خواتین کے لگژری اور برینڈیڈ ہینڈ بیگز اتنے مہنگے کیوں ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, نازش ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
اگر آپ کے پاس ایک کروڑ روپے کہیں سے آ جائیں تو آپ ان کا کیا کریں گے۔ پاکستان کی اکثریتی آبادی کا جواب یہی ہو گا کہ اس رقم سے پلاٹ کا بندوبست یا مکان کی تعمیر کریں گے یا کسی کاروبار میں لگائیں گے۔
لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس رقم سے ایک ہینڈ بیگ خریدنے کو ترجیح دے گا۔ صرف ایک ہینڈ بیگ۔
ایسے قارئین جو میری طرح کروڑ روپے ایک بیگ پر خرچ کرنے کا سن کر ہکا بکا ہیں، ان کے لیے یہ کہنا کافی ہو گا 'ایک ہرمیز برکن بیگ کی قیمت تم کیا جانو مڈل کلاس بابو۔‘
ہرمیز، شینل، فینڈی، لوئی وٹاں، مارک جیکبز فیشن برینڈز کے ایسے نام ہیں جو اب پاکستانی سوشل میڈیا پر کئی خواتین کی تصاویر کے ساتھ گردش میں رہتے ہیں۔
اگر کسی خاتون کا سیاست یا کسی سیاست دان سے دور کا رشتہ بھی نکل آئے تو مخالفین کے لیے ان کی زیر استعمال چیزوں کی قیمت میں دلچسپی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اور اس 'عیاشی' پر اپنے تئیں ان کا 'احتساب' بھی کیا جاتا ہے۔
ایسی ہی ایک تصویرحال ہی میں فرح خان نامی خاتون کی وائرل ہوئی جنھیں خاتون اول کی قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے اور جن کا اپنا انسٹا گرام اکاؤنٹ بھی بتاتا ہے کہ بنی گالہ میں وزیر اعظم عمران خان کے گھر میں ان کی ’آنیاں جانیاں‘ بکثرت رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہSocial Media
وائرل ہونے والی تصویر ملک میں سیاسی کروٹ کے دوران ان کی مبینہ دبئی روانگی کی خبروں کے متعلق تھی لیکن صارفین کی کایاں نظر سیدھا ان کے بیگ پر پڑی۔ جامنی رنگ کے چرمی بیگ کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ اس کی قیمت پاکستانی روپوں میں کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
کیا یہ بیگز واقعی اتنے مہنگے ہیں؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس دعوے کی تصدیق بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فیشن ڈیزائنر اور نقاد محسن سعید نے کی۔ یہ مخصوص بیگ ہرمز برکن اور اس طرح کے دوسرے کئی برینڈز کی قیمت اس قدر ہوشربا کیوں ہے؟
اس پر محسن سعید کے جواب نے اس نامہ نگار سمیت کئی 'مڈل کلاسیوں' کی تقریباً کلاس لیتے ہوئے کہا کہ 'آپ لگژری کو سمجھیں۔‘ 'لگژری' کو سمجھاتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ عام برینڈز کی طرح کام نہیں کرتے۔ ان کی برینڈنگ، مارکیٹنگ اور سیلز کا اپنا ہی طریقہ کار ہے۔
ان برینڈز نے کئی دہائیوں، جبکہ بعض نے سو ڈیڑھ سو سال کی تاریخ میں ایک نام بنایا ہے۔ ان کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ان کا ڈیزائن تھوک کے حساب سے فیکٹری میں تیار نہیں ہوتا بلکہ کسٹم آرڈر کے تحت ہاتھ سے کرافٹ کیا جاتا ہے۔
پھر آئیڈیا کی قیمت ہے جو ان کے ڈیزائنرز کی ملکیت ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کی ویب سائٹ یا آؤٹ لیٹ ایسے نہیں ہیں کہ کوئی بھی ان پر جا کر پرائس ٹیگ دیکھ کر خریداری کر لے۔ پھر ہنر اور کرافٹ کے علاوہ ان کی تیاری میں استعمال ہونے والا میٹریل بہترین اور فروخت کے بعد کی سروسز اس سے بھی بڑھ کر ہوتی ہیں۔
کیا واقعی یہ بیگ مگر مچھ کی کھال سے بنتے ہیں؟
ہرمز برینڈ کے برکن بیگ کے متعلق محسن سعید کا کہنا ہے کہ یہ بالکل مگر مچھ کی کھال سے بنا ہے۔ اس کے علاوہ کئی بیگز شتر مرغ کی کھال سے بھی بنے ہیں۔
