آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشور کمار: جب آل انڈیا ریڈیو سے کشور کمار کے گیت بجنے بند ہو گئے
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، دہلی
یہ تحریر بی بی سی پر پہلی مرتبہ سات اگست 2020 کو شائع ہوئی تھی جسے کشور کمار کے یوم پیدائش(چار اگست 1929) کی مناسبت سے آج دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔
انڈیا کے معروف اداکار اور پلے بیک سنگر کشور کمار کا ایک مشہور قصہ ہے کہ وہ اداکار بننے کے لیے کھنڈوا سے بمبئی آئے تھے۔ اس وقت ان کے بڑے بھائی اشوک کمار بمبئی فلم انڈسٹری کے سرکردہ اداکار تھے۔
ایک بار وہ اپنے بھائی اشوک کمار کے بمبئی ٹاکیز کے دفتر گئے۔ اس دفتر کے احاطے میں وہ سہگل کا ایک گیت گنگنا رہے تھے کہ اسی درمیان معروف موسیقار کھیم چند پرکاش فلم 'ضدی' کی دھنوں پر کام کرنے کے بعد وقفے کے لیے باہر نکل آئے۔
انھوں نے جب کشور کو گنگناتے ہوئے سنا تو انھیں اندر آنے اور ملنے کے لیے کہا۔ جب کشور اندر آئے تو ان کے سامنے ہارمونیم رکھا اور انھیں وہ گیت گانے کے لیے کہا جو وہ باہر گنگنا رہے تھے۔
تھوڑی دیر سننے کے بعد انھوں نے کشور کو یہ پیشکش کی کہ کیا وہ ان کی 'ضدی' کے لیے گائیں گے۔
کشور فوراً تیار ہو گئے۔ جس دن ریکارڈنگ تھی کھیم چند نے اشوک کمار اور فلم کے ہیرو دیوآنند کو کشور کمار کو سننے کے لیے بلا بھیجا۔ کشور کا گانا پہلے ہی دن اوکے کیا گیا۔ یہ سنہ 1948 کی بات ہے۔
نوشاد اور سی رام چندر کی بھول
لیکن کشور کمار صرف کھیم چند کے اسسٹنٹ رہے اور موسیقار نوشاد سے وہ عزت حاصل نہیں کر سکے۔
کشور کمار کے پلے بیک کیریئر کے ابتدائی 27 سالوں میں نوشاد نے ایک بار بھی ان کی آواز نہیں لی جبکہ کشور کمار کی دلی خواہش تھی کہ وہ نوشاد کے لیے گیت گائيں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آخر کار کشور کے سپر سنگنگ سٹار بننے کے پانچ سال بعد سنہ 1974 میں نوشاد نے کشور کمار کے لیے فلم 'سنہرا سنسار' میں ایک گیت کی پیشکش کی اور وہ بھی آشا بھوسلے کے ساتھ ایک دوگانا تھا۔
اسی طرح مشہور موسیقار سی رام چندر نے اپنی فلم ’ساجن‘ میں کشور کمار کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ میں ایسے شخص پر اپنا وقت کیوں ضائع کروں جو فلم موسیقی اور گانوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔
لیکن نوشاد اور سی رام چندر کے برعکس موسیقار سچن دیو برمن نے کشور کی صلاحیتوں کو سنہ 1952 میں ہی پہچان لیا تھا۔
بمبئی ٹاکیز کے دفتر میں گیت گنگنانے والے کشور کمار کے بارے مین اپنے بیٹے پنچم کو بتاتے ہوئے انھوں نے کہا تھا: 'یہ دادا مونی کا چھوٹا بھائی آبھاس ہے۔ تھوڑا سا خبطی ہے، لیکن اس میں بہت ٹیلنٹ ہے۔ آنے والے دنوں میں تم اس کے بارے میں بہت کچھ سنوگے۔'
لیکن کشور کمار کے لیے آواز ہیمنت کمار نے دی
کشور کمار کو بمبئی فلم انڈسٹری میں اپنے قدم جمانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑا۔ سنہ 1954 میں فلم ساز بمل رائے نے کشور کمار کو بطور اداکار فلم 'نوکری' میں سائن کیا۔ کشور یہ سمجھ رہے تھے کہ فلم کے گانے بھی وہ گائیں گے۔
