لتا منگیشکر زندگی بھر پاکستان کی دھرتی پر قدم کیوں نہ رکھ سکیں؟

    • مصنف, طاہر سرور میر اور شمائلہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو کے لیے

یہ تحریر بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر پہلی مرتبہ گذشتہ برس پیش کی گئی تھی، جسے آج لتا منگیشکر کے پہلے یوم وفات کی مناسبت سے دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

’20ویں صدی کی تین چیزیں یاد رکھی جائیں گی۔ ایک انسان کا چاند پر جانا، دوم دیوار برلن کا گرنا اور تیسرا لتا منگیشکر کا پیدا ہونا۔‘

لتا منگیشکر کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا تھا نامور غزل گائیک جگجیت سنگھ نے۔ لتا منگیشکر نے اپنی 92 برس کی زندگی میں لگ بھگ 60 برس تک گائیکی کی۔

برصغیر میں شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو گا جس نے لتا منگیشکر کی آواز سُنی اور اس سے متاثر نہ ہوا ہو۔ گائیکی کے فن سے وابستہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ لتا منگیشکر جیسی مدھر اور پاکیزہ آواز، سروں کی پختگی اور باجے کی تین سپتک تک آسانی سے گانا ان کا خاصا تھا۔

کس قدر عجیب بات ہے کہ انھوں نے لگ بھگ پوری دنیا میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا لیکن وہ پاکستان میں اپنے ان گنت چاہنے والوں کے روبرو اپنی پوری زندگی نہ ہو سکیں۔

’لتا منگیشکر کی خواہش تھی سرکاری سطح پر ریاست پاکستان کی طرف سے دعوت دی جائے‘

لتا منگیشکر کی خواہش تھی کہ انھیں سرکاری سطح پر ریاست پاکستان کی طرف سے دعوت دی جائے لیکن افسوس ایسا نہ ہو سکا۔

لتا نے کئی موقعوں پہ پاکستان جانے کی خواہش کا اظہار کیا لیکن بتاتی تھیں کہ یہ کبھی ممکن نہ ہوپایا۔ اس سلسلے میں پہلی باقاعدہ کوشش 1980 کی دہائی میں ہوئی۔ جنرل ضیا الحق کا دورِ حکومت تھا اور منتظمین کو آخرِکار وہ پروگرام کو منسوخ کرنا پڑا۔

لتا منگیشکر سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے والے پاکستانی صحافی نصرت امین نے اُنہی کے الفاظ میں لکھا کہ پاکستانی شاعر قتیل شفائی نے انھیں مدعو کیا تھا۔

اس انٹرویو میں لتا نے انھیں بتایا کہ 'سب تیاریاں ہوگئیں اور موسیقار پرفارم کرنے کے لیے تیار ہوگئے۔ پتا چلا تو ضیا صاحب نے شاعر کو تفصیلات معلوم کرنے کے لیے بلایا۔ ضیا صاحب نے پلان سننے کے بعد خاموشی سے ان کی طرف دیکھا، مسکرائے اور کہا 'تو تم چاہتے ہو پاکستان کے لوگ لتا جی کے شو کے لیے مجمع لگالیں اور مجھے بھول جائیں؟ میں جانتا ہوں کہ یہاں لوگ اُن کے لیے کتنا پاگل ہیں!'

سنہ 1996 میں اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے یہ بیان دیا تھا کہ ’میرا دل چاہتا ہے کہ لتا منگیشکر پاکستان آئیں اور وہ لاہور میں اپنی آواز کا جادو جگائیں۔‘

نوازشریف کا یہ بیان پاکستان کے تمام اخبارات نے شہ سرخیوں میں شائع کیا۔

تب میں نے لتا منگیشکر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا۔ مجھے یاد ہے لتا منگیشکر نے معصومیت سے بتایا تھا کہ ’مجھے پاکستان سے ابھی کوئی دعوت نامہ موصول نہیں ہوا۔‘ وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے یہ ایک ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ضمن میں دیا گیا بیان تھا۔

