آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بالی وڈ ڈائری: دیا مرزا کو انڈسٹری سے کیا شکایت ہے، تیمور علی خان پریشان کیوں اور سنی دیول کسانوں کے احتجاج پر کیا کہہ رہے ہیں؟
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
سنہ 2001 میں فلم ’رہنا ہے تیرے دل میں‘ سے اپنے فنی کریئر کا آغاز کرنے والی اداکارہ دیا مرزا کو انڈین فلم انڈسٹری میں بیس برس پورے ہونے والے ہیں۔ ہیروئن کے کرداروں کے ساتھ ساتھ دیا مرزا متعدد فلموں میں مہمان اداکار کے طور پر بھی نظر آئی ہیں۔
روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کے ساتھ بات چیت میں دیا کا کہنا تھا کہ بالی ووڈ ہمیشہ سے مردوں کے غلبے والی انڈسٹری رہی ہے جہاں ایک 50 برس سے زیادہ عمر کا ہیرو 19 برس کی ہیروئن کے ساتھ رومانس کرتا نظر آتا ہے تاکہ اس کی شیلف لائف برقرار رہے۔
دیا کا یہ بھی کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ بڑی عمر کی ہیروئنز کے لیے کہانیاں لکھی ہی نہیں جاتیں جبکہ عمر دراز ہیروز کے لیے بے شمار کہانیاں لکھی جا رہی ہیں۔ تاہم دیا مرزا کا خیال تھا کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے سبب اداکاراؤں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور وہ امید کرتی ہیں کہ اس پلیٹ فارم پر بڑی عمر کی اداکاراوں کو اچھی کہانیاں ملیں گی جس میں ان کا مرکزی کردار ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے
یہ کسی حد تک درست ہے کہ شوبز میں خواتین کے ایک خاص عمر تک پہنچنے کے بعد انھیں ہیروئن کے کردار آفر نہیں کیے جاتے جبکہ ہیرو کے کردار کے لیے عمر کی کوئی بندش نہیں تاہم یہ بھی کسی حد تک درست ہے کہ عورتوں کے مرکزی کردار والی فلمیں بنائی بھی گئی ہیں اور بہت کامیاب بھی رہی ہیں چاہے وہ سری دیوی کی انگلش ونگلش ہو یا رانی مکھرجی کی مردانی سیریز۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سوال یہ بھی ہے کہ لوگ کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہاں سوال یا قصور صرف انڈسٹری کا نہیں معاشرے کا بھی کہا جا سکتا ہے، جہاں اپنے سے آدھی عمر کی جوان اور خوبصورت لڑکیوں کے ساتھ رومانس کرتے ہیروز کی فلمیں باکس آفس پر اربوں روپے کماتی ہیں۔
جہاں تک او ٹی ٹی پلیٹ فارم کا تعلق ہے اس کے آنے کے بعد سے اب ایک طرح سے سٹار ڈم کی تشریح ہی بدلنے لگی ہے۔ یہاں ریلیز ہونے والی فلمیں پسند بھی کی جا رہی ہیں اور ان فلموں یا سیریز میں جس طرح کا ٹیلنٹ سامنے آ رہا ہے اس سے نہ صرف انڈسٹری کی شکل بلکہ معنی ہی بدلتے نظر آ رہے ہیں۔
ننھے تیمور نے فوٹو گرافرز کو دیکھ کر اپنی لات کیوں لہرائی؟
پیدا ہوتے ہی میڈیا کی توجہ کا مرکز بننے والے تیمور علی خان کے ماں باپ سیف اور کرینہ کے ساتھ ساتھ ان کی بلڈنگ میں رہنے والے لوگ بھی تیمور کا پیچھا کرنے والے میڈیا اور فوٹوگرافروں سے پریشان تھے لیکن لگتا ہے کہ اب تیمور بھی اس مسلسل توجہ سے گھبرا گئے ہیں۔
اس ہفتے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں تیمور اپنی والدہ کرینہ کپور کے ساتھ کہیں جا رہے ہیں اور گاڑی سے اترتے ہی میڈیا کی جانب دیکھتے ہوئے تیمور نے زور سے کہا ’نو فوٹوز۔‘
اتنا ہی نہیں چہرے پر ماسک پہنے تیمور کو جب ان کی والدہ کرینہ کھینچتے ہوئے بلڈنگ کے اندر لے جا رہی تھیں تو تیمور نے پلٹ کر فوٹو گرافرز کی جانب دیکھتے ہوئے اپنی لات بھی لہرائی۔
سیف اور کرینہ کئی انٹرویوز میں اس بات پر وضاحت دے چکے ہیں کہ مسلسل پیچھا کرتے فوٹو گرافرز کئی مرتبہ ان کے لیے مشکلات پیدا کر دیتے ہیں چاہے وہ تیمور کا سکول ہو یا پھر وہ بلڈنگ جس میں وہ رہتے ہیں کیونکہ ان کے پڑوسی بھی اس وجہ سے کافی ناراض ہیں۔
روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں سیف علی خان نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ تیمور بہت پیارا بچہ ہے، لوگ اس سے بہت محبت کرتے ہیں اور اس کی تصاویر دیکھنا چاہتے ہیں لیکن کئی بار تیمور بھی اس ہجوم اور ہنگامے سے پریشان ہوتا ہے اور جھنجلا جاتا ہے۔
انھوں نے میڈیا سے درخواست بھی کی کہ کہیں کچھ رعایت بھی دیا کریں۔ اب 20 دسمبر کو تیمور کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر یہ دیکھنا ہے کہ میڈیا انھیں آخر کتنی رعایت دیتا ہے۔
سنی دیول کی کسانوں کے احتجاج میں انٹری
ڈھائی کلو کے ہاتھ سے کھمبا اکھاڑنے والے سنی پاجی یعنی اداکار سنی دیول کو ان کی حفاظت کے لیے وائی کیٹگری کی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔
منجھے ہوئے اداکار اور نئے نئے سیاستدان سنی دیول اب کسانوں کے احتجاج کے دوران متنازع فارم قوانین پر حکومت کی حمایت کے ساتھ اکھاڑے میں کود پڑے اور آجکل دو کمانڈوز سمیت گیارہ پولیس اہلکار ان کی حفاظت پر معمور ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان سنی دیول نے فارم قوانین کی حمایت کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا تھا کہ ’میں پوری دنیا سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ یہ معاملہ کسانوں اور حکومت کے درمیان طے ہونا چاہیے لیکن کچھ لوگ اشتعال انگیزی کرتے ہوئے صورتِحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں ان کا اپنا ایجنڈا ہے۔‘
اس کے بعد ایک اور ٹویٹ میں سنی نے کہا کہ ان کے لیے وائی کیٹگری کی سکیورٹی کی منظوری جولائی میں ہی مل چکی تھی اور کسانوں کے احتجاج پر ان کے کمنٹس سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں۔
بہرحال کسانوں کے احتجاج پر بھی بالی ووڈ منقسم نظر آتا ہے۔ بالی ووڈ کی کچھ بڑی ہستیوں کے ساتھ ساتھ زیادہ تر پنجابی فنکار اس احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ مخالفین میں بالی وڈ کی جھانسی کی رانی کنگنا رناوت سب سے آگے نظر آ رہی ہیں۔