لیکن وہ یہ جان کر دنگ رہ گئے کہ کمپوزر سلیل چودھری نے ان کی آواز کے لیے ہیمنت کمار کو منتخب کیا ہے۔
معروف صحافی راجو بھارتن اپنی کتاب 'اے جرنی ڈاون میلوڈی لین' میں لکھتے ہیں: 'جیسے ہی کشور کو اس کا علم ہوا وہ سلیل کے میوزک روم میں گئے اور ان سے پوچھا کہ انھیں اپنی فلم میں گانے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی؟'
سلیل کا جواب تھا: 'میں نے تمہیں پہلے کبھی گاتے ہوئے نہیں سنا۔' حیران کشور نے کہا: 'سلیل دا، کم از کم اب آپ مجھے گاتے ہوئے سن سکتے ہیں۔' جیسے ہی کشور نے گانا شروع کیا سلیل چودھری نے انھیں روک دیا اور کہا 'آپ موسیقی کی اے بی سی بھی نہیں جانتے، آپ جا سکتے ہیں۔ ہیمنت کمار آپ کے لیے گائے گا۔' کشور کمار اپنا معاملہ فلم پروڈیوسر بمل رائے کے پاس لے گئے۔
'انھوں نے مداخلت کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: 'موسیقی سلیل چودھری کا شعبہ ہے۔ میرے میوزک ڈائریکٹر فیصلہ کرتے ہیں کہ گانا کون گائے گا۔' کشور پھر اپنے دو ریکارڈوں کے ساتھ سلیل چودھری کے پاس گئے لیکن انھوں نے ان کی ایک نہیں سنی اور آخر میں ہیمنت کمار نے کشور کمار کو اپنی آواز دی۔'
سلیل چوہدری اور منا ڈے کشور کمار کے مداح بنے
17 سال بعد سنہ 1971 میں بالآخر سلیل چودھری نے گلزار کی فلم 'میرے اپنے' میں کشور کمار کا مشہور گانا 'کوئی ہوتا جسکو اپنا ہم اپنا کہہ لیتے یارو' گانے کے لیے کہا۔
سلیل چودھری نے خود بعد میں اعتراف کیا: 'میں اس لڑکے کی صلاحیت کو پہچاننے پر کھیم چند کو سلام کرتا ہوں۔ میں اتفاق کرتا ہوں کہ ہم سب نے کشور کی صلاحیتوں کو پہچاننے میں غلطی کی۔'
کشور کمار نے کبھی کلاسیکل گانے کی کوئی تربیت نہیں لی۔
لیکن اس کے باوجود ہندی سنیما میں کلاسیکل گانے کے تجربہ کار اور سنہ 2005 میں پدم بھوشن اور 2007 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ حاصل کرنے والے گلوکار منا ڈے نے اپنی سوانح عمری 'میموریز کم الائیو: این آٹوبایوگرافی' میں اعتراف کیا: 'مجھے کلاسیکل موسیقی سے نابلد کشور کمار کے ساتھ گانے میں گھبراہٹ ہوتی تھی۔'
'ان کے گانے کا ایک خاص انداز تھا جو کلاسیکی موسیقی کی باریکیوں پر اثر انداز ہوتا تھا اور ان کے ساتھ دوگانا گانے والے ساتھی گلوکاروں کو کوفت میں ڈال دیتا تھا۔ جب میں نے فلم 'امیر غریب' میں ان کے ساتھ 'میرے پیالے میں شراب ڈال دے' گایا تو میں نے اس بات کو صاف صاف محسوس کیا۔'
کشور کمار دیوانند اور راجیش کھنہ کی آواز بنے
فلم ساز اور اداکار دیوآنند نے شروع سے ہی کشور کمار کی آواز کو اپنے لیے منتخب کیا۔ وہ اپنی سوانح عمری 'رومانسنگ ود لائف' میں لکھتے ہیں: 'جب بھی مجھے ضرورت ہوتی کہ کشور میرے لیے گائيں تو وہ ریکارڈنگ سٹوڈیو میں مائیکروفون کے سامنے دیوانند کا کردار نبھانے کے لیے تیار رہتے۔
'وہ ہمیشہ مجھ سے پوچھتے کہ میں اس گانے کو سکرین پر کیسے گاؤں گا؟ پھر وہ خود کو ڈھال لیتے اور اس کے مطابق گانا ریکارڈ کراتے۔ میں ہمیشہ ان سے کہتا کہ جتنا ہو لہک کر اسے گائیں۔ میں آپ کے گانے کا مزاج کو اپنی اداکاری کو ڈھالوں گا۔'
