آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پسوڑی انڈیا میں ہٹ: کوک سٹوڈیو کی موسیقی جو سرحدوں کے آر پار دلوں کو چھو رہی ہے
- مصنف, زویا متین
- عہدہ, بی بی سی نیوز دہلی
’اس گانے نے زبان، مذہب، قومیت کی باڑیں توڑ کر دلوں کو چھو لیا ہے، انڈیا سے پیار قبول کریں۔‘
برصغیر ہند و پاک میں انٹرنیٹ کی دنیا کے سب سے خوشگوار حصے میں خوش آمدید، یہ ہے یوٹیوب پر کوک سٹوڈیو کا کمنٹ سیکشن۔
کوک سٹوڈیو پاکستان اب تک کا سب سے طویل عرصے تک چلنے والا موسیقی کا شو ہے جسے کوکا کولا نے بنایا ہے۔ اس میں ملک کے مشہور گلوکاروں کی جانب سے سٹوڈیو میں ریکارڈ کی گئی پرفارمنسز شامل ہوتی ہیں۔
اس موسیقی میں پاپ، روح کو چھو جانے والی قوالی سے لے کر ریپ گلوکاری ہوتی ہے جن میں بہت زیادہ لوک اور کلاسیکل موسیقی کا رنگ نمایاں ہوتا ہے۔
اس سیریز کو پاکستان میں آغاز سے ہی بہت زیادہ کامیابی حاصل ہوئی لیکن اس کے تخلیق کاروں کو جس چیز نے حیران کیا وہ انڈیا میں اس بڑھتی ہوئی مقبولیت تھی۔ دونوں ممالک میں ایک طویل دشمنی ہے جس کی وجہ سے دونوں مشترکہ تاریخ ہونے کے باوجود ثقافتی تبادلے کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرتے رہتے ہیں۔
انڈیا کے مشہور موسیقار شاتانو موئترا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ’اگرچہ کوک سٹوڈیو پاکستان نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ انھیں انڈیا سے اس قدر محبت ملے گی۔ اور یہ خود کوک سٹوڈیو انڈیا سے زیادہ یہاں کامیاب رہا۔ یہ لاجواب ہے۔‘
دونوں ملکوں میں کشیدہ تعلقات کے باوجود انڈین اور پاکستانیوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کے فن اور ثقافت کے لیے ہمیشہ گہری قربت ظاہر کی۔
لاکھوں انڈین آج بھی پاکستان کے گلوکاروں غلام علی، عابدہ پروین کے گانے گنگناتے ہیں۔ پاکستان کی نسلیں انڈین فلمیں دیکھتے بڑی ہوئی ہیں اور بالی وڈ کی فلموں نے یہاں باکس آفس ریکارڈ قائم کیے۔ پاکستان کے ٹیلی وژن ڈرامہ بھی انڈیا میں بہت زیادہ مشہور ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کچھ سال پہلے تک دونوں ممالک کے فنکار فلموں اور موسیقی کے منصوبوں میں مل کر کام کرتے رہے۔ لیکن سیاسی مخالفت ثقافتی میدان میں بھی عود آئی۔ بالی وڈ نے پاکستانی اداکاروں کو منصوبوں سے نکالنا شروع کر دیا اور پاکستان نے انڈین فلموں پر پابندی لگا دی۔
لیکن کوک سٹوڈیو کے لیے محبت قائم رہی۔
اس شو کو پاکستانی موسیقار روحیل حیات نے لانچ کیا جنھوں نے اس کے 14 میں سے نو سیزن پروڈیوس کیے۔
روحیل حیات کا کہنا ہے کہ 1980 کی دہائی میں اپنی نوجوانی میں وہ پنک فلائیڈ اور دی ڈورز کے گانوں پر بخوشی جیمنگ کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ برسوں تک وہ اس ’مغربی ببل‘ میں رہے، جہاں علاقائی موسیقی سننا غیر نفیس اور دقیانوسی سمجھا جاتا تھا۔
لیکن ان کے خیالات اس وقت بدلنے لگے جب انھوں نے راحت فتح علی خان جیسے مشہور فنکاروں کے ساتھ بطور پروڈیوسر کام کرنا شروع کیا۔
’میں نے محسوس کیا کہ ہماری موسیقی میں بہت گہرائی ہے۔ یہ میرے لیے بیداری کا لمحہ تھا۔‘
روحیل حیات نے اس کے بعد ایک حیران کن موسیقی کا سفر شروع کیا، جس میں فیوژن اور چنندہ موسیقی کا تجربہ کیا۔ انھوں نے پاکستان کی روایتی آوازوں کو پیش کرنے کے نئے طریقے بنائے۔
روحیل بتاتے ہیں کہ ’خیال یہ تھا کہ ہم اپنی روایتی موسیقی کو دنیا کے ساتھ شیئر کریں، لیکن ایک خوشگوار آواز کے ساتھ۔‘
سنہ 2005 میں کوکا کولا نے برازیل میں ایک تشہیری منصوبے کا خیال اپناتے ہوئے اس شو کا آغاز کیا۔
اس کے راستے میں چیلنج بھی تھے۔ روحیل حیات کا کہنا ہے کہ انھیں کافی شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا اور 2008 میں ریلیز ہونے والے پہلے سیزن میں انھیں تجرباتی طور پر صرف تین سے چار گانے کرنے کی اجازت دی گئی۔ ان کا کہنا تھا ’لیکن وہ گانے سب سے زیادہ مقبول ہوئے۔