2010 میں پاکستان کے سابق وزیراعظم یوسف رضا نے بھی لتا منگیشکر کے فن کی حیثیت سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے اُنھیں پاکستان کی سرکاری مہمان کے طور پر مدعو کرنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن کشمیر پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بڑھتی کشیدگی اور اسی سال بدترین سیلاب کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی اور لتا ایک بار پھر پاکستان نہ آسکیں۔

حالیہ سالوں میں دیئے گئے کئی انٹرویوز میں انھوں نے کہا کہ 'اُس کے بعد کبھی کسی نے اپروچ ہی نہیں کیا۔'

میں نے لتا جی سے کہا کہ وزیراعظم پاکستان سمیت 18 کروڑ (اس وقت پاکستان کی آبادی) پاکستانی عوام کی طرف سے آپ کو پاکستان آنے کی دعوت دی گئی ہے، بتائیں کہ کیا آپ پاکستان آنا پسند کریں گی؟ لتا منگیشکر نے شکوہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے پوری دنیا میں لوگ ملتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور آپ کا گانا بہت پسند کرتے ہیں لیکن عجب اتفاق ہے کہ میں اپنے کیریئر کے دوران پاکستان میں کبھی بھی نہ گا سکی۔‘

لتا منگیشکر نے بتایا کہ ایک مرتبہ استاد نصرت فتح علی خاں نے انھیں اپنی بیٹی ندا نصرت کی سالگرہ پر لاہور آ کر گانے کی دعوت دی تھی۔ ’استاد نصرت فتح علی خاں نے ایک مرتبہ مجھے اپنے والد استاد فتح علی خاں اور تایا استاد مبارک علی خاں کی برسی، جو وہ اپنے آبائی شہر لائل پور میں منعقد کرواتے تھے، میں شرکت کرنے کی دعوت دی تھی لیکن بدقسمتی سے میں پاکستان نہ جا سکی۔‘

وزیر اعظم پاکستان محمد نوازشریف کی طرف سے پاکستان آ کر لاہور میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے حوالے سے لتا منگیشکر کا کہنا تھا کہ ’مجھے اگر سرکاری سطح پر پاکستان آنے کی دعوت دی گئی تو اسے بخوشی قبول کروں گی۔‘

لتا جی نے یہ بھی کہا تھا کہ ’برصغیر کے گانے بجانے والے لاہور میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کو عزت افزائی سمجھتے ہیں۔ میں بھی ایسا ہی سمجھتی ہوں اور اگر مجھے پاکستان اور پاکستانیوں نے بلایا تو ضرور آؤں گی۔‘

لیکن وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے یہ دعوت نامہ بعدازاں صرف ایک بیان ہی ثابت ہوا اور باقاعدہ طور پر لتا منگیشکر کو کوئی دعوت نامہ نہ بھیجا گیا اور لتا اپنی زندگی میں پاکستان نہ آ سکیں۔

’بچھڑتے وقت ہم دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے‘

لیکن ایسا ضرور ہوا کہ وہ اپنی طویل زندگی میں ایک مرتبہ اپنی پسندیدہ سینیئر، گرو اور بہت پیاری سہیلی ملکہ ترنم نورجہاں سے ملاقات کرنے پاکستان اور انڈیا کی سرحد واہگہ تک آئی تھیں۔

لتا منگیشکر نے بی بی سی اُردو کو اس ملاقات کا قصہ اپنی وفات سے چند ماہ قبل سُنایا تھا۔

لتا منگیشکر نے بتایا کہ ’یہ سنہ 1953-54 کی بات ہے، میں اپنی ایک فلم کی تیاریوں کے سلسلہ میں امرتسر میں تھی۔ امرتسر اور لاہور میں بہت کم فاصلہ ہے، امرتسر میں مجھے ہر وقت دیدی نور جہاں یاد آتی تھیں، ٹیلیفون پر بات ہو رہی تھی، لیکن دل نہیں بھرتا تھا۔ دیدی نورجہاں کو تقسیم کے وقت دیکھا تھا اور اب دل چاہ رہا تھا کہ اپنی دیدی کو گلے لگاؤں۔‘

