سبیاساچی مکھرجی: مشہور فیشن ڈیزائنر مدھیہ پردیش کے وزیرِ داخلہ کے نشانے پر کیوں؟

    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی

انڈین فیشن ڈیزائنر سبیاساچی مکھرجی کے کام کے مداح انڈیا ہو یا پاکستان ہر جگہ موجود ہیں لیکن ان میں کم از کم مدھیہ پردیش کے وزیرِ داخلہ نروتم مشرا شامل نہیں ہیں جن کی تنقید اور انتباہ کے بعد ڈیزائنر کو اپنا ایک اشتہار واپس لینا پڑا۔

اس واقعے کو انڈیا میں ہندو دائیں بازو کی عدم برداشت کی ایک اور مثال قرار دیا جا رہا ہے اور حال ہی میں ایسے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سبیاساچی کے اس اشتہار میں شادی شدہ خواتین کے لیے روایتی ہندو ہار ’منگل سوتر‘ پہنے ہوئے خواتین اور مردوں کی مباشرت کی تصویریں دکھائی گئی تھیں جس کی وجہ سے دائیں بازو کے حامی مشتعل ہیں۔

چند سوشل میڈیا صارفین نے اسے ’ہندو ثقافت کے خلاف‘ قرار دیتے ہوئے ’فحش‘ کا نام دیا۔ جواباً کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ ’اُن کے اشتہار کا مقصد جشن منانا تھا اور ہمیں اس بات کا شدید دکھ ہے کہ اس سے ہمارے معاشرے کا ایک طبقہ ناراض ہے۔ اس لیے سبیاساچی نے اس مہم کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

اس تنازع کی شروعات اتوار کو مشرا کی جانب سے سبیاساچی کو 24 گھنٹے کے اندر اشتہار واپس لینے کی دھمکی دینے کے بعد ہوئی۔ انھوں نے منگل سوتر کے تصویر کشی کو ’قابل اعتراض اور فحش‘ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اشتہار واپس لیا جائے ورنہ گرفتاری کے لیے تیار رہیں۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مشرا نے کہا تھا کہ ’میں نے اس طرح کے اشتہارات کے بارے میں پہلے بھی خبردار کیا تھا۔ میں ذاتی طور پر ڈیزائنر سبیاساچی مکھرجی کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کر رہا ہوں۔ اگر یہ قابل اعتراض اور فحش اشتہار واپس نہ لیا گیا تو مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کارروائی کے لیے پولیس فورس بھیجی جائے گی۔‘

سبیاساچی کی جانب سے اشتہار واپس لینے کے بعد انھوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ 'سبیاساچی مکھرجی نے میری پوسٹ کے بعد قابل اعتراض اشتہار واپس لے لیا ہے۔ اگر انھوں نے ایسی بات دہرائی تو براہ راست کارروائی کی جائے گی، کوئی وارننگ نہیں دی جائے گی۔ میں ان سے اور ان جیسے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ لوگوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔‘

اس مسئلے پر سوشل میڈیا پر متضاد آرا سامنے آئیں۔

مشرا کی بازگشت کرتے ہوئے دیپیکا بھاردواج نے لکھا کہ ’میں غیر ضروری غصہ کرنے والوں میں سے نہیں ہوں اور میں اس میں مذہب کو بھی نہیں لانا چاہتی لیکن اگر اسے صرف ایک اشتہار کے طور پر بھی دیکھیں تو یہ گھٹیا، گندا اور بُرا ہے۔ منگل سوتر مقدس ہے۔ یہ کوئی عام زیور نہیں ہے۔۔۔ یہ ’ووک‘ لوگ فن کے نام پر کچھ بھی کرتے ہیں۔‘

کچھ صارف نے سبیاساچی کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تو کچھ نے قانونی کارروائی کی اپیل بھی کی۔

