آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بالی وڈ ڈائری: ’دل ہی دل میں، میں بہت پہلے ہی رنبیر کی دلہن بن چکی ہوں‘ عالیہ بھٹ
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
’میری شادی بہت پہلے رنبیر کپور سے ہو چکی ہے، دل ہی دل میں، میں بہت پہلے ہی رنبیر کی دلہن بن چکی ہوں۔‘ یہ کہنا ہے اداکارہ عالیہ بھٹ کا۔
نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے عالیہ رنبیر کپور کے اُس بیان کا جواب دے رہی تھیں جس میں رنبیر نے کہا تھا کہ اگر لاک ڈاون نہ ہوتا تو ان کی اور عالیہ کی شادی ہو چکی ہوتی۔
عالیہ نے کہا کہ رنبیر کا کہنا درست ہے لیکن جو بھی ہوتا ہے آپ کے اچھے کے لیے ہوتا ہے اور اب جو ہو گا وہ بھی بہت خوبصورت ہو گا۔ لیکن وہ تو بہت پہلے ہی رنبیر سے دل ہی دل میں شادی کر چکی ہیں۔
عالیہ اپنی فلم گنگو بائی کاٹھیاواری کے پروموشن کے سلسلے میں نیوز چینل سے بات کر رہی تھیں۔ عالیہ اور رنبیر نے فلم برہماستر کے دوران ایک دوسرے کو ڈیٹ کرنا شروع کیا تھا۔
حال ہی میں فلم صحافی راجیو مساند کے ساتھ انٹرویو میں جب رنبیر سے شادی کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اب وہ شادی ملتوی نہیں کرنا چاہتے اور اس سال ضرور وہ اور عالیہ شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔
فلم ’برہماسترہ‘ کی ریلیز تو کئی بار ملتوی ہو چکی ہے لیکن امید ہے کہ اس فلم کے ہیرو اور ہیروئن کی کہانی آگے بڑھ کر شادی تک ضرور پہنچ جائے گی۔
دیپکا پاڈوکون : بولڈ فیصلے کر سکتی ہوں کیونکہ رنویر میرے ساتھ ہیں
ادھر رنبیر کی سابقہ دوست دپیکا پاڈوکون کا کہنا ہے کہ وہ زندگی میں بولڈ فیصلے کر سکتی ہیں کیونکہ رنویر سنگھ میرے ساتھ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دپیکا نے رنویر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مقابلے رنویر سنگھ زیادہ ’ارٹیکولیٹ‘ ہیں یعنی اپنی بات بہتر طور پر سمجھا سکتے ہیں۔
دراصل دپیکا اپنی نئی فلم ’گہرائیوں‘ کی بات کر رہی تھیں جس میں وہ انتہائی بولڈ کردار میں ہیں۔ گہرائیاں ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کی شادی شدہ اور پروفیشنل زندگی بے رنگ ہو چکی ہے اور وہ زندگی میں ایک دوراہے پر کھڑی ہے۔
یہ ایک ایسی الجھی ہوئی کہانی ہے جو محبت، جھوٹ، بے وفائی، الجھے رشتوں اور ماضی کی تاریک حقیقتوں کے گرد گھومتی ہے۔ گہرائیاں ایک ایسی فلم ہے جس میں آپ کو قربتیں بھی اپنی انتہا پر دکھائی دیں گی۔ گو کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب آپ کو بڑے پردے پر ایسی قربتیں دیکھنے کو ملیں گی۔
لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اب اس قسم کی کہانیوں میں بہت گہرائی آ گئی ہے اور کرداروں کو بھی اپنے جوہر دکھانے کا بہتر موقع مل رہا ہے۔ بات محض جنسی کشش کی نہیں رہی، اس سے آگے جا چکی ہے اب دیکھنا ہے کہ فلم گہرائی باکس آفس پر کتنا گہرا اثر چھوڑے گی۔
حجاب کے معاملے پر کنگنا رناوت اور شبانہ اعظمی کے درمیاں نوک جھوک
جہاں تک اثرات کا تعلق ہے تو بالی وڈ میں سیاست کا نشہ سر چڑھ کر بول رہا ہے ویسے یہ کوئی نئی بات بھی نہیں چاہے شہریت کا متنازع قانون یعنی سی اے اے کا معاملہ ہو یا کسانوں کا احتجاج بالی ووڈ تک اس کی آگ پہنچ ہی جاتی ہے اور پھر اس آگ میں ہاتھ سینکنے والوں کی بھی کمی نہیں۔
بہر حال انڈیا کی ریاست کرناٹک میں کالج کی لڑکیوں کے حجاب پہننے کے معاملے نے سیاست کے ساتھ ساتھ فلمی دنیا میں بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں کئی فلمی شخصیات نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے وہیں دو اداکاراؤں کے درمیان براہ راست نوک جھونک کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
اپنے بیانات کی وجہ سے خبروں میں رہنے والی اداکارہ کنگنا رناوت نے انسٹاگرام پر ایک تبصرے میں لکھا کہ ’اگر آپ ہمت دکھانا چاہتی ہیں تو افغانستان میں برقع نہ پہن کر دکھائیں، آزاد رہنا سیکھیں، پنجرے میں بند ہونا نہیں۔‘
کنگنا نے یہ تبصرہ ایک ٹوئٹر پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران میں انقلاب کے بعد حالات کیسے بدلے، خاص طور پر خواتین کے لیے۔ اداکارہ شبانہ اعظمی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کنگنا کی اس پوسٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے سوال پوچھا ہے۔
انھوں نے لکھا ’اگر میں غلط ہوں تو مجھے درست کریں، لیکن افغانستان میں مذہبی نظام حکومت ہے، اور جب میں نے آخری بار چیک کیا تھا تو انڈیا ایک سیکولر جمہوریہ تھا۔‘
اس سے قبل شبانہ اعظمی کے شوہر، شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے بھی حجاب کے معاملے پر ٹوئٹر پر کئی تبصرے کیے تھے۔
جاوید اختر نے لکھا کہ ’میں کبھی حجاب یا برقعے کا حامی نہیں رہا، میں اب بھی اسی بات پر یقین رکھتا ہوں لیکن ساتھ ہی میرے دل میں ان غنڈوں سے کراہیت پیدا ہوتی ہے جنھوں نے کچھ لڑکیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی اور وہ بھی غیر ضروری طور پر، کیا ان کے خیال میں یہی ان کی مردانگی ہے؟ مجھے ان کی سوچ پر ترس آتا ہے۔‘
اداکارہ ریچا چڈھا نے بھی حجاب پہنے لڑکی کی وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے تبصرہ کیا ہے۔
انھوں نے لکھا ’اپنے بچوں کی اچھی پرورش کریں۔ بدصورت اور بزدل لوگ اکیلی لڑکی پر جھنڈ بنا کر حملہ کر رہے ہیں اور انھیں ایسا کرنے پر فخر ہے؟ شرمناک! اگلے چند برسوں میں ان کے پاس کوئی روزگار ہو گا نہ پیسے اور وہ اس سے بھی زیادہ مایوس ہو جائیں گے۔ مجھے ان سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
متنازعہ مسائل پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرنے والی اداکارہ سوارا بھاسکر نے بھی حجاب کے معاملے پر کئی تبصرے کیے ہیں۔
سوارا نے ایک ٹویٹ میں لکھا ’بھیڑیے!‘ ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے لکھا ’شرمناک صورتحال۔‘
فلم ڈائریکٹر اونیر نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ایک ٹوئٹ میں لکھا، ’یقین نہیں آتا کہ سیاستدان ہمارے ملک کے ساتھ کیا شرمناک سلوک کر رہے ہیں۔ ہماری یکجہتی کو منظم طریقے سے توڑا جا رہا ہے۔ ہم اندر سے کمزور ہو رہے ہیں۔ بیرونی دشمنوں کی کیا ضرورت ہے جب اس طرح کے احمق ان کے لیے یہ کام کر رہے ہیں، یہ شرمناک ہے… بندروں کا جھنڈ کالج کی طالبات کو پریشان کر رہا ہے۔‘
جنوبی انڈیا کے مشہور اداکار کمل ہاسن نے بھی حجاب معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔
سیاست میں سرگرم کمل ہاسن نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا ’کرناٹک میں جو ہو رہا ہے اس سے بد امنی پھیل رہی ہے اور معصوم طالب علموں کے درمیان نفرت کا زہر گھولا جا رہا ہے۔ ہمسائیہ ریاست میں جو ہو رہا ہے وہ تمل ناڈو میں نہیں ہونا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ترقی پسند طاقتوں کو مزید چوکنا رہنا ہو گا۔‘
فلمی دنیا کی کچھ ہستیاں تعلیمی اداروں میں حجاب کے حق میں نہیں ہیں۔ اداکارہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن ہیما مالنی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکول تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہے وہاں مذہبی معاملات کو نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔ سکول سے باہر آپ جو چاہیں پہنیں لیکن سکول کی یونیفارم کا احترام کیا جانا ضروری ہے۔‘
فلسماز منیش مچندرہ کا کہنا تھا کہ حجاب پر پابندی لگائی جانی چاہیے کیونکہ یہ دقیانوسی روایت ہے۔‘
سوشل میڈیا پر کئی متنازع موضوعات پر تبصرے کرنے کے لیے مشہور فلسماز اشوک پنلات نے بھی کئی ٹوئٹ کیے۔ ایک ٹویٹ میں اشوک پنڈت نے لکھا ’جنہیں اپنی مسجد میں جانے کی اجازت نہیں ہے انھیں حجاب پہن کر سکول جانے کا حق چاہیے۔‘