لتا جی نے بتایا کہ جب وہ نور جہاں سے بات کرتی تھیں تو وہ ایک دوسرے کو اپنے مشہور گیت سُناتی تھیں۔ ’ایک دن یونھی امرتسر سے نورجہاں سے ٹیلی فون پر بات ہو رہی تھی تو میں نے کہا کہ میں آپ کے اتنی قریب آئی ہوں، کیوں نہ ایک دوسرے سے ملاقات کی جائے۔ نورجہاں یہ سُن کر بہت خوش ہوئیں اور انھوں نے اپنی جانب انتظامات کے لیے کہہ دیا۔ وقت اور دن طے پایا، اس جانب میں نے بھی پرمٹ کے لیے کہہ دیا۔ ان دنوں پرمٹ آسانی سے مل جاتے تھے۔‘

’پھر وہ دن آیا جب واہگہ باڈر پر میں اور نورجہاں ایک دوسرے کے گلے ملیں۔ نومین لینڈ پر ہم نے ایک دوسرے سے بہت باتیں کیں لیکن یہ وقت آنکھ جھپکتے گزر گیا، کبھی کبھار تو مجھے یہ وقت ایک زندگی سا لگتا ہے اور سوچوں تو یہ وقت ایک لمحہ بن کر زندگی سے خارج ہو گیا تھا۔ بچھڑتے وقت ہم دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔‘

’بارڈر سکیورٹی نے پوچھا کہ نورجہاں نے مجھے پیکٹ میں چھپا کر کیا دیا ہے‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’باڈر کے اس طرف آنے سے پہلے دیدی نورجہاں نے مجھے ایک چھوٹا سے پیکٹ دیا، انڈین بارڈر سکیورٹی نے دریافت کیا کہ نورجہاں نے مجھے پیکٹ میں چھپا کر کیا دیا ہے؟ پیکٹ کو کھولا گیا تو اس میں بریانی اور آموں کے گودے سے تیار کردہ ایک ڈش نکلی۔ دیدی کو علم تھا کہ دونوں ڈشیں میری پسندیدہ ہیں اور وہ بطور خاص میرے لیے اپنے ہاتھوں سے بنا کر لائی تھیں۔‘

لتا جی نے یہ واقعہ اپنی بائیو گرافی میں بھی بیان کیا ہے۔ لتا منگیشکر نے واہگہ بارڈر پر نورجہاں سے ملاقات اور اپنی پسندیدہ ڈشیں جو نورجہاں ان کے لیے بارڈر پر لے کر آئیں، اس حوالے سے بیان کیا ہے کہ ’یہ کھانے نہ ہندو تھے نہ مسلمان، نہ انڈین تھے نہ پاکستانی۔۔۔ یہ نازک اور پیار بھرے ہاتھوں نے تیار کیے گئے تھے جو چھوٹے چھوٹے اختلافات کی حدوں سے بہت اوپر اٹھ جاتے ہیں۔‘

'گرو کے سامنے گاتے ہوئے خود کو ایک گرو سمجھو'

لتا جی پاکستان اور میڈم نور جہاں کا نام ایک ہی سانس میں لیا کرتی تھیں۔ جہاں جہاں پاکستان کا نام آتا وہ میڈم نور جہاں کو خراجِ عقیدت پیش کرتیں اور اُن سے اپنی دوستی اور محبت کا اظہار کرتیں۔

لتا منگیشکر عمر میں میڈم نور جہاں سے صرف تین برس چھوٹی تھیں اور اُنھیں آپا کہا کرتی تھیں۔ پہلی بار دونوں کی ملاقات 1944 میں ماسٹر ونایک کی فلم 'بڑی ماں' کے دوران ہوئی جس میں لتا نے ایک چھوٹا سا کردار ادا کیا تھا۔