محسن سعید کے مطابق ’اب یہ بکریاں تو ہیں نہیں کہ قربانی کے بعد کھالیں جمع کر لی جائیں، ان نایاب جانوروں کی فارمنگ کرنا پڑتی ہے۔ اور کافی مہنگے اور پیچیدہ عمل سے گزر کا ان کی کھال قابل استعمال بنائی جاتی ہے۔ مگر مچھ کی کھال سے بنے بیگ عموماً رنگین ہوتے ہیں، اب یہ ململ تو ہے نہیں کہ بازار جا کر رنگوا لی تو یوں ان کی قیمت لاکھوں میں پہنچ جاتی ہے۔‘
کیا کوئی بھی شخص ان بیگز کو خرید سکتا ہے؟
بالفرض آپ کے پاس کروڑوں نہیں تو لاکھوں روپے کا ڈیزاینر برینڈ خریدنے کے لیے جیب میں پیسہ اور دل میں ارادہ موجود ہو تو کیا آپ ان کی ’دکان‘ پر چل دیں گے؟ رقم تھمائیں گے، بیگ اٹھائیں گے اور گھر کی راہ لیں گے؟
ایسا نہیں ہے۔ ہرمیز جیسی برینڈز کے لیے آپ کو پہلے خط و کتابت کرنا ہو گی، ممکن ہے آپ کے خرچ پر ہی کسی مہنگے ترین ریستوران میں چائے یا لنچ پر ان کا کوئی نمائندہ ملاقات طے کرے۔ اگر آپ ان کے پرانے کلائنٹ نہیں ہیں تو آپ کو کئی ماہ تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ کسٹم آرڈر کے معاملات یوں طے کیے جائیں گے جیسے دو خاندانوں میں رشتے کے معاملات طے کیے جا رہے ہوں۔ آپ انھیں 'پسند' آئے تو پراڈکٹ ملنے کی امید رکھی جا سکتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب امریکی ٹاک شو میزبان اوپرا ونفری کو بیگ دکھانے سے انکار کر دیا گیا
امریکہ کی معروف شخصیت اور کامیاب ترین سمجھی جانے والی میڈیا شخصیت اوپرا ونفری نے 2013 میں دعویٰ کیا تھا کہ سوٹزر لینڈ کے شہر زیورخ میں ان کے قیام کے دوران ایک ڈیزائنر بیگز کی سیلز گرل نے انھیں یہ کہہ کر بیگ دکھانے سے انکار کر دیا تھا کہ یہ ان کے لیے زیادہ مہنگا ہے۔ اس بیگ کی قیمت 38000 ڈالر تھی۔
اوپرا کے خیال میں وہ بیگ کو چھو کر دیکھنا چاہتی تھیں اور ان سے امتیاز برتا گیا۔ بعد میں میڈیا پر معاملہ آنے کے بعد برینڈ مالک نے ان سے معذرت کی اور اسے غلط فہمی قرار دیا۔
دنیا کا مہنگا ترین بیگ کون سا ہے؟
ڈائمنڈ ہمالیہ برکن نامی بیگ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے مہنگے داموں بکنے والا بیگ ہے۔ اس کی قیمت تین لاکھ ڈالر مقرر کی گئی تھی اور 2017 میں نایاب ہو جانے کے بعد ایک بولی میں یہ چار لاکھ ڈالر کا فروخت ہوا۔
یہ بھی پڑھیے
مگر مچھ کی مخصوص قسم کی کھال سے بنائے گئے اس بیگ کو سفید اور سرمئی رنگوں میں یوں رنگا گیا ہے کہ سفید رنگ پر ہمالیہ کی ابھری ہوئی چٹانوں کا گمان ہوتا ہے۔ اس کے ہارڈ وئر میں اٹھارہ قیراط وائٹ گولڈ کے علاوہ ہیروں کا استعمال کیا گیا ہے۔
پاکستان میں انٹرنیشنل لگژری استعمال کرنے والا طبقہ کون سا ہے؟
محسن سعید کے مطابق پاکستان میں ایک طبقہ تو ہے جو کئی نسلوں سے مالدار ہیں۔ ان کے پاس لاکھوں کی مالیت کے بیگ، اور زیورات ہمیشہ سے موجود ہیں۔ چاہے تعداد میں کم ہی ہیں۔
’وہ اپنی دولت اچھالتے نہیں ہیں۔ سادہ سی گولڈ کے تار کے پلو والی سفید ساڑھی کے ساتھ یہ خواتین اتنی مالیت کا بیگ لیتی ہیں۔ لیکن اس میں دکھاوا نہیں ہوتا۔ وہ ایسے ہی پر وقار لگتی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محسن سعید کے مطابق ’دوسرا طبقہ ان افراد کا ہے جن کی پاس دولت حال ہی میں آئی ہے۔ وہ بھی دو چار لگژری آئٹمز لیتے ہیں لیکن چائنا کی کاپیاں بھی استعمال کرتے ہیں۔‘
ایک تیسرا طبقہ صرف ان دو طبقوں سے مسابقت پیدا کرنے اور کاپی کرنے کے شوق میں لگژری برینڈز کی طرف مائل ہے۔
اس تمام تر گفتگو کے نتیجے میں راقم کو نمایاں بات یہ لگی کہ اگر ہنر، ہاتھ کا کام اور ڈیزائن کا اوریجنل ہونا ہی مصنوعات کو 'لگژری' کی فہرست میں شامل کرتا ہے تو پاکستان کی گلی گلی میں یہ 'لگژری' موجود ہے۔ کھاڈی پر بنائی کا کام، بلاک پرنٹنگ، کپاس سے کاتا گیا سوت، ہاتھ کی کڑھائی، اجرک کے ہاتھ سے رنگے ہوئے تھان۔۔۔ لگژری تو ہر طرف موجود ہے۔
گفتگو کا اختتام محسن سعید کے اس وعدے پر ہوا کہ دس ہزار روپے لے کر میرے ساتھ کراچی کی زینب مارکیٹ چلیے اور دل کھول کر ’لگژری‘ خریدیں۔











