نمرت کور: انڈین اداکارہ کے لباس پر ٹرولنگ اور پھر دفاع، ’کسی کو حق نہیں کہ اس پر پابندی لگائے‘

    • مصنف, سشیلا سِنگھ
    • عہدہ, بی بی سی

’میں سوشل میڈیا پر تصاویر پوسٹ کرتی ہوں جس میں میرا کلیویج دکھائی دیتا ہے۔ سیاست پر بھی کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتی ہوں۔ کمنٹس میں مجھے لوگوں کی پریشانی صاف نظر آتی ہے کہ یہ لڑکی ایسا کیسے کر سکتی ہے۔‘

یہ الفاظ دلی میں رہنے والی کھیاتی شری کے ہیں۔ کھیاتی کا کہنا ہے کہ ’جو لوگ مجھے ٹرول کرتے ہیں (یعنی مذاق اڑاتے ہیں)، میں وہیں انھیں کس کر جواب دیتی ہوں۔ جب میں اپنے والدین کو جواب دیتی ہوں، تو ٹرول کرنے والوں کو جواب کیوں نہ دو۔ ان سب باتوں کا آپ پر جذباتی اور ذہنی اثر ہوتا ہے۔ لیکن جب قانون ہے تو میں شرمندہ کیوں ہوں یا ڈر کر کیوں رہوں۔‘

حال ہی میں اداکارہ نمرت کور بھی ٹرولز کا نشانہ بنیں۔ نمرت کور کو بڑے گلے کا لباس پہننے پر سوشل میڈیا پر کافی ٹرول کیا گیا مگر ان کے دفاع میں کئی خواتین نے رائے دی۔

اداکار ابھیشیک بچن اور نمرت کور کی فلم ’دسویں‘ حال ہی میں ریلیز ہوئی ہے جس کے پروموشن کے لیے نمرت 'دی کپل شرما شو' میں بطور مہمان آئی تھیں۔

ٹوئٹر پر ایک صارف دیوانگ نے لکھا ’میں واقعی یہ جاننا چاہتا ہوں کہ خواتین کے اس طرح کا لباس پہننے کا مقصد کیا ہے۔ اگر یہ مردوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے تو کیوں؟ اگر مردوں کو اپنی طرف متوجہ نہیں کرنا تب بھی کیوں؟‘

اس کے جواب میں پریشا نام کی ایک صارف نے لکھا ’کیا خواتین کا کسی کو متوجہ کیے بغیر اچھا نظر آنا مقصد نہیں ہو سکتا؟‘

تو وہیں نیانا ایٹ کوئن لکھتی ہیں ’اس میں کیا حرج ہے؟ میں نے مردوں کے لباس پر تبصرے ہوتے نہیں دیکھے۔ خواتین وہی پہنیں گی جو انھیں اچھا لگے۔‘

تاہم نمرت کور نے اس ٹرولنگ پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہر کوئی رائے دیتا ہے

سوشل میڈیا ایک ایسا ذریعہ ہے جہاں ہر کوئی اپنی رائے کا اظہار کرسکتا ہے۔ لیکن اپنی رائے دیتے وقت کیا کوئی حد ہونی چاہیے، اس کا فیصلہ کون اور کیسے کرے گا۔

پنجاب یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف وومن سٹڈیز میں پروفیسر ڈاکٹر عامر سلطانہ اس مسئلے پر کہتی ہیں کہ ’ہمارا آئین ہمیں پوری آزادی دیتا ہے کہ ہم ایک آزاد ملک میں مکمل آزادی اور مساوات کے ساتھ رہیں۔ اگر نمرت کو لباس پسند ہے تو کسی کو اس پر تبصرہ کرنے یا پابندی لگانے کا کوئی حق نہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ 'جو لوگ نمرت کو ٹرول کر رہے ہیں انھیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ انڈیا میں ایسے بہت سے رواج ہیں جہاں بیوہ خواتین کو بلاؤز پہننے کی اجازت نہیں ہے اور اسے اپنی پوری زندگی سفید ساڑھی میں گزارنی پڑتی ہے۔

’تب اس ثقافت کو کیوں فراموش کر دیا جاتا ہے اور تب کوئی تبصرہ کیوں نہیں کرتا؟ ان کے لیے کبھی آواز کیوں نہیں اٹھائی گئی کہ ان خواتین کو بھی مکمل لباس، براز یا بلاؤز پہننے کا حق ہونا چاہیے اور یہ غلط ہے؟‘

ہندی اور مراٹھی اداکارہ پریا باپٹ نے بی بی سی کو اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ انپوں نے چھ کلومیٹر دوڑ کے بعد انسٹاگرام پر اپنی ایک تصویر پوسٹ کی تھی لیکن انھیں زرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس تصویر پر وہ ٹرول ہو جائیں گی۔

وہ کہتی ہیں کہ 'چھ کلومیٹر دوڑنے کے بعد مجھے اپنے چہرے پر آیا گلابی رنگ پسند آیا۔ یہ بہت قدرتی تھا کیونکہ بھاگنے کے بعد خون گردش کرتا ہے۔ اور آپ کا چہرہ لال سا ہوجاتا ہے۔

