قصہ مہربانو کا میں احسن خان کا کردار: ’میریٹل ریپ کے موضوع پر لڑکیاں کسی سے بات نہیں کر سکتیں۔۔۔ اس لیے اجاگر کرنا اہم تھا‘

قصہ مہربانو

،تصویر کا ذریعہCourtesy Hum TV

کسی اچھے فنکار کی ایک اہم خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی منفی یا مثبت کردار میں خود کو آسانی سے ڈھالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے لیکن اگر یہی کردار کسی معاشرتی مسئلے کے بارے میں آگاہی پھیلانے کے لیے نبھایا جائے تو یہ ایک کڑوی گولی بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

ایسا ہی ایک کردار فنکار احسن خان ڈرامہ سیریل ’قصہ مہربانو کا‘ میں نبھا رہے ہیں۔ اس ڈرامے میں ایک ایسے معاشرتی مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے پاکستان میں عموماً لوگ بالخصوص خواتین کتراتی ہیں۔ یہ مسئلہ ایک شوہر کا بیوی کے ساتھ زبردستی سیکس یعنی ’میریٹل ریپ‘ کا ہے۔

اس ڈرامے کے نشر ہونے کے بعد سے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلے کو اجاگر کرنے پر ڈرامہ بنانے والوں کو پذیرائی تو مل رہی ہے لیکن ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ احسن خان کو کسی معاشرتی پہلو کو اجاگر کرنے کے لیے منفی کردار ادا کرنا پڑا ہو۔

انھوں نے چند سال قبل ڈرامہ ’اڈاری‘ میں بچوں سے زیادتی کرنے والے شخص کا کردار نبھایا تھا جس کے بعد اس ڈرامے پر ایک تنازع تو کھڑا ہوا تھا لیکن احسن خان کی اداکاری پر انھیں داد بھی ملی تھی اور ایوارڈز بھی۔

روپ بدلتے احسن خان اب مشکل کردار نبھانے والے فنکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مقبول میزبان بھی ہیں۔ اتنے مختلف انداز اپنانے کے باوجود حقیقت کے نزدیک رہنا ان کے لیے کتنا مشکل ہے اور کیا وہ یہ منفی کردار اپنی مرضی سے چنتے ہیں۔ یہ اور اس جیسے دیگر سوالات کے جوابات احسن خان نے صحافی براق شبیر کو بی بی سی کے لیے دیے گئے انٹرویو میں دیے ہیں۔

احسن خان

’میریٹل ریپ خاصا ذاتی مسئلہ ہے۔۔۔ نہ یہ نظر آتا نہ اس کے بارے میں کوئی بول سکتا ہے‘

ڈرامہ ’قصہ مہربانو کا‘ میں احسن خان ایک ایسے شوہر کا کردار نبھا رہے ہیں جو اپنی بیوی کے ساتھ زبردستی سیکس یعنی میریٹل ریپ کرتا ہے۔ تاہم اس کردار میں عام طور پر ڈراموں میں دیکھا جانے والا دقیانوسی پہلو نظر نہیں آتا۔

ناقدین پاکستانی ڈراموں میں خواتین پر تشدد کے حوالے سے پہلے بھی خاصی تنقید کر چکے ہیں اور احسن خان کے مطابق ایسا کرنے سے اس منفی عمل کو ’نارملائز‘ یعنی عام بنایا جاتا ہے جو غلط ہے۔

وہ اس حوالے سے ’قصہ مہربانو کا‘ کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ جو رشتہ دکھایا گیا اس میں زور زبردستی، یا جارحانہ پن یا ہاتھا پائی نہیں تھی کیونکہ وہ اتنا عام ہو چکا ہے کہ خواتین کو تھپڑ مار دیا، اور پھر وہی بات آ جاتی ہے کہ نارملائز ہو گیا، چونکہ ہمارے ذہن میں ایک مختلف پہلو تھا، جسے ہم لے کر چل رہے تھے اور یہ پہلو کچھ قسطوں بعد سامنے آیا۔‘

احسن خان اس انتہائی حساس اور پیچیدہ موضوع کو اجاگر کرنے کے حوالے سے آگاہی پھیلانے سے متعلق کہتے ہیں کہ ’یہ اتنا گہرا نفسیاتی مسئلہ بھی ہے کہ اگر آپ کسی پر ظلم کر رہے ہیں، یا اسے تھپڑ مار رہے ہیں، وہ تو نظر آ جاتا ہے لوگوں کو۔ لیکن یہ ایک خاصا ذاتی مسئلہ ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں نہ تو کوئی بول سکتا ہے، نہ یہ نظر آتا ہے۔‘

وہ اس بارے میں مزید وضاحت فراہم کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جس بھی خاتون کے ساتھ گھر میں یہ ہو رہا ہوتا ہے اس کے پاس اس بارے میں بات کرنے کے لیے کوئی راستہ بھی نہیں ہوتا، وہ کسی کے پاس جا بھی نہیں سکتی، وہ اپنی ساس سے بھی یہ بات نہیں کر سکتی، تو یہ ایک بڑا عجیب، پیچیدہ سا مسئلہ تھا جسے چھوا گیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ اس موضوع پر بحث ہو اور واقعی لوگوں کو بھی احساس ہو کہ اگر یہ کسی کہ ساتھ ہو رہا ہے تو یہ اخلاقی طور پر بھی غلط ہے اور پاکستان کے قانون کے مطابق بھی ایک جرم ہے۔ تو اگر اس بارے میں بات چیت ہوئی تو یہ ایک بہت اچھی بات تھی۔‘

