آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سٹریمنگ سروسز: انڈیا میں ڈراموں اور انٹرٹینمنٹ کا 'سنہرا دور‘
- مصنف, پریتی گپتا اور بین مورس
- عہدہ, ممبئی
ایوارڈ یافتہ انڈین اداکارہ رسیکا دُگّل کہتی ہیں کہ انھیں انڈسٹری میں اس سے زیادہ کام اور پزیرائی پہلے کبھی نہیں ملی۔
وہ جلد ہی نیٹفلکس کی سیریز 'دلی کرائم' کے دوسرے سیزن میں نظر آئیں گی اور ساتھ ہی 'لارڈ کرزن کی حویلی' میں بھی ایک کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اس وقت ایک اور ٹی وی سیریز میں بھی کام کر رہی ہیں جس کا نام ابھی طے نہیں کیا گیا۔
لیکن ہمیشہ سے انھیں اتنا کام نہیں ملتا آیا۔ بہت سے اداکاروں کی طرح انھیں بھی شروع میں مشکلات اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت انھوں نے جن فلموں میں کام کیا وہ یا تو ریلیز نہیں ہوئیں یا پھر ریلیز کے بعد سینیما گھروں میں توقعات کے مطابق نہ چل سکیں۔
وہ کہتی ہیں 'بطور اداکار ان فلموں میں کام کرنا بہت اچھا لگا اور یہ فلمیں لوگوں تک نہیں پہنچ پائیں جس کی وہ مستحق تھیں۔'
جب ان فلموں کی ڈسٹریبیوشن کا وقت آیا تو جن فلموں میں رسیکا نے کام کیا تھا ان کے پاس بڑی فلموں کے مقابلے میں مارکیٹنگ بجٹ نہ ہونے کے برابر تھا، اسی لیے یہ زیادہ لوگوں تک نہیں پہنچ پائیں۔
رسیکا بتاتی ہیں 'سینیما میں ساری بڑی سکرینیں اور مقبول شو ٹائم بڑے بجٹ کی فلمیں لے جاتی تھیں۔'
لیکن سنہ 2018 میں جب انھوں نے ایمازون پرائم کی سیریز 'مرزاپور' میں کام کیا تو ہر چیز بدل گئی۔ جرائم کے موضوع پر بنی اس سیریز میں ان کا کردار ایک شاطر عورت بینا تریپاٹھی کا تھا۔ اس رول کو ادا کرنے کے بعد انھیں نہ صرف ایوارڈز ملے بلکہ بہت سارا کام بھی ملنا شروع ہوگیا۔
'سٹریمنگ پلیٹفارمز (نیٹفلکس، ایپل، ایمازون پرائم، ہولو، ذی فائیو وغیرہ) کے آنے کے بعد میرا کیریر بالکل بدل گیا ہے۔ صرف کام کی تعداد کے نہیں بلکہ معیار اور ورائٹی کے لحاظ سے بھی۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہی کہانی دنیا بھر میں موجود دوسرے اداکاروں کی بھی ہے۔ نیٹفلکس، ایمازون اور ایپل جیسے بہت سے سٹریمنگ پلیٹفارمز ویب سیریز میں زبردست سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
تحقیق کرنے والی کمپنی ایمپیر اینالیسس کے مطابق گذشتہ برس سٹریمنگ انڈسٹری نے 220 بلین ڈالر کانٹینٹ بنانے پر خرچ کیے۔ جو کہ ایک برس پہلے کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ تھا جبکہ انڈیا میں 2019 اور 2020 میں صرف نیٹفلکس نے چار سو ملین ڈالر انڈین کانٹینٹ بنانے پر لگائے۔
انڈیا میں اچانک سے اتنی سرمایہ کاری کی وجہ سے ملک میں اب 30 سٹریمنگ سروسز ہیں جنھیں او ٹی ٹی یعنی کہ Over-the-Top پلیٹفارم بھی کہا جاتا ہے۔
ایک ایسے ملک میں جہاں سینکڑوں زبانوں اور لہجوں میں بات کی جاتی ہے وہاں پر اتنی زیادہ سرمایہ کاری کا مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی زبان میں ویب سیریز دیکھنے کو ملیں گی۔
نیٹفلکس انڈیا کی وائس پریزیڈنٹ مونیکا شیرگل کہتی ہیں کہ 'گزشتہ برس نیٹفلکس نے 28 اوریجنل ٹائٹل سات مختلف زبانوں میں بنائے۔ یہ آٹھ مختلف فارمیٹ اور 11 مختلف اقسام کے تھے۔ ان میں ویب سیریز، کامیڈی، ریئلٹی شو اور ڈاکومینٹریز شامل تھیں۔ جیسے جیسے ہمیں زیادہ الگ الگ قسموں کی فلمیں بنانے کے مواقع ملے ویسے ویسے ہم نے دیکھا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔'