انڈیا کی مشہور فلم صحافی نسرین منی کبیر کی لتا منگیشکر پر کتاب 'لتا منگیشکر: اِن ہر اون وائس (اپنی ہی آواز میں)' وہ کہتی ہیں کہ ’نور جہاں میری گرو نہیں تھیں اور نہ ہی میں اُن کی شاگرد تھی لیکن مجھے ان کی گلوکاری بہت پسند تھی۔‘

’بڑی ماں‘ کا پہلا شیڈول کولہاپور میں تھا اور نور جہاں ایک گانا فلم کروانے کے لیے آئیں۔ انھوں نے سٹوڈیو کا میوزک روم لیونگ ایریا میں تبدیل کر دیا تھا جس میں نورجہاں، ان کے شوہر شوکت حسین رضوی صاحب اور ان کے چھ ماہ کے بیٹے اکبر نے وہاں قیام کیا۔

’ایک روز میں فلم 'بڑی ماں' کے سیٹ پر تھی کہ ماسٹر وِنایک نے ہمارا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ نور جہاں ہیں، اِنھیں ایک گانا گا کے سناؤ۔ تو میں نے راگ جے جے وانتی سنایا۔ پھر انھوں (نور جہاں) نے مجھ سے فلم کا ایک گانا گانے کو کہا تو میں نے فلم 'واپس' سے آر سی بورال کا گانا 'جیون ہے بیکار بنا تمھارے' گایا۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’میڈم کو گانا سناتے ہوئے والد کی بات ذہن میں رکھی کہ 'گرو کے سامنے گاتے ہوئے خود کو ایک گرو سمجھو۔‘ اسی سوچ کے ساتھ گایا اور میڈم کو گانا پسند آیا جس پر انھوں نے کہا کہ 'مشق جاری رکھو، ایک دن بہت اچھی گلوکارہ بنو گی‘۔'

اسی فلم کی شوٹنگ کے دوران وہ میڈم کے نماز کے دوران رقت کی کیفیت میں روتے ہوئے دعا مانگنے کا ایک قصہ بھی سنایا کرتی تھیں کہ انھوں نے میڈم سے پوچھا کہ' آپ رو کیوں رہی تھیں؟' جس پر میڈم نے جواب دیا کہ' میں رو کے خدا سے مانگ رہی تھی کہ سب اچھا ہو۔'

’سارے فون آپریٹرز نے ہماری کالوں کو سننا شروع کر دیا‘

اس کتاب میں لتا جی لکھتی ہیں کہ ’نور جہاں 1947 میں پاکستان ہجرت کر گئیں لیکن وہ اکثر مجھے کراچی سے فون کیا کرتی تھیں اور میں بھی انھیں فون کرتی تھی۔ وہ فون پر لتا سے فلم البیلا سے ایک لوری 'دھیرے سے آجا رے اکھیاں میں' سمیت دیگر گانے سنانے کی فرمائش کرتی تھیں۔ ‘

’بمبئی اور دیگر جگہوں پہ لوگوں نے تبصرے شروع کر دیے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کو فون کرتی رہتی ہیں اور گانے سناتی رہتی ہیں۔ جس کے بعد سارے فون آپریٹرز نے ہماری کالوں کو سننا شروع کر دیا۔‘

1982 میں میڈم نور جہاں ایک میوزیکل پروگرام میں شرکت کے لیے انڈیا گئی تھیں۔ اس موقع پر خود لتا اور اداکار دلیپ کمار نے اُن کا استقبال کیا تھا۔

لتا جی کہتی ہیں کہ 'میں وہ دن نہیں بھول سکتی جب نور جہاں انڈیا آئیں تھیں۔ میں انھیں دیکھ کر، اُن سے مل کر بے حد خوش تھی۔ میں نے ان کے افتتاحی شو پہ دو گانے پیش کر کے ان کا استقبال کیا۔ وہ ایک خوبصورت شام تھی۔ ناقابِل فراموش!'