ایک دہائی سے زیادہ کے عرصے کے بعد کوک سٹوڈیو پاکستان دوسرے ممالک میں لاکھوں مداحوں میں پہلے سے زیادہ مقبول ہو رہا ہے۔ انڈیا اور بنگلہ دیش دونوں کے اپنے ورژن ہیں لیکن اوریجنل اب بھی مقبول ترین ہیں۔
ایک انڈین مداح کا کہنا ہے کہ ’ہر گانے میں تاریخ اور روح ہے، لیکن اس میں ایک شوخی اور ادا بھی ہے کہ آپ کا دل کرتا ہے کہ اٹھیں اور ناچیں۔‘
اس شو کے چار سیزن پروڈیوس کرنے والے فیصل کپاڈیا جو سٹرنگز بینڈ کے لیڈ گلوکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی کوک سٹوڈیو میں پاکستان کی سبھی اقسام کی موسیقی شامل ہے جس میں پاپ سے لے کر قوالی بھی ہے۔ ان سب کو ایک پلیٹ فارم پر لایا گیا ہے۔
فیصل کپاڈیا کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’جب بھی ایک نیا پروڈیوسر اس کی کمانڈ لیتا ہے وہ اس کی موسیقی میں اپنا انداز شامل کرتا ہے۔ آپ کو ہر سیزن میں مختلف ذائقہ ملتا ہے۔‘
ایک طرف روحیل حیات نے اپنی موسیقی میں تخلیاتی احساس کو شامل کر کے اسے ’اس زون تک لے کر گئے‘ وہیں کپاڈیا نے بہت زیادہ روایتی شاعری اور صوفی بزرگ امیر خسرو کا کلام شامل کیا، اس کے ساتھ انھوں نے وہ پاپ موسیقی کے جزیات استعمال کیے جو ان کی موسیقی کا خاصا تھے اور جو کلاسیکی موسیقی سن کر وہ بڑے ہوئے۔
فیصل کپاڈیا کا کہنا تھا کہ ’یہ جیمز بانڈ فلموں کی طرح ہے، ہر بار اداکار بدل جاتا ہے لیکن فلم کا احساس وہی رہتا ہے۔‘
روحیل حیات کا مقصد تھا کہ وہ موسیقی کو نئے اندیاز میں پیش کریں کسی سادہ چیز میں بدلے بغیر۔
ان کا کہنا تھا ’یہ ایک تجربہ تھا کہ ہم اصل کے قریب تر رہتے ہوئے اسے مغرب کے لیے کس طرح مانوس بنا سکتے ہیں۔‘
پاکستانی گلوکارہ زیب بنگش کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک وجہ ہے کہ یہ شو انڈیا میں مشہور ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’انڈین فیوژن موسیقی سے نا آشنا نہیں ہیں۔ آپ انڈین موسیقار آر ڈی برمن کے بنائے گانے دیکھیں تو وہ مسلسل جیز اور اوفرو فنک بیٹس، ٹیونسز اور انٹرلوڈز کو روایتی دھنوں سے ملاتے رہے۔‘
لیکن کوک سٹوڈیو نے مقامی، لوک موسیقی کی روایتوں کو ایسے اپنایا اور پیش کیا جیسے پہلے کبھی نہیں کیا گیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ سرحد پار بھی لوگوں کے ذہن پر چھا گئی۔‘
موئترا کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈیا میں جہاں فلموں کی موسیقی خاص طور پر بالی وڈ چھایا ہوا ہے یہ ایک خوشگوار تبدیلی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا ’بالی وڈ ایک بلوٹنگ ٹیبل کی طرح ہے۔ یہ موسیقی کے مختلف انداز اور شاعری، ہر اچھی چیز کو اپنا بنا لیتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
سب سے بڑھ کر شو کی کامیابی منفی سیاسی حالات میں بھی موسیقی کی ثقافت کے پروان چڑھنے کی صلاحیت کی ایک دلکش یاد دہانی ہے۔ جیسے ایک دوست نے ازراہِ مذاق کہا، یہ رومی کی ضرب المثل کی طرح ہے جو ’غلط اور صحیح کام‘ کے تصورات سے بالاتر ہے۔
موئترا کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثقافتی تعلقات کی بحالی کی امید بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'یہاں تاریک ادوار ہیں، لیکن کچھ بہتر ادوار بھی ہیں اور مجھے لگتا ہے کہ ایک بار یہ گزر گئے تو فنکار ایک بار پھر ایک ساتھ کام کریں گے۔‘
سرحد پار سے ان کے ہم منصبوں نے بھی ایسے جذبات کا اظہار کیا ہے۔
زیب بنگش یاد کرتی ہیں کہ سنہ 2011 میں ان کا موئترا اور دوسری موسیقاروں کے ساتھ تجریہ ’خوبصورت اور لاجواب رہا۔ ان کا کہنا تھا ’وہ نہ صرف دوست بننے بلکہ ایک حقیقی تعلق بنانے کے خواہشمند تھے۔‘
کپاڈیا بھی انڈیا جا کر فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے بے چین ہیں۔
ان کے بقول ’ہمیں انڈین شائقین سے ملنے والا پیار حیران کن ہے۔ ہم بہت خوش قسمت ہیں۔‘