آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
احمد فراز: سید احمد شاہ کی زندگی کا سفر، ان کے فرزند اور قریبی ساتھیوں کی یادوں کے ذریعے
- مصنف, محمد اسرار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
نوٹ: یہ تحریر 25 اگست 2021 کو شائع کی گئی تھی اور اسے قارئین کی دلچسپی کے پیش نظر دوبارہ شیئر کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں 1980 اور 1990 کی دہائی میں 'ہالیڈے ان' ہوٹل کی لابی میں شام کی چائے پر اکثر ایک محفل سجا کرتی تھی۔ ہوٹل کے استقبالیہ ڈیسک کے عین سامنے کچھ صوفے لگے تھے جہاں بیٹھے مہمانوں کو ہوٹل کے اپنے ریستوران سے چائے اور دیگر لوازمات پیش کیے جاتے۔
یہ کونا کئی سالوں تک ایک شخصیت سے منسوب رہا اور یہاں سجنے والی محفل کی صدارت کرنے والی شخصیت کے نام سے مقبول ہوا۔
یہ تھا اسلام آباد کا گوشہ فراز، جہاں سید احمد شاہ المعروف احمد فراز اپنے دوست احباب اور ادبی دنیا کے بڑے بڑے ناموں کے ساتھ بے تکلف گفتگو کرتے دیکھے جا سکتے تھے۔
آج احمد فراز کو ہم سے بچھڑے ہوئے 13 برس بیت گئے ہیں۔ اب نہ وہ گوشہ فراز ہے اور نہ ہی وہ ہوٹل (اس کا نام اور محلِ وقوع خاصا تبدیل ہو چکا ہے) لیکن فراز کی یادیں اب بھی ان کے ساتھیوں کی دلوں میں تازہ ہیں۔
بی بی سی نے ان کی تیرہویں برسی کے موقع پر ان کے فرزند اور کچھ قریبی ساتھیوں سے فراز کی یادوں کے حوالے سے بات چیت کی تاکہ دورِ حاضر کے قارئین کو بھی ان زندگی کی ایک جھلک مل سکے۔
بیٹے کی یادیں
احمد فراز کے صاحبزادے شبلی فراز آج کل پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت میں وزیر ہیں اور ان سے ہماری ملاقات بھی ان کے دفتر میں ہی ہوئی۔
'یہ سیاسی عہدے، وزیر ہونا اور اس کے علاوہ جو بھی میرے کیریئر میں گزرا، یا جس بھی دُنیاوی بلندی تک میں گیا، میں کچھ بھی کر لوں اُن جیسا نہیں بن سکا۔' یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھیں نم تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق احمد فراز نے 'بھرپور زندگی گزاری۔' وہ خوش لباس تھے اور بڑھی ہوئی داڑھی اور میلے کپڑوں والے شاعروں کے اس تصور سے بہت دور تھے۔
'وہ ایک پریکٹیکل انسان تھے۔ ہم نے کبھی ان کو بڑھی ہوئی داڑھی کے ساتھ نہیں دیکھا تھا۔ رات کو چاہے تین بجے بھی گھر آتے لیکن صبح جلدی اٹھتے، ورزش کرتے، تیار ہوتے اور پھر نکلتے تھے۔'
شبلی فراز نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے دادا بھی فارسی میں شاعری کرتے تھے اور فراز کی تربیت کا آغاز چھوٹی عمر میں ان کے گھر سے ہی ہوا تھا۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک پرانے انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کو اپنا لکھا ہوا پہلا شعر یاد ہے تو فراز نے بتایا: 'ہاں یاد ہے، اس لیے کہ بہت بچپن کا واقعہ ہے اس لیے بھول نہیں سکتا۔'
انھوں نے بتایا کہ وہ اس وقت نویں یا دسویں جماعت میں پڑھتے تھے۔