میڈم نور جہاں نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ 'لوگ کہتے ہیں کہ لتا تمھیں اتنا مانتی ہیں، وہ تمھیں استاد سمجھتی ہیں، تمھیں پیار کرتی ہیں۔ یہ سب میں سمجھتی ہوں ان کا بڑا پن ہے۔ ورنہ لتا تو لتا ہیں! میری نظر میں اب تک اُن کے جیسا کوئی پیدا نہیں ہوا۔'

لتا کو لتا بنانے والے ماسٹر غلام حیدر

لتا منگیشکر نے پاکستان کی طرف ہمیشہ پیار اور احترام کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہیما منگیشکر المعروف لتا منگیشکر کو لافانی گائیکہ بنانے کا سہرا میوزک ڈائریکٹر ماسٹر غلام حیدر کے سر ہے جن کا تعلق لاہور کے علاقہ چونا منڈی سے تھا۔

ماسٹر غلام حیدر نے لتا منگیشکر سے پہلے نورجہاں اور شمشاد بیگم کو بھی متعارف کروایا تھا۔ لتا منگیشکر نے بی بی سی اُردو کو دیے گئے انٹرویو میں یہ قصہ خود سنایا تھا۔

لتا جی کا یہ انٹرویو ماسٹر غلام حیدر کی برسی کے موقع پر ٹیلی فون پر کیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا تھا کہ ’یہ سنہ 1947 کا زمانہ تھا اور فلم 'شہید' کی تیاریاں عروج پر تھیں ۔اس زمانے کے سٹار میوزک ڈائریکٹر ماسٹر غلام حیدر نے مذکورہ فلم کے ایک گیت کے لیے میرا آڈیشن لیا۔‘

وہ بتاتی ہیں ’ماسٹر صاحب کو میری آواز بہت پسند آئی اور میرے کہے بغیر انھوں نے اپنے من میں یہ فیصلہ کر لیا کہ وہ مجھے پروموٹ کریں گے، انھی دنوں کی بات ہے کہ فلمستان سٹوڈیو کے مالک اور مشہور پروڈیوسر شیشدھرمکھر جی نے ریہرسل میں میری آواز سُنی اور مجھے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ’اس لڑکی کی آواز بہت باریک اور چبھتی ہوئی ہے۔‘

’ایک دن آئے گا کہ پروڈیوسر لتا کے دروازے پر قطار باندھے کھڑے ہوں گے‘

شیشدھر مکھر جی آج کی معروف اداکارہ رانی مکھر جی کے پڑدادا تھے جو اپنے وقت کے بہت بڑے فلمساز تھے۔ لتا منگیشکر کے مطابق ’ماسٹر غلام حیدر نے شیشدھر مکھر جی سے کہا کہ وہ گارنٹی دیتے ہیں کہ یہ لڑکی (لتا) برصغیر کی میوزک مارکیٹ میں اچھا اضافہ ثابت ہوں گی لیکن وہ نہ مانے۔‘

’شیشدھر کے انکار پر ماسٹر غلام حیدر ناراض ہو گئے اور کہا ’مکھرجی صاحب ویسے تو آپ کو اپنی رائے قائم کرنے کا پورا حق ہے لیکن میرے الفاظ نوٹ کر لیں ایک دن آئے گا کہ پروڈیوسر، لتا کے دروازے پر قطار باندھے کھڑے ہوں گے۔‘

لتا کے مطابق یہ کہہ کر ماسٹر غلام حیدر نے فلمستان کے دفتر میں شیشدھر کو اپنا استعفیٰ تھمایا اور اسی وقت میرے ساتھ بمبئی ٹاکیز سٹوڈیو کی جانب چل پڑے۔

لتا جی بتاتی ہیں کہ 'بمبئی ٹاکیز سٹوڈیو شہر کے مضافات میں ملاڈ کے علاقے میں تھا۔ میں ماسٹر صاحب کے ساتھ میںگور گاؤں ریلوے سٹیشن پر کھڑی ٹرین کا انتظار کر رہی تھی کہ فلم ’مجبور‘ کے گیت کی پہلی دھن انھوں نے مجھے وہیں یاد کروائی۔ گیت کے بول تھے ’دل میرا توڑا ،مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔۔۔‘ یہ گیت ہی دراصل پلے بیک سنگنگ میں میرا بھرپور تعارف بنا۔‘