اڈاری

،تصویر کا ذریعہCourtesy Hum Tv

’منفی کردار نبھانے پر آنٹیوں سے ڈانٹ پڑتی ہے‘

قصہ مہربانو کا ہو یا اڈاری ہو، احسن خان ایک عرصے سے ہیرو کی بجائے ’اینٹی ہیرو‘ کے روپ میں نظر آ رہے ہیں۔ کیا یہ ان کی اداکاری کی پختگی کی نشانی ہے اور کیا وہ یہ کردار اپنی مرضی سے چنتے ہیں؟

احسن خان اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ ’یہ بالکل میری مرضی سے چنے گئے کردار تھے۔ قصہ مہربانو کا میں کردار نبھانے سے پہلے میں نے خاصی طویل سوچ بچار کی کیونکہ میں نے ابھی کچھ عرصہ قبل ایک منفی کردار نبھایا ہے۔‘

پاکستانی ڈراموں میں ایک جیسی کہانیاں اور سکرپٹ بھی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔

احسن خان ان دقیانوسی کردار نبھانے کے حوالے سے کرتے ہیں کہ ’میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ میں کردار وہ چنوں جس کے گرد کہانی گھومے اور میں سمجھتا ہوں کہ میں نے عام طور پر آفر ہونے والے دقیانوسی کہانیوں پر مبنی سکرپٹ پہلے کئی مرتبہ نبھا لیے ہیں جیسے ہیرو کو دو لڑکیوں سے محبت ہو گئی، یا وہ پھنس گیا محبت کر کے، یا اسے دفتر میں کسی سے محبت ہو گئی وغیرہ۔۔۔‘

یہ بھی پڑھیے

وہ کہتے ہیں کہ ’ہو سکتا ہے کہ میں کچھ عرصے میں دوبارہ وہ کردار بھی نبھاؤں لیکن مجھے منفی کردار نبھانے میں مزا بھی آنے لگا ہے۔ کیونکہ ایسے کرداروں میں فنکار کے پاس خاصا مارجن ہوتا ہے، ڈرامہ ’قیامت‘ میں میرا کردار کسی اور طرح لکھا گیا تھا، لیکن میں نے اسے مختلف انداز میں نبھایا۔ یہ ویسے ہی ہے جیسے شیشے کو پگھلا کے مختلف شکلوں میں ڈھالا جاتا ہے ویسے ہی یہ بھی ایک فن ہے کہ آپ کو ایک کردار دے دیا جائے اور آپ اسے مختلف انداز میں ڈھال دیں۔‘

تاہم یہ کردار نبھانے کے بعد انھیں اس حوالے سے فیڈبیک میں کبھی کبھار ’آنٹیوں سے ڈانٹ بہت پڑتی ہے۔‘

احسن خان بتاتے ہیں کہ انھیں ’آنٹیاں کہتی ہیں کہ کیا کر رہے ہو تم اس بیچاری کے ساتھ۔ اور یہ ہر دفعہ ہوتا ہے جب بھی میں کچھ ایسا کرتا ہوں۔ تو میں کہتا ہوں کہ آنٹی جی اصل میں نہیں ہو رہا، آپ تسلی رکھیں میں ایسا انسان نہیں ہوں اصل میں۔۔۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اداکاری بات بھی اسی چیز کی ہے کہ آپ لوگوں کو کتنا یقین دلوا سکتے ہی اور جب ہم کوئی غیرمعمولی کردار نبھاتے ہیں ’تو اس پر زیادہ بات ہوتی ہے، یہ قدرتی بات ہے۔‘

تاہم وہ کہتے ہیں کہ انھیں منفی فیڈبیک ایک مختلف انداز میں بھی ملتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’جب آپ ٹیلی ویژن پر چیزوں کو دکھاتے ہیں تو آپ انھیں نارملائز بھی کر دیتے ہیں، لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر آپ اسے سنسنی پھیلانے کے انداز میں بیان کریں، یا اسی بری شخصیت یا منفی پہلو کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں تو پھر بات صحیح بھی ہے کہ آپ اسے کسی بھی صورت اس روشنی میں نہ دکھائیں کہ وہ صحیح لگے۔

’بطور فنکار جب آپ کو سکرپٹ ملتا ہے تو آپ کو بہت محتاط ہونا چاہیے۔‘

میزبان

،تصویر کا ذریعہCourtesy Express TV

احسن خان بطور میزبان

اداکاری سے پرے، روپ بدلتے احسن خان کا ایک اور بھی روپ دیکھنے کو ملتا ہے اور وہ ان کی میزبانی ہے۔

احسن خان اس بارے میں بتاتے ہیں کہ ’کریئر میں کافی طویل عرصے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میں میزبانی کر سکتا ہوں۔

’آغاز میں لائیو شو کی میزبانی کرنا شروع کی تو اندازہ ہوا کہ یہ بھی کر لیتے ہیں، لیکن کیونکہ یہ زیادہ سکرپٹ کے مطابق ہوتے تھے، اور میرے لیے سکرپٹ کے مطابق میزبانی مشکل ہوتی ہے۔‘

احسن خان اب ایک سال سے 'ٹائم آؤٹ ود احسن خان' نامی شو کی میزبانی کر رہے ہیں اور انھیں اس حوالے سے پذیرائی بھی مل رہی ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام شو کے مخصوص حصے سکرپٹ کے مطابق ہوتے ہیں لیکن عام گفتگو وہ سکرپٹ کے حساب سے نہیں کرتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ سب مجھے جاتنے ہیں اور میں انھیں جانتا ہوں، اس لیے وہ میرے ساتھ سکون سے بات کر سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ مجھ سے اگر کوئی بات کر بھی لیتے ہیں تو وہ اسی لیے ہوتی ہے، لیکن ان کی پرائیویسی کا خیال رکھا جاتا ہے اور ان کی عزت اور ان کی رائے کو پہلے رکھا جاتا ہے۔‘