'میرے بڑے بھائی محمود دسویں سے کالج میں داخل ہوئے تھے تو والد صاحب ہمارے لیے کچھ کپڑے لائے تھے۔ اس کے لیے تو سوٹ لائے اور میرے لیے کشمیرے کا پیس کوٹ کے لیے لے آئے، تو وہ مجھے بالکل کمبل سا لگا۔ چیک تھا، آج کل تو بہت فیشن ہے لیکن اس وقت وہ مجھے کمبل سا لگا اور میں نے ایک شعر لکھا جو یہ تھا:
سب کے واسطے لائے ہیں کپڑے سیل سے
لائے ہیں میرے لیے قیدی کا کمبل جیل سے
شبلی فراز کے مطابق ان کا اپنے والد سے رشتہ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا رہتا۔ 'جب بچے تھے تو بہت پیار کرتے تھے، پھر ذرا بڑے ہونے کو آئے تو انھوں نے سختی بھی کی اور جب ہم برسرِ روز گار ہو گئے تو یہ رشتہ دوستی میں بدل گیا۔'
’وہ کبھی مجبور نہیں کرتے تھے کہ یہ کام آپ نے کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا لیکن وہ یہ ضرور کہتے تھے کہ بیٹا، جس شعبے میں بھی جاؤ، اپنا نام بناؤ۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم ان کے نام سے نہیں بلکہ اپنے نام سے پہچانے جائیں۔‘
شبلی فراز کے مطابق ان کے والد بےخوف اور نڈر شخص تھے۔ ’میں نے کبھی ان کو گھبرایا ہوا نہیں دیکھا۔ ان کی جو سوچ تھی، وہ جو سمجھتے تھے، وہی کرتے تھے۔ انھیں اپنے آپ پر پورا بھروسہ تھا۔ ان کو کئی جگہوں پر پریشانی بھی ہوئی، تکلیفیں بھی اٹھانی پڑیں لیکن وہ ثابت قدم رہے۔‘
اس بات کا ذکر وہ اپنی شاعری میں بھی کرتے ہیں:
میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
میرا قلم عدالت میرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا زباں تیر کی ہے
ادبی حلقوں کا گہوارہ
حسن عباس رضا احمد فراز کے قریبی ساتھی تھے اور ایک جانے مانے شاعر بھی جن کا کلام ’آوارگی میں حد سے گزر جانا چاہیے‘ کس نے نہیں سن رکھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ اسلام آباد کے ہالیڈے ان ہوٹل میں محفلیں سجا کرتی تھی۔ ’ہوٹل کی طرف سے گوشہ فراز کے نام سے ایک جگہ مقرر کر دی گئی تھی جہاں پر فراز صاحب شام کے وقت آیا کرتے تھے اور یہاں پر ادیبوں اور شعرا کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔‘
حسن عباس کے بقول اس کے علاوہ سرفراز اقبال اور ثروت محی الدین کے ہاں بھی کبھی کبھار محفلیں منعقد ہوا کرتی تھیں۔ ’آپ ان کو ایک مہمان خانہ کہہ لیں، وہاں فیض صاحب، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، مشتاق احمد یوسفی اور بے شمار لوگ آیا کرتے تھے۔‘
احمد فراز جب بھی لاہور جاتے تو وہ کشور ناہید کے گھر ہی رکتے کیونکہ کشور ناہید کے خاوند یوسف کامران سے ان کی کافی دوستی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے کشور ناہید بتاتی ہیں کہ جب فراز وارد ہوتے تو ان کے لاہور کے باقی دوست بھی وہیں آ جاتے تھے۔
’ان ملاقاتوں میں سنجیدہ باتیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ وہ مذاق بھی کرتا تھا اور قصہ گوئی بھی۔ مذاق میں فراز کا کوئی ثانی نہیں تھا، کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔‘
کشور ناہید نے بتایا کہ حبیب جالب کی احمد فراز سے بڑی بنتی تھی۔ ’دونوں فقرے بازی کرتے تھے۔ تاش کھیلنے بیٹھتے تو لاکھوں کروڑوں ہار جاتے اور پھر جیت بھی لیتے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے پتے بھی دیکھتے تھے۔‘
حِس مزاح
شبلی فراز کے مطابق ان کے والد کافی مشکلات سے گزرے لیکن ساتھ ہی وہ ہنسی مذاق اس طرح کرتے تھے کہ ’ہم ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ایک دن ان کے والد سے کوئی ملنے آیا۔ احمد فراز باہر نکلے تو علیک سلیک کے بعد ایک شخص نے فوراً ہی تیز لہجے میں ان سے کہا: 'فراز صاحب، کلمہ سنائیں۔'
کوئی اور ہوتا تو اس سوال پر بوکھلا جاتا لیکن فراز نے جھٹ سے جواب دیا ’کیوں؟ کلمہ بدل گیا ہے کیا؟‘
کشور ناہید بتاتی ہیں کہ ایک بار فراز کسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے تو کچھ دوست ان سے ملنے چلے گئے۔ ہوٹل پہنچ کر خواتین نے فراز سے فرمائش کی کہ کھانے کو سینڈوچ منگوا لیے جائیں۔ ’فراز نے فوراً فون اٹھایا اور کہا سینڈ بھیج دیں، وچز (یعنی چڑیلیں) یہیں موجود ہیں۔‘
حسن عباس رضا بتاتے ہیں کہ ایک دن فلم اداکارہ بابرہ شریف ان سے ملنے آئیں۔ ’فراز صاحب نے مجھے بھی بلا لیا۔ ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے تو بابرہ شریف نے فراز صاحب سے کہا کہ آپ کا آٹو گراف لینا ہے لیکن میرے پاس بک نہیں ہے، تو آپ ہاتھ پر آٹو گراف دے دیجیے۔‘
’اس پر فراز صاحب نے کہا ہاتھ پر نہیں، میں تو گال پر دوں گا۔ اس پر بابرہ شریف اور فراز صاحب دونوں ہنس دیے۔‘
سینیئر صحافی مشکور علی آج کل نیشنل پریس کلب اسلام آباد کی ادبی کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک بار انھوں نے فراز صاحب سے ان اشعار کے بارے میں پوچھا جو ان کے تو نہیں لیکن ان کے نام سے منسوب ہیں:
ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکاں ہے کچھ تو خیال کر
وہ بتاتے ہیں کہ فراز صاحب کہنے لگے، ’مشکور یار، تم تو کچھ خیال کرو۔‘
ایک اور یادگار واقعہ اس وقت پیش آیا جب چند خواتین فراز کا آٹو گراف مانگنے ہالیڈے ان میں ان کے گوشے تک آئیں۔
انھوں نے آٹوگراف کے لیے پرس سے 100 روپے کا نوٹ نکالا اور ساتھ میں اسی شعر کی فرمائش کی لیکن جب فراز نے بتایا کہ یہ تو ان کا شعر ہی نہیں ہے تو وہ بھی دنگ رہ گئیں۔ مشکور کے مطابق فراز نے انھیں کوئی اور شعر لکھ کر دے دیا۔
'محاصرہ' اور مزاحمتی شاعری
شاعر اور سماجی کارکن حارث خلیق کے مطابق فراز کی شاعری میں ایک ارتقا دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے مطابق ’فراز نے اساتذہ سے بہت اکتساب کیا جس کی جھلک ان کے ہاں آپ کو جا بجا نظر آتی ہے۔
میر سے لے کر غالب اور اس کے بعد فیض، راشد اور جوش ملیح آبادی، ان سب کا فراز صاحب کے ہاں عکس نظر آتا ہے۔ ’وہ روایت سے جڑے شاعر تھے۔‘
حارث کے مطابق مزاحمتی شاعری کی طرف ان کا رجحان پاکستان کے سیاسی حالات کی وجہ سے بڑھا اور وہ ایک رومانوی شاعر سے انقلابی شاعر بنے۔ ’اردو شاعری اور ترقی پسند تحریک میں رومان اور انقلاب کا امتزاج ہوا اور لوگوں نے انقلاب کو اپنے محبوب کی طرح سے دیکھنا شروع کیا۔ میرے خیال میں فراز بھی اسی روایت کے شاعر تھے۔‘