یہ بھی پڑھیے

لتا جی بتاتی ہیں ’ماسٹر صاحب یہ دھن سناتے ہوئے اپنے ہاتھ میں سگریٹ 555 کی ڈبی پر ردم بجا کر مجھے یاد کروا رہے تھے وہ ایک، ایک مصرع سناتے رہے اور میں ان کے ساتھ گنگناتی رہی۔ سٹوڈیو پہنچ کر ماسٹر غلام حیدر نے یہ گیت میری آوازریکارڈ کیا اور اسے تاریخ کا حصہ بنا دیا۔‘

یاد رہے کہ فلمساز شیشدھر مکھر جی نے لتا منگیشکر کی آواز مسترد کرنے کے واقعہ پر باقاعدہ افسوس کا اظہار کیا تھا اور اس کے بعد جو فلم بھی بنائی اس میں لتا منگیشکر کی آواز ریکارڈ کرنے کے لیے اس قطار میں کھڑے ہوتے رہے جو اس عظیم مغینہ کے گھر کے باہر لگی رہتی تھی۔

’لتا ہمیں دے دیجیے اور کشمیر آپ رکھ لیجیے‘

پروین شاکر نے اپنی ایک نظم 'مشترکہ دشمن کی بیٹی' میں چائے خانے پر اپنی قوم پرست دوستوں کے ساتھ گفتگو میں انڈیا اور پاکستان کے لوگوں کے درمیان کشیدگی کا منظر کھینچتے ہوئے اچانک درمیان میں آنے والی لتا کی آواز کے جادو کا اثر بیان کرتے ہوئے لکھا:

لتا کی رس ٹپکاتی، شہد آگیں آواز ، کچھ ایسے اُبھری

جیسے حبس زدہ کمرے میں

دریا کے رُخ والی کھڑکی کھلنے لگی ہو!

اسی نظم کے پسِ منظر میں دلی میں آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس کے صحافی زبیر رضوی نے اپنی یاداشتوں پر مشتمل کتاب 'گردشِ پا' میں لکھا کہ 'لتا جی، بعض پاکستانی کہتے ہیں کہ لتا ہمیں دے دیجیے اور کشمیر آپ رکھ لیجیے، تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟‘ تو اس پر لتا کا جواب تھا کہ اگر ’اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان جھگڑا ختم ہوسکتا ہے تو مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔'

زبیر رضوی لکھتے ہیں کہ ’لتا نے اس انٹرویو کے نشر ہونے کے کئی دن بعد یہ اطلاع دینے کے لیے فون کیا کہ اس انٹرویو کے بعد اُنھیں پاکستان سے ہزاروں کی تعداد میں خط ملے جن پر صرف ’لتا منگیشکر-انڈیا' پتہ لکھا تھا۔ ان سارے خطوط میں لتا کی اس بات پر بےپناہ مسرت کا اظہار کیا گیا تھا کہ وہ کشمیر کے بدلے پاکستانیوں کی زندگی کا حصہ بننے کو تیار ہیں۔'

'اصلی سونا ہمیشہ چمکتا ہے'

پاکستان میں صوفی میوزک کی ملکہ عابدہ پروین سنہ 2002 میں اپنی ایک البم 'فیض بائے عابدہ 'ریکارڈ کرنے کی غرض سے انڈیا گئی تھیں البتہ اس دوران لتا منگیشکر سے ہوئی اپنی ملاقات کو یاد کر کے بتاتی ہیں کہ ’میں ایک کمرے میں ریکارڈنگ کر رہی تھی اور یہ جاننے کے بعد کہ لتا جی دوسرے کمرے میں ریکارڈنگ کررہی ہیں اُن سے ملنے چلی گئی۔

’دیدی کو ایک دفعہ میری موجودگی کا پتہ چل گیاتو وہ مجھ سے ملانے اپنی پوری فیملی کو لے آئیں۔ وہ کئی گھنٹوں تک بیٹھ کے مختلف موضوعات پہ مجھ سے باتیں کرتی رہیں۔‘