پریتم راؤ نے لکھا کہ سبیاساچی کا بائیکاٹ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ انھوں نے لکھا کہ ’درحقیقت یہ برانڈ کافی مہنگا ہوتا ہے اور بہت کم ہی لوگ اسے خرید سکتے ہیں۔ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں اس پر متعدد مقدمات درج کیے جائیں۔‘

آشوتوش دوبے کے ٹویٹ میں ان کے مطالبے کا جواب تھا۔ انھوں نے لکھا کہ انھوں نے سبیاساچی مکھرجی کو منگل سوتر اشتہار کے لیے 'نیم برہنہ ماڈلز‘ کے استعمال کے حوالے سے قانونی نوٹس جاری کیا ہے کیونکہ 'منگل سوتر' مقدس ہندو شادی کا حصہ ہے۔ اس نے مقدس ہندو شادی (منگل سوتر) کا مذاق اڑایا ہے۔‘

لیکن انڈین سوشل میڈیا پر صرف سبیاساچی کے مخالف ہی موجود نہیں بلکہ کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ چند سال پہلے حالات ایسے نہیں تھے۔

ہم آہنگی اور عدم رواداری کی حد میں کمی کا حوالہ سے دو اشتہارات شیئر کرتے ہوئے پامسٹیز نے لکھا کہ '90 کی دہائی بہتر تھی، ہے نا؟ مثلا جب ہم بڑے ہو رہے تھے تب پہلی تصویر قابل قبول تھی اور دوسری تصویر ہمارے بالغ ہونے تک ناگوار ہو چکی ہے۔‘

انڈیا کو بےروزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل کا سامنا ہے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت تاریخی بلندی پر ہے۔ انھیں مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے سورو داس لکھتے ہیں کہ ’آج مدھیہ پردیش میں پٹرول 121 روپے اور ڈیزل 110 روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ مرکزی حکومت کو بھول جائیے، ریاستی حکومت کی بھی ترجیحات سبیاساچی، فلم کی شوٹنگ، کروا چوتھ کا اشتہار، چوڑیاں بیچنے والے کے لیے مشکلات پیدا کرنا ہے۔

شریمی ورما طنزیہ انداز میں لکھتی ہیں کہ ’سبیاساچی یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شادی شدہ ہندو خواتین کے جنسی تعلقات ہوتے ہیں۔ ایسا کہنے کی ہمت کیسے کی انہوں نے؟‘

سبیاساچی تازہ ترین انڈین برانڈ ہے جو گزشتہ سال ڈابر اور زیورات کی برانڈ تنشق اور رواں سال کپڑوں کے برانڈ فیب انڈیا کے بعد دائیں بازو کے حامیوں کی طرف سے آن لائن ٹرولنگ اور دھمکی کا شکار ہوا ہے۔

اسی ہفتے ڈابر نے کروا چوتھ پر مبنی ایک اشتہار واپس لے لیا جو کہ شمولیت، مساوات اور شادی کے متعلق ایک ترقی پسند نظریہ کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا لیکن سخت ردعمل کا شکار ہوا۔ اس معاملے میں بھی مذکورہ بالا وزیر نروتم مشرا کی جانب سے سخت ردعمل آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

مشرا کی تنقید کی وجہ ڈابر اشتہار میں 'کروا چوتھ منانے والے ہم جنس پرست' تھے۔ انھوں کہا تھا کہ ’مستقبل میں وہ دو مردوں کو پھیرے لگاتے ہوئے دکھائیں گے۔‘

ڈابر پر حملہ کے چند دن بعد فیب انڈیا کو ’جشن رواج‘ نام سے اشتہار جاری کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ اس میں اُردو کے محاورات کو فروغ دیا گیا تھا۔

یہی نہیں بلکہ ٹائر بنانے والی کمپنی سیئیٹ کو بھی ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا جب ریاست کرناٹک سے بی جے پی کے رکن پارلیامان اننت کمار ہیگڑے نے 'ہندو مخالف' پیغام، جس میں دیوالی کے پٹاخے سڑک پر نہیں پھوڑنے کی اپیل کی گئی تھی، کے لیے برانڈ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