’مجھے یہ پسند آیا تو میں نے اسے پوسٹ کر دیا۔ لوگوں نے مجھے یہ کہہ کر ٹرول کرنا شروع کر دیا کہ آپ کی عمر کتنی لگ رہی ہے، آپ کو بوٹوکس کروانا چاہیے، چہرے کو لِفٹ کرانا چاہیے۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’اس واقعے نے مجھے بہت متاثر کیا لیکن پھر میں نے اسے نظر انداز کر کے صرف اپنے کام پر توجہ دی۔ جب میرے گھر والے مجھ سے یہ سوال کریں گے کہ میں کیا کر رہی ہوں تو اس دن میں سوچوں گی کہ شاید میں کچھ غلط کر رہی ہوں۔‘

پریا ’سٹی آف ڈریمز‘، ’وزن دار‘ اور ’ٹائم پلیز‘ جیسی فلموں اور سیریز میں کام کر چکی ہیں۔ سٹی آف ڈریمز میں انھوں نے ہم جنس پرست کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے ایک سین پر انھیں کافی ٹرول کیا گیا تھا۔

صرف عورتوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟

پریا باپٹ کا خیال ہے کہ خواتین کو سوشل میڈیا پر زیادہ ٹرول کیا جاتا ہے اور انھیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ تبصرے کریں گے، ملے جلے ردعمل بھی ہوں گے اور لوگ ٹرول بھی کریں گے۔

وہ مشورہ دیتی ہے کہ ’اگر ردعمل بُرا ہے تو آپ کو اپنی توجہ وہاں سے ہٹا لینی چاہیے۔‘

ڈاکٹر عامر سلطانہ کا خیال ہے کہ اس طرح کے ٹرولز کو نظر انداز ہی کر دینا چاہیے لیکن وہ یہ سوال بھی اٹھاتی ہیں کہ لباس کے حوالے سے صرف خواتین کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر کوئی مرد ایسے کپڑے پہنے جس سے جسم دکھائی دیتا ہو یا انڈر ویئر نظر آئے یا ٹاپ لیس نظر آئے، تو وہاں کہا جاتا ہے کہ وہ سِکس پیک ایبس ہیں، مردانگی یا مسلز دکھا رہا ہے۔ وہاں کوئی اسے ٹرول کرتا ہے؟ نہیں، صرف تعریف ہوگی کہ واہ کیا باڈی ہے، سکس پیک ایبس وغیرہ۔ لیکن کوئی نہیں کہتا کہ تم کیوں ایکسپوز کر رہے ہو؟ جو کہ غلط طریقہ ہے۔‘

لیکن اگر عورت کو زبردستی کوئی لباس پہننے پر مجبور کیا جائے تو اس کی مذمت ضرور ہونی چاہیے۔

چند سال قبل انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے اداکارہ دیپیکا پڈوکون کی تصویر شائع کی تھی اور ان کے کلیویج پر ٹویٹ کیا تھا۔ تاہم بعد میں اس ٹویٹ کو ہٹا دیا گیا اور اخبار نے وضاحت بھی پیش کی تھی۔

ذہنیت کو بدلنے کرنے کی ضرورت ہے

اس ٹوئٹ پر دپیکا پڈوکون نے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے غصے میں جواب دیا تھا کیا۔ ان کی ٹویٹ کو 7000 سے زیادہ مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا اور ہیش ٹیگ ’سٹینڈ ود دپیکا' انڈیا میں گھنٹوں تک ٹرینڈ کر تا رہا تھا۔

عورت کو اس کے ٹیلنٹ یا خصوصیات کے ساتھ دیکھنے کے بجائے، اسے ثقافت یا روایات سے جوڑ کر دیکھنا کہیں نہ کہیں ایک ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔

عورتوں کے حقوق پر فلمیں بنانے والی فلمساز اور مصنفہ پارومیتا ووہرا کہتی ہیں کہ جب خواتین عوامی سطح پر ہوتی ہیں تو انھیں ہمیشہ دبایا جاتا ہے اور اس کا ایک طریقہ ان پر جنسی حملہ کرنا بھی ہے۔ ’جنسی تبصرے اور حملے کس کے کے عورت کی آزادی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘

اگر عورت کا احترام کرنا ہے تو یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ کیا پہن رہی ہے۔ ’اس کے لیے کوئی شرط نہیں رکھی جا سکتی کہ اگر آپ یہ کپڑے پہنیں گی تو ہی آپ کی عزت کریں گے۔ اگر نہیں پہنیں گی تو نہیں کریں گے۔ آپ کو عورت کی ذاتی ترجیح کا بھی احترام کرنا ہوگا۔‘

اگرچہ ان کا خیال ہے کہ وقت بدل رہا ہے اور خواتین بھی سوشل میڈیا پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر رہی ہیں لیکن ’اس تبدیلی کو قبول کرنے کے لیے معاشرے کو بھی بدلنا ہوگا۔‘