آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ریحانہ کی کسان احتجاج پر ٹویٹ کے خلاف بالی ووڈ شخصیات اور انڈین کھلاڑی متحد: ’انڈیا اپنے خلاف تبصرے برداشت نہیں کرے گا‘
امریکی گلوکارہ ریحانہ کی انڈیا میں کسان احتجاج کے بارے میں ٹویٹ نے تو جیسے انڈیا کے سوشل میڈیا پر کہرام برپا کر دیا ہے اور اس پر آنے والا ردعمل 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود ابھی بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔
عام شہری تو ایک طرف اب بالی ووڈ شخصیات بھی سوشل میڈیا پر جذبہ حب الوطنی میں سرشار اپنی حکومت کے حق میں سرگرم نظر آ رہی ہیں۔
#IndiaTogether اور #IndiaAgainstPropaganda کا استعمال کرتے ہوئے کوئی انڈیا کے خلاف تبصرے کرنے والوں کو خبردار کرتا دکھائی دے رہا ہے تو کوئی انڈیا کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے کی صلاح دے رہا ہے۔
اور صرف بالی وڈ نہیں بلکہ انڈیا میں کھیلوں، خاص طور پر کرکٹ سے وابستہ کئی شخصیات بھی اس بارے میں بات کر رہی ہیں۔
اور جب بالی ووڈ کی بات ہو اور کنگنا رناوت کا ذکر نہ آئے یہ کیسے ممکن ہے۔ کنگنا نے ریحانہ کو نہ صرف جواب دیا بلکہ ان کی اور اپنی تصویریں شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’رائٹ ونگ کی رول ماڈل بمقابلہ لیفٹ ونگ کی رول ماڈل۔ میں اپنا معامہ یہاں چھوڑتی ہوں۔‘
کنگنا کی اس ٹویٹ کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا اور کئی صارفین نے انھیں ان کی فلموں سے نیم برہنہ مناظر کی تصویریں شیئر کر کے تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گلوگارہ لتا نے لکھا: ’انڈیا ایک شاندار قوم ہے اور ہم سب انڈین اپنے سر بلند کیے کھڑے ہیں۔ ایک بافخر انڈین ہونے کی حیثیت سے مجھے اس بات پر پورا یقین ہے کہ اس ملک کو جن بھی مسائل کا سامنا ہے، اپنے لوگوں کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم انھیں حل کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔‘
سنیل سیٹھی نے لکھا: ’ہمیں چیزوں کا ہمیشہ جامع جائزہ لینا چاہیے اور آدھے سچ سے زیادہ خطرناک کچھ نہیں۔‘
موسیقار کیلاش کھیر نے لکھا: ’وبا کے اس اداس دور میں انڈیا انسانیت کے ناطے کئی ملکوں کو ویکسین فراہم کر رہا ہے۔ ہمیں اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ انڈیا متحد ہے اور اپنے خلاف تبصرے برداشت نہیں کرے گا۔‘
واضح رہے کہ ریحانہ کی ٹویٹ کے بعد ماحولیاتی تبدیلی کی نوجوان کارکن گریٹا تھنبرگ، امریکہ نائب صدر کی بھانجی مینا ہیرس اور سابق پورن سٹار میا خلیفہ نے بھی انڈین کسانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا تھا۔
اداکار اجے دیوگن نے لکھا: ’انڈیا یا اس کی پالیسیوں کے خلاف کسی غلط پروپگینڈے کا حصہ نہ بنیں، اس وقت بغیر کسی لڑائی کے متحد کھڑے رہنا اہم ہے۔‘
صرف انڈیا ہی نہیں بلکہ پاکستان سے صارفین نے بھی کنگنا کی اس ٹویٹ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سماجی کارکن طوبیٰ سعید نے لکھا: ’کنگنا کا فین ہونا اور کنگنا کو ناپسند کرنے میں سب کے لیے ایک سبق ہے اگر کوئی اس پر توجہ دے۔‘
دوسری جانب اس موقع پر اپنے ملک سے محبت اور وفاداری کا ثبوت دیتے کئی انڈین کھلاڑی بھی سوشل میڈیا پر متحرک نظر آئے۔
سچن تندولکر نے لکھا: ’انڈیا کی خود مختاری پر کبھی بھروسہ نہیں کیا جائے گا۔ بیرونی طاقتیں تماشائی ہو سکتی ہیں حصے دار نہیں۔ انڈین شہری انڈیا کو جانتے ہیں اور انڈیا کے بارے میں فیصلہ بھی انھیں ہی کرنا چاہیے۔‘
انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی پرگیان اوجھا نے ریحانہ کی ٹویٹ کے جواب میں لکھا: ’میرے ملک کو کسانوں پر فخر ہے اور ہمیں علم ہے کہ کسان کتنے اہم ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جلد اس معاملے کا حل تلاش کیا جائے گا۔ ہمیں اپنے اندرونی معاملات میں باہر سے کسی شخص کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔‘
انڈین کپتان وراٹ کوہلی بھی اس موقع پر انڈین قوم کو متحد رہنے کی درخواست کرتے ہوئے دکھائی دیے۔
انھوں نے لکھا: ’اختلاف کے اس وقت میں آئیے سب متحد رہتے ہیں۔ کسان ہمارے ملک کا اہم حصہ ہیں اور مجھے یقین ہے کہ امن قائم کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے تمام فریقین کے مابین ایک پر امن حل تلاش کر لیا جائے گا۔‘