عابدہ پروین نے کہا کہ ’جب کسی نے پوچھا کہ ایسا کیسے کہ اُن جیسی عظیم گلوکارہ میری تعریف کررہی ہے؟‘ جس پر انھوں نے صرف اتنا کہا کہ 'اصل سونا ہمیشہ چمکتا ہے۔'

لتا بتاتی ہیں کہ 'میں عابدہ جی سے اکثر بات کرتی ہوں۔ حال ہی میں انھوں نے میرے بھتیجے بائیجو کی دھنوں کی بہت تعریف کی ہے جس کا کام صوفی شاعر شاہ حسین پر مبنی ہے۔‘

'پاکستانی بھگوان اور سرحدیں'

زبیر رضوی نے اپنی یاداشتوں میں مزید لکھا ہے کہ انٹرویو میں لتا نے ’اپنی فنکارانہ فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مہدی حسن کے فن کا اعتراف کیا اور کہا کہ 'مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتے ہیں‘ اور وہ ان کی گائی غزلیں سن کر ’سوتی اور جاگتی ہیں۔'

2011 میں انڈیا اور پاکستان کے گلوکاروں کے گانوں پرمشتمل ایک البم 'سرحدیں' ریلیز کیا گیا جس کی تیاری میں انڈین اداکارہ ریکھا کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ لتا منگیشکر اور مہدی حسن نے مل کر اس البم کی ایک غزل 'تیرا ملنا اچھا لگا' گائی تھی۔

لتا کے بقول انھیں معلوم ہوا کہ مہدی حسن ان کے لیے میوزک بنانا چاہتے ہیں۔ وہ جیسے ہی فالج کے اٹیک کے بعد وہ قدرے بہتر ہوئے، انڈیا گئے اور لتاجی کے ساتھ اس بارے میں بات بھی کی۔

'مہدی حسن صاحب، میرے چھوٹے بھائی موسیقار پنڈت ہری دایا ناتھ منگیشکر اور میں نے ایک غزل چنی اور مشق کرنا شروع کر دی۔ سب کچھ اچھا جارہا تھا تو اسے ریکارڈ کر لیا گیا۔ میں نے مہدی حسن صاحب کی بنائی اس دھن پر بالکل اسی طرح گایا جیسا وہ چاہتے تھے، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ ایک دو گانا تھا۔'

پاکستانی صحافی نصرت امین لکھتے ہیں کہ اس ریکارڈنگ کے چند روز بعد ہی مہدی حسن کو اپنی بگڑتی طبیعت کے باعث واپس پاکستان آنا پڑا۔ البم کی لانچ کے بعد لتا نے اس غزل کا ایک ٹیپ مہدی حسن کو بھیجا۔

'مجھے بتایا گیا کہ جب ان کے بیٹے نے ان کے لیے گانا چلایا تو اتنے کمزور ہوچکے تھے کہ انھیں یاد نہ رہا کہ دراصل وہ کیا ہے۔ مجھے یہ جان کے بہت دکھ ہوا لیکن زندگی یہی ہے۔ کاش انھیں وہ دوگانا یاد ہوتا جو میں نے ان کے ساتھ اور ان کے لیے گایا تھا۔'

'سرحدیں' نامی یہ البم مہدی حسن کی وفات کے ایک سال پہلے ریلیز ہوئی تھی۔

اپنے عظیم محسن اور استاد ماسٹر غلام حیدر، دیدی نور جہاں، اپنے پسندیدہ غزل گائیک مہدی حسن اور استاد سلامت علی خاں کی نسبت سے لتا منگیشکر پاکستان کی جانب ہمیشہ محبت اور احترام کے ساتھ دیکھتی رہیں لیکن یہ سچ ہے کہ دونوں ملکوں کے ٹوٹتے بنتے تعلقات کے باعث وہ کبھی بھی پاکستان کی دھرتی پر قدم نہ رکھ سکیں۔