شبلی فراز کے مطابق اس دور کے جو واقعات تھے، جو حالات تھے اور جو لوگوں کا درد تھا، تہ سب چیزیں شاعری کرتے وقت فراز کے دل میں ہوتی تھیں۔ ’وہ انسان سے بہت محبت کرتے تھے اور اُنھیں اپنے ملک پاکستان سے شدید پیار تھا۔ وہ ایک مکمل شاعر تھے جو کسی بھی حالت میں سمجھوتہ نہیں کرتے تھے، چاہے رومانس کی بات ہو یا ارد گرد کی دنیا کی۔‘
کراچی کے ایک مشاعرے کا حوالہ دیتے ہوئے کشور ناہید بتاتی ہیں کہ مشاعرہ ہو رہا تھا اور احمد فراز نے وہاں پر اپنی نظمیں پڑھیں۔
’مشاعرہ صبح کے وقت ہو رہا تھا۔ جب تقریب ختم ہوئی تو پولیس آئی اور فراز کو کراچی چھوڑنے کا کہا۔ اگلے روز ہی انھیں کراچی سے روانہ کر دیا گیا۔
’اسلام آباد پہنچنے کے بعد وہ بہت بددل ہوئے اور اس وقت انھوں نے اس وقت محاصرہ لکھی۔ اس کے بعد وہ چھ سال تک ملک بدر رہے۔‘
کشور ناہید کے مطابق ملک بدری کے عرصے میں لندن میں قیام کے دوران انھوں نے کئی غیر ملکی شعرا کے کلام کے ترجمے کیے۔ اس طرح ان کے کینوس میں بھی وسعت آئی۔ ان کے مطابق اس زمانے میں فراز اردو کے سب سے مشہور شاعر تھے۔
’فراز نے سرکار کی نوکری کرنے کے باوجود سرکار کی چاپلوسی نہیں کی، اسی وجہ سے انھیں جلا وطن رہنا پڑا۔ دوسری بات یہ ہے کہ فراز نے چمچہ گیری بھی کبھی نہیں کی۔
مزید پڑھیے
آخری ایام
شبلی فراز بتاتے ہیں کہ ان کے والد تنہائی سے گھبراتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ جیل میں گزرنے والا وقت ان کے لیے خاصا تکلیف دہ تھا۔
’میں نے ان ایک بار ان سے کہا کہ میری اسلام آباد سے باہر کچھ زمین ہے، میں آپ کو فارم ہاؤس بنا دیتا ہوں۔ اُنھوں نے کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، میں لوگوں کے درمیان ہی رہنا چاہتا ہوں۔‘
اپنے والد کے آخری ایام کا ذکر کرتے ہوئے ان کے فرزند نے بتایا کہ وہ پاکستان میں کسی دوست سے ملے تو اُنھوں نے والد صاحب کی خیریت دریافت کی۔ ’جب میں نے کہا کہ وہ ٹھیک ہیں تو وہ آگے سے کہنے لگے میں نے تو سنا ہے وہ امریکہ میں بیمار ہیں۔‘
یہ جان کر انھوں نے فوراً امریکہ رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ فراز ویزے کے سلسلے میں کینیڈا کے سفارت خانے گئے تھے اور پارکنگ میں لڑکھڑا کر گر گئے، جس سے ان کے گھٹنے اور سر پر چوٹیں آئیں۔
ان کے مطابق گھٹنے پر لگنے والا زخم زیادہ شدید تھا اور اس میں انفیکشن ہو گیا۔ اس کے بعد انھیں دل کا دورہ بھی پڑا۔
’سچ کہوں تو میری ان سے آخری بات نہ ہوسکی۔ میں جب پہنچا تو ان کو آکسیجن لگی ہوئی تھی۔‘
شبلی فراز کے مطابق انھیں اتنا معلوم تھا کہ فراز اپنے آخری دن پاکستان میں گزارنا چاہتے تھے اور اسی لیے وہ انھیں اپنے ساتھ واپس لے آئے۔ اپنی زندگی کے آخری 24 دن انھوں نے اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں گزارے۔
’آخری دنوں میں، میں ان سے آنکھوں کے اشاروں اور مسکراہٹ کے ذریعے بات چیت کرتا تھا۔‘