سنہ 1969 میں فلم 'ارادھنا' کی ریلیز کے بعد کشور راجیش کھنہ کی آواز بھی بن گئے۔
کشور کمار کی سوانح لکھنے والے ششی کانت کنیکر لکھتے ہیں: 'کشور نے 'ارادھنا' کے پروڈیوسر ڈائریکٹر شکتی سامنت سے کہا کہ وہ گانے کی ریکارڈنگ سے پہلے راجیش کھنہ سے ملنا چاہیں گے۔
'جب وہ راجیش کھنہ سے ملے تو انھوں نے ان کے ہر انداز کا مطالعہ کیا تاکہ ان کے کردار کو گانوں کے ذریعے پیش کیا جا سکے۔
'راجیش کھنہ نے بعد میں اعتراف کیا کہ ان گانوں کی شوٹنگ کے دوران انھیں احساس ہوا کہ وہ خود یہ گانے گا رہے ہیں نہ کہ کشور کمار۔ان کے دو گانے 'میرے سپنو کی رانی' اور 'روپ تیرا مستانہ' اس فلم میں شامل تھے جس نے راجیش کھنہ اور کشور کمار دونوں کو نیشنل 'ریج' بنا دیا۔'
سچن دیو برمن اور کشور کمار ٹیوننگ
سچن دیو برمن یعنی ایس ڈی برمن کی موسیقی کی ہدایت نے کشور کمار کے گانے کو سب سے زیادہ نکھارا۔ ان کے بیٹے آر ڈی برمن نے ایک بار ایک انٹرویو میں کہا تھا: 'دادا کشور کو ریکارڈنگ سے تین دن پہلے اس کی دھنوں کو سپول ٹیپ میں بھیجتے تھے۔
'وہ اپنے سٹڈی روم میں ان دھنوں پر ریاض کرتے۔ کسی کو بھی اس کے کمرے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی اور ریاض کے دوران ان کا کمرہ اندر سے بند رہتا تھا۔ کشور اس دھن پر پریکٹس کے بعد ریکارڈنگ سٹوڈیو میں داخل ہوتے۔'
ایس ڈی برمن کو یاد کرتے ہوئے ایک بار کشور کمار نے بھی کہا تھا: 'ایس ڈی برمن کی ایک عجیب عادت تھی، وہ اپنے گلوکاروں کو فون کرتے تھے اور ان کی آواز سننے کے بعد بغیر بات کیے فون رکھ دیتے تھے۔
'یہ ان کا اپنے گلوکار کے گلے کی حالت چیک کرنے کا اپنا طریقہ تھا۔ ایک دن رات دیر گئے انھوں نے مجھے فون پر 'کورا کاغذ تھا یہ من میرا' کی دھن سنائی۔ ہم دونوں جلدی سوجاتے اور صبح سویرے اٹھ جاتے۔
'اس دن دادا نے میری آواز سن کر فون بند نہیں کیا، بلکہ مجھ سے وہ گانا گانے کو کہا۔ مجھے زوروں کی نیند آ رہی تھی۔ انھیں گانا سناتے وقت بھی میں جمائیاں لے رہا تھا۔ لیکن پوری طرح مطمئن ہو جانے کے بعد ہی مجھے دوبارہ سونے کی اجازت دی گئی۔'
کشور کمار کی حرکتوں سے لتا منگیشکر پریشان ہو جاتی تھیں
ایک بار لتا منگیشکر سے پوچھا گیا کہ آپ کو کس کے ساتھ دوگانا گانے میں سب سے زیادہ مزہ آیا تو انھوں نے کشور کمار کا نام لیا۔ لیکن انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ انھیں کشور کے ساتھ گانے میں بہت پریشانی ہوتی تھی۔
لتا نے کہا: 'گانے کے دوران ان کا موسیقی اور گانے کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن جس طرح وہ ہنساتے اس سے پیٹ میں درد ہوجاتا، اسے سنبھالنا مشکل تھا۔ چاہے آپ کتنے ہی سنجیدہ کیوں نہ ہوں، جب آپ گیت کے بند میں کوئی تان لے رہے ہوں کہ کشور دا ایسے احمقانہ اشارے کردیتے جو آپ کی توجہ گانے سے ہٹا دیتا۔
'کبھی کبھی ہم گانے کو بیچ میں روک کر ان سے منتیں کرتے کہ دادا پہلے گانے کو پرسکون طریقے سے ریکارڈ کریں، پھر یہ سب کریں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ چاہے وہ کتنا ہی اچھل کود اور مذاق کر رہے ہوں، وہ خود ان سب سے باہر رہ کر سنجیدہ طور پر گاتے تھے۔
