آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ریونج پورن: کیا قانون دانیہ شاہ کو عامرلیاقت حسین کی ذاتی ویڈیوز جاری کرنے سے روک سکتا ہے؟
- مصنف, ترہب اصغر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ڈاکٹر عامر لیاقت کی نازیبا ویڈیوز لیک کی گئیں۔ اس سے پہلے ان کی تیسری بیوی دانیہ عامر کی بھی کچھ تصاویر اور آڈیو کلپ جاری کیے گئے تھے۔ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے پر الزامات عائد کرتے بھی دکھائی دیے۔
چند ماہ پہلے ڈاکٹر عامر لیاقت کی تیسری شادی سامنے آئی تھی۔ جبکہ کچھ روز قبل ان کی تیسری بیوی دانیہ عامر کی جانب سے عدالت میں خُلع کے لیے درخواست دائر گی گئی جس میں دانیہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت نشے کی حالت میں ان پر تشدد کرتے تھے۔
اس کے علاوہ بھی ان کی بیوی کی جانب سے ویڈیوز کے ذریعے مختلف قسم کے الزامات عائد کیے گئے جس کے بعد ڈاکٹر عامر لیاقت کی جانب سے اپنی بیوی پر بے وفائی کا الزام عائد کیا گیا۔
تاہم یہ سلسلہ یہاں رکا نہیں۔ دانیہ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عامر لیاقت نے بیان جاری کیا کہ میرے نشہ کرنے کے الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جس کے بعد ان کی نازیبا ویڈیوز منظر عام پر آئیں۔
ان ویڈیوز کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ان معاملے پر مختلف قسم کا رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔
کئی خواتین نے مختلف گروپس میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ ان دونوں نے کمرے میں اپنی پرائیوٹ زندگی کی ویڈیوز بنائیں اور پھر ایک دوسرے سے بدلہ لینے کے لیے سوشل میڈیا پران ویڈیوز کو وائرل کیا۔‘
تاہم کچھ لوگوں کے تاثرات اس کے برعکس ہیں۔
عشر عظیم نے ٹویٹ کی کہ ’دانیہ کو حکومت کی طرف سے سپورٹ اور سیکیورٹی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم زیادہ تر لوگوں کا یہ سوال بھی ہے کہ کیا کوئی قانونی طریقہ موجود ہے جس کے تحت ان دونوں کو ریوینج پورن سے روکا جا سکے؟
کامی نے ٹویٹ کی کہ ’کیا قانون دانیہ شاہ کو عامرلیاقت حسین کی ذاتی ویڈیوز جاری کرنے سے روک سکتا ہے؟ کیونکہ باقی کیس کا فیصلہ عدالت میں ہونا چاہیے لیکن یہ فعل قابل مذمت، غیر اخلاقی اور غیر اخلاقی ہے۔‘
شیخ صاحب نامی صارف لکھتی ہیں کہ ’ریوینج پورن ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے۔‘
پاکستان میں ریوینج پورن کے کیس کی تعداد خاصی زیادہ ہے۔ اس بارے میں متعدد مرتبہ ایسے کیس سامنے آئے ہیں کہ کئی سال پہلے بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر کو 'ریوینج پورن' کے طور پر استعمال کیا گیا جس کا متاثرین کی زندگیوں پر بہت بُرا اثر پڑتا ہے۔
تاہم ڈاکٹر عامر لیاقت کے کیس میں میاں بیوی کے درمیان گزرے وقت کی نازیبا ویڈیوز ریلیز کی جا رہی ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا ماہرین کے مطابق ریوینج پورن کا شکار خواتین ہی نہیں بلکہ مردوں کو بھی اس کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جبکہ یہ عمل مرد اور عورت دونوں کے لیے ہی نقصان دہ ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کے مطابق، ان کی ہیلپ لائن کو گذشتہ سال چار ہزار سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 1,600 کے قریب ذاتی نوعیت کی تصاویر کے بغیر اجازت استعمال سے متعلق تھیں۔