وہ کہتی ہیں 'انڈیا میں کہانیاں سنانے کی ثقافت پرانی ہے اور یہاں انٹرٹینمینٹ کے لیے بہت لگاؤ ہے، ہم نے تو اپنا سفر بس ابھی شروع کیا ہے۔‘
'ارنسٹ اینڈ ینگ' نامی کمپنی میں میڈیا تجزیہ کار آشیش پھروانی کہتے ہیں کہ انڈیا میں 30 کروڑ گھروں میں سے ابھی صرف چار کروڑ گھر سٹریمنگ سروسز استعمال کرتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے کہ مارکیٹ میں ابھی بہت جگہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ برسوں میں یہ بڑھ کر 6 کروڑ تک پہنچ جائے گی اور کل آڈیئنس کی تعداد 20 کروڑ تک ہوگی۔
وہ کہتے ہیں 'ہم دیکھیں گے کہ بڑے پلیٹفارمز اور مختلف موضوعات مارکیٹ میں آئیں اور اس کے لیے طرح طرح کے بنڈل ہوں گے جو کہ مختلف پیکیجنگ اور قیمتوں کے ساتھ ہوں گے۔'
انڈیا کی سب سے بڑی فلم پروڈکشن کمپنیوں میں ایک نام رائے کپور فلمز کا بھی ہے۔ اس کے بانی سدھارتھ رائے کپور کہتے ہیں کہ سٹریمنگ سروسز نے انڈیا میں انٹرٹینٹمنٹ کے 'سنہرے دور‘ کا آغاز کیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی ان کے کچھ تحفظات بھی ہیں۔ ایک پروڈیوسر کی حیثیت سے وہ بتاتے ہیں کہ سیریز کے مقابلے میں فلم بنانے میں اور اسے روایتی انداز میں ریلیز کرنے پر زیادہ منافع ہے۔ کیونکہ اس فلم کے رائٹس پروڈکشن ہاؤس کے پاس ہی رہتے ہیں۔
لیکن سٹریمنگ پلیٹفارمز پر ایسا نہیں ہے۔ وہ ایک ہی بار رقم دے کر سارے رائٹس اپنے پاس رکھتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں 'اگر یہ تھیٹر میں ریلیز ہورہی ہے اور اگر فلم اچھی ثابت ہوئی تو آپ کو سرمایہ کاری پر منافع بھی زیادہ ملے گا اور ساتھ ہی آپ اس کانٹینٹ کے مالک بھی رہیں گے‘۔
سدھارتھ رائے کپور یہ سمجھتے ہیں کہ سٹریمنگ کا کاروبار بہت جلدی بہت زیادہ پھیل گیا ہے اور کچھ پلیٹفارمز آپس میں ضم ہوجائیں گے۔
'میرے خیال میں اس میں کچھ استحکام آئے گا۔ ایسے او ٹی ٹی پلیٹفارمز جن کے پاس زیادہ وسائل اور پیسے ہیں مارکیٹ میں رہ پائیں گے جبکہ دیگر آپس میں ضم ہوجائیں گے۔'
لیکن جب تک یہ چل رہا ہے تب تک انڈین فنکار اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ثاقب سلیم کا شمار بھی انھی اداکاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے حال ہی میں بہت سی فلموں اور ٹی وی شوز میں کام کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کام کی ورائٹی اور اس کی کوالٹی اتنی اچھی ہے کہ انھوں نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
'یہ میرے کیریر کا سب سے پرجوش مرحلہ ہے کیونکہ مجھے مختلف اقسام کے رول کرنے کو مل رہے ہیں۔ پانچ چھ سال پہلے ایسا نہیں تھا۔ اس وقت آپ کو ایک روایتی فلم میں ہیرو کا کردار ڈھونڈنا پڑتا تھا۔ میرے خیال میں اس سے انڈسٹری نے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کا کلچر کیا ہے اور دنیا میں کہاں بیٹھے ہیں۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ایسا کانٹینٹ بنانے والے لوگ موجود ہیں جو کہ اپنی توانائی ایسی کہانیوں پر صرف کر رہے ہیں جو کہ فارمولا فلموں سے بلکل الگ ہیں۔'