غیر مرئی لڑکے سے گفتگو
فلمی گائیکی سے وابستہ ہر شخص کے پاس کشور کمار سے متعلق کہانیاں ہیں۔ آشا بھوسلے کہتی ہیں 'کشور دا اکثر ایک ایسے لڑکے کے ساتھ ریکارڈنگ کے لیے آتے تھے جو نظر نہیں آتا تھا۔
'وہ مسلسل اس سے باتیں کرتے، لطیفے سناتے اور اونچی آواز میں ہنستے۔ کبھی کبھی وہ مجھے بھی اپنی گفتگو میں شامل ہونے کی دعوت دیتے۔ یہ ذرا عجیب ہوتا تھا لیکن ہم سب کا پورا انٹرٹینمنٹ ہوتا تھا۔'
اسی طرح کی کہانی آر ڈی برمن بیان کرتے ہیں: 'میں نے کشور کمار کو بمبئی ٹاکیز کے دفتر میں دیکھا ضرور تھا لیکن سنہ 1952 میں پہلی بار ان سے ملا۔ ایک دن میرے والد مجھے کاردار اسٹوڈیو لے گئے جہاں ان کا گانا ریکارڈ کیا جا رہا تھا۔
'جب ہم مرکزی دروازے سے داخل ہوئے تو میں نے ایک شخص کو کرتہ پاجامہ اور گلے میں مفلر پہنے احاطے کی دیوار پر بیٹھا دیکھا۔ میرے والد نے مجھے بتایا کہ یہ شخص مجھے بہت پریشان کرتا ہے۔ وہ یہ کہتے ہوئے سٹوڈیو کے اندر چلے گئے۔
'میں کشور کمار کے پاس رکا اور ان سے پوچھا کہ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟ اس کا فوری جواب تھا، 'میں کاردار صاحب کی نقل کر رہا ہوں۔' جب میں نے ان کا نام پوچھا تو انھوں نے اپنی ٹانگ زور سے دباتے ہوئے جواب دیا 'کشور کمار کھنڈوا والا۔' اسی دوران ان کا ایک جوتا نیچے گر گیا۔
'میں نے وہ جوتا اٹھا کر انھیں دے دیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ اشوک کمار کے بھائی ہیں، اس کا جواب تھا— ہاں، اور اسی وجہ سے کوئی مجھے کام نہیں دیتا۔ پھر وہ اشوک کمار اور میرے والد کی نقل کرنے لگے۔ انھیں دیکھ کر ہنستے ہنستے میرے پیٹ میں بل پڑگئے۔
بڑھیا کھالے کرارے گجک'
کشور کمار کے سوانح نگار ڈیریک بوس نے اپنی کتاب 'کشور کمار میتھڈ ان میڈنس' میں ان سے متعلق کچھ اور کہانیاں بتاتے ہیں۔
'وہ اپنے باغ میں درختوں سے باتیں کرتے تھے۔ انھوں نے ان کا باقاعدہ نام جناردن، رگھنندن، بدھو رام، گنگادھر وغیرہ رکھا ہوا تھا۔ انھوں نے اپنے گھر کے پچھواڑے جھولے ڈال رکھے تھے اور وہ ان پر بچوں کی طرح جھولا کرتے تھے۔'
یہ بھی پڑھیے
امیت کھنہ نے ایک بار کشور کمار کو اتوار کی دوپہر بیٹری سے چلنے والے کھلونوں کے درمیان بیٹھے دیکھا، جسے انھوں نے بیک وقت آن کر رکھا تھا۔ جب بھی وہ اپنے کسی قریبی سے ملتے تو ان کا پہلا جملہ ہوتا 'بڑھیا کھالے کرارے گجک'، اب جو چاہے اس کا جو مطلب نکالے۔'
کتا بن کر او پی رلہن کے ہاتھ پر کاٹ لیا
او پی رلہن بھی ایک قصہ سناتے تھے کہ کس طرح 1959 میں 'شرارت' کی شوٹنگ کے دوران کشور کمار نے انھیں تقریبا پاگل بنا دیا تھا۔
'ایک دن کشور شوٹنگ کے لیے سیٹ پر نہیں پہنچے۔ پریشان ہو کر میں نے ان کے گھر جا کر انھیں اپنے ساتھ لانے کا فیصلہ کیا۔ جب میں ان کے گھر پہنچا تو وہ وہاں موجود تھے لیکن انھوں نے کتے کی طرح گلے میں پٹا باندھ رکھا تھا۔
