف ہونا ضروری نہیں ہے، زندگی میں جو چھوٹے چھوٹے فیصلہ آپ کرتے ہیں وہ بھی غیر روایتی ہو سکتے ہیں۔ اور یہ بہت ضروری ہے کہ ہم ایسی خواتین دیکھیں جن کے فیصلے بہت بڑے نہیں ہوتے مگر ان کے فیصلوں کے اثرات بہت بڑے ہوتے ہیں۔‘

کیا آج کل کے ڈراموں کی کہانیوں اور کرداروں میں بڑی عمر کی خواتین کے لیے جگہ ہے؟

اس کے بارے میں ثانیہ سعید کہتی ہیں کہ ‘یہ کوئی گذشتہ 15 سال میں دیکھا گیا ہے کہ کہانیاں بہت نوجوان لوگوں کے بارے میں بن گئی ہیں، اگر پرانا ڈرامہ دیکھا جائے تو مرکزی کردار بڑی عمر ہی کے لوگ ہوتے تھے، یا درمیانی عمر کے لوگ، کیونکہ زندگی تو انھوں نے ہی دیکھی ہے ابھی، چیزیں یا تبدیلیاں انھوں نے دیکھی ہیں، برتی ہیں، کہانی اُن کی بنتی ہے۔‘

’جب آپ بہت ہی نوجوان لوگوں کی کہانی لکھتے ہیں تو ان کی زندگی کے احاطے میں جو آتا ہے، پھر آپ کو بہت ہی زیادہ بڑے واقعات لکھنے پڑتے ہیں، پھر آپ کو اضافی ڈرامہ بھی لکھنا پڑتا ہے، مجھے تو ملتے ہیں بہت دلچسپ کردار اور مزہ بھی آتا ہے، مجھے لگتا ہے سکوپ تو ہے۔‘

مگر قدرے بڑی عمر کی خواتین اداکارؤں میں جو ایک رجحان دیکھا گیا ہے وہ ہے کہ ماں بننے کے بعد یا تو وہ خود کام نہیں کرنا چاہتیں، یا انھیں کام دیا نہیں جاتا۔

اس کے بارے میں ثانیہ کی رائے ہے کہ ‘ماں بننے سے بہت ساری چیزیں بدل جاتی ہیں، آپ کی ترجیحات بدل جاتی ہیں، مگر میرے خیال میں بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔‘

اپنے حاندان کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ‘میری تیسری نسل ہے جس میں خواتین کام کر رہی ہیں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے، میری ماں کو یقیناً کافی پریشانی ہوئی ہو گی مگر انھوں نے کبھی اپنا کام نہیں چھوڑا، تو جو کام کرنا چاہتے ہیں وہ کیا بچے نہ پیدا کریں۔‘

’چلیں اداکار کو تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ تھوڑے دن کے لیے کام کرنا چھوڑ دو، مگر ڈاکٹر کو کیا کہیں گے، استاد کو کیا کہیں گے، پروفیسر کو کیا کہیں گے، کیا یہ بہانہ پھر آپ اپنی کسان حواتین کے لیے بھی استعمال کریں گے یا مزدور خواتین کے لیے بھی استعمال کریں گے۔۔۔ کیا آپ اپنی نصف آبادی اپنے معاشی نظام سے باہر نکال دیں گے، کیا اپ ان کے ٹیلنٹ کو استعمال نہیں کریں گے۔‘