اس پہلو پر کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق ایسے کیسوں کی حقیقی تعداد کا پتہ لگانا بہت مشکل ہے، کیونکہ زیادہ تر کیسز میں خواتین شرمندگی اور بدنامی کے خوف سے شکایت کے لیے آگے نہیں آتیں۔
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائم ونگ کی تفتیشی افسر عظمیٰ خان کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں ان کے پاس اس نوعیت کی شکایت لے کر آنے والی خواتین کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان میں سائبر کرائم ونگ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریوینج پورن سے متعلق شکایات کا جائزہ لے۔
عظمیٰ خان کے مطابق ملک میں زیادہ تر معاملات میں، یہ شکایات سابق بوائے فرینڈز، منگیتر، ناراض دفتری ساتھیوں اور بہت سےمعاملات میں شوہر کے خلاف سامنے آتی ہیں۔ پاکستان میں 'ریوینج پورن' کے زیادہ تر معاملات میں خواتین کو ان کی ذاتی نوعیت کی تصاویر یا ویڈیوز ان کے گھر والوں کو بھیج کر یا سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
سنہ 2016 میں پاکستان میں سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے 'ریوینج پورن' جیسے جرائم میں سات سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا کا قانون بنایا کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود اب بھی زیادہ تر خواتین سائبر ونگ سے مدد لے کر قصورواروں کو سزا دینے کے لیےقانونی راستہ اختیار نہیں کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ایف آئی اے کے سائبر ونگ کی افسر عظمیٰ خان کا کہنا ہے کہ 'ان خواتین کو لگتا ہے کہ پہلے ہی بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہے اور یہ کہ اب اس معاملے کو یہیں روک دینا چاہیے۔ بس مزید نہیں، وہ چاہتی ہیں کہ اس معاملے کی معلومات زیادہ لوگوں تک نہ پہنچیں۔ وہ اپنے گھر والوں سے بھی اسے خفیہ رکھنا چاہتی ہیں۔'
عظمیٰ خان نے خواتین کے ایسے معاملات سے پیچھے ہٹنے کی ایک اور وجہ بھی بتائی کہ 'ان کے پاس طویل قانونی جنگ لڑنے کے لیےنہ تو وسائل ہیں اور نہ ہی صلاحیت۔ بعض اوقات یہ ان کی منگنی یا شادی کے ٹوٹنے کا باعث بھی بنتا ہے۔ بہت سے معاملات میں خواتین میں خودکشی کے رجحانات بھی نظر آتے ہیں۔'
اس بارے میں ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نگہت داد کہتی ہیں کہ 'میرے خیال میں ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والی نوجوان لڑکیاں اور خواتین اس طرح کے جرائم کا شکار ہو سکتی ہیں۔ وہ صارف ہیں لیکن وہ آن لائن سکیورٹی اور تحفظ کے طریقوں سے آگاہ نہیں ہیں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتی کہ وہ کس کے ساتھ کون سا ڈیٹا شیئر کر رہی ہیں، اور یہ کہاں تک پہنچ سکتا ہے۔'
نگہت کے مطابق ریوینج پورن کا شکار ہونے والی زیادہ تر خواتین کو لگتا ہے کہ یہ اُن ہی کی غلطی تھی۔ انھوں نے کسی پر بھروسہ کرتے ہوئے ڈیٹا شیئر کیا جس کی وجہ سے یہ مشکل سامنے آئی۔ نگہت کے مطابق بعض اوقات ریوینج پورن کے معاملے میں غیرت کےنام پر قتل بھی ہوتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون کے نافذ ہونے کے پانچ سال بعد بھی صرف 27 افراد کو ریوینج پورن، رضامندی کے بغیر ذاتی نوعیت کی تصاویر کے استعمال اور تصویروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے بلیک میل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