'ان کے سامنے ایک پلیٹ تھی جس میں ایک چپاتی رکھی ہوئی تھی۔ ان کے آگے پانی کا ایک پیالہ بھی تھا۔ ایک بورڈ بھی رکھا ہوا تھا جس پر لکھا تھا 'کتے کو پریشان مت کرو'۔ جب میں نے انھیں شوٹ پر چلنے کو کہا تو وہ کتے کی طرح غرانے لگے۔
'جب میں نے جس طرح کتے کے سر پر پھیرتے ہیں ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو انھوں نے میرا ہاتھ کاٹ کھایا۔ پھر وہ کتے کی طرح بھونکتے رہا یہاں تک کہ انھوں نے مجھے گیٹ سے باہر کر دیا۔'
کشور کے دوستوں اور قریبی لوگوں نے بتایا کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتے جن سے وہ ملنا نہیں چاہتے تھے، خاص طور پر وہ لوگ جو انھیں ان کے پیسے نہیں دے رہے تھے۔
ستیہ جیت رے کو 5000 روپے دیے
کشور کمار کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اپنے پیسوں کو بہت سنبھال کر رکھتے تھے۔
لیکن گیت نگار سمیر بتاتے ہیں کہ 'انھوں نے بغیر اجرت کے ان کے والد انجان کے لیے کم از کم 10 گانے گائے۔ مجھے یاد ہے کئی بار انھوں نے میرے والد کو اپنی گاڑی میں گھر چھوڑا، جب ہمارے پاس گاڑی خریدنے کے پیسے نہیں تھے۔'
'جب انھوں نے 'چلتی کا نام گاڑی' فلم بنائی تو میرے والد سے اپنے گانے لکھنے کو کہا اور انھیں مارکیٹ ریٹ سے زیادہ رقم ادا کی۔
مشہور فلم ساز اور ڈائریکٹر ستیہ جیت رے جب 'پتھیر پنچالی' بنا رہے تھے تو کشور کمار نے انھیں 5000 روپے دے کر ان کی مدد کی۔ انھوں نے رے کی فلم 'چارولتا' کے لیے دو گانے بھی گائے اور کوئی معاوضہ نہیں لیا۔
کشور کمار کے نغموں پر پابندی
سنہ 1975 میں ایمرجنسی کے دوران سنجے گاندھی نے بمبئی سے مشہور فلم سازوں کو میوزیکل نائٹ میں شرکت کے لیے مدعو کیا تھا۔
بہت سے لوگ دہلی گئے تھے لیکن کشور کمار نے نہ صرف دعوت کو ٹھکرا دیا بلکہ یہ بھی نہیں بتایا کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا۔
ششی کانت کنیکر کشور کمار کی سوانح عمری میں لکھتے ہیں: 'سنجے گاندھی نے اسے اپنی ذاتی توہین سمجھا اور اطلاعات و نشریات کے وزیر ودیاچرن شکلا کو فون کیا اور بتایا کہ کشور کے گانے کسی بھی سرکاری مواصلاتی نیٹ ورک پر نہیں چلائے جانے چاہئیں۔
'نتیجہ یہ ہوا کہ کشور کمار کے گانے آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونا بند ہو گئے۔ اس کے علاوہ وہ فلمیں جن میں کشور کمار نے گایا تھا سنسربورڈ نے سرٹیفیکیشن سے انکار کر دیا۔'
آٹھ فلم فیئر ایوارڈ
کشور کمار کو مجموعی طور پر 27 بار فلم فیئر کے بہترین گلوکار ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔ اس میں سے آٹھ بار انھیں یہ ایوارڈ ملا۔
کلاسیکی موسیقی کی تربیت نہ ہونے کے باوجود انھوں نے سنہ 1981 میں راگ شیورنجنی میں جس طرح 'میرے نینا ساون بھادو' اور راگ یمن میں لطیف انداز میں 'چھو کر میرے من کو' گایا اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔
کشور کمار کی فلمی زندگی کے میوزیکل سفر کو سنہ 1977 کی فلم 'انورودھ' کے اس گیت سے واضح کیا جا سکتا ہے۔
آپ کے انورودھ (گزارش) پر
میں یہ گیت سناتا ہوں
اپنے دل کی باتوں سے
آپ کا دل بہلاتا ہوں
آپ کے انورودھ پر۔۔۔