آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
'ایک جھوٹی لو سٹوری' کی اداکارہ مدیحہ امام: 'مرد اُف تک نہ کرے، یہ کہاں کا انصاف ہے'
- مصنف, ثمرہ فاطمہ
- عہدہ, بی بی سی اردو، لندن
'ذرا خود سوچیے کہ کیا یہ بات عجیب نہیں لگتی کہ کیوں کسی مرد سے کہا جاتا ہے کہ 'آپ تو مرد ہیں، آپ کیسے رو سکتے ہیں؟'
یہ سوال ہے پاکستانی اداکارہ مدیحہ امام کا جن کے بقول 'کتنی سنگ دلانہ بات ہے کہ کسی انسان کو اگر تکلیف ہو تو وہ صرف اس لیے اسے چھپا جائے کہ اس کی جنسی شناخت خواتین سے مختلف ہے۔‘
اصل میں بات شروع ہوئی تھی مدیحہ امام کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی ویب سیریز 'ایک جھوٹی لو سٹوری' کی مقبولیت سے اور گفتگو کا سلسلہ ان لوگوں کی بات تک آ پہنچا جو ہماری زندگی کے ہر اہم فیصلے میں، ہر اہم لمحے میں اور یہاں تک ہمارے بچوں کے مستقبل کے بڑے فیصلوں میں بھی سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کا ہمیں ہر گھڑی خوف لگا رہتا ہے کہ 'لوگ کیا کہیں گے۔‘
ہدایت کار مہرین جبار کی نئی ویب سیریز 'ایک جھوٹی لو سٹوری' میں مدیحہ کا کردار ان تین بہنوں میں سے 'چھوٹی' کا ہے جن کے والدین کی سب سے بڑی فکر ان کی شادیاں کرنا ہے۔ والدین کی فکر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لڑکیاں لائق اور تعلیم یافتہ ہیں، ایسے میں ان کے لیے اچھے رشتے ملنا مشکل ہو سکتا ہے۔
لیکن آخر ایسا کیوں ہے کہ جو چیزیں کسی انسان کی خوبیوں میں شمار ہونی چاہیے وہ ہی اس کے مستقبل کے رشتے کے راستے اکثر محدود کر دیتی ہیں؟
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
طاقت کی کشمکش
مدیحہ امام کا خیال ہے کہ پاکستانی معاشرے میں شادی بیاہ کے معاملے میں آج بھی کئی ایسے عناصر اہم کردار ادا کر رہے ہیں جو اپنی پسند کا اختیار لڑکیوں اور لڑکوں سے چھین لیتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’کبھی لڑکی کی عمر مسئلہ پیدا کر دیتی ہے تو کبھی اس کا زیادہ تعلیم یافتہ ہونا مصیبت بن جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر لڑکا خوبصورت اور خوب سیرت، دونوں ہو، لیکن لڑکی سے تعلیم میں کم ہو، تو خود گھبرانے لگتا ہے کہ لڑکی مجھ سے زیادہ پڑھی لکھی ہے۔ بعض معاملوں میں خود لڑکی کو لگنے لگتا ہے کہ میرا شوہر مجھ سے کم پڑھا لکھا کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ طاقت کی کشمکش کا معاملہ ہے جو مسلسل ہمارے فیصلوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ خوف ہونا بہت غلط ہے کہ زیادہ پڑھی لکھی لڑکی ہو گی تو اس کے پاس زیادہ طاقت چلی جائے گی۔‘
مدیحہ امام کہتی ہیں کہ اس قسم کے مسائل سے صرف لڑکیاں ہی دو چار نہیں بلکہ لڑکوں کو بھی یہی احساس دلایا جاتا ہے کہ اگر کوئی لڑکی 'تم سے زیادہ عقلمند یا پڑھی لکھی ہے تو اس کا اور تمہارا جوڑ نہیں ہے۔ ایسے میں بےچارہ کیا کرے؟ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ میں اس قسم کی لڑکی کا ہاتھ کبھی نہیں تھام سکوں گا جو سماجی یا معاشی اعتبار سے مجھ سے بہتر ہو۔‘
’لوگ کیا کہیں گے‘
تو کیا اوپر کہی جانے والی تمام باتوں سے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ لوگوں کی پرواہ کرنا فضول ہے؟
مدیحہ کا خیال ہے کہ یہ سوچنا غلط نہیں ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ وہ کہتی ہیں 'اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ایک حساس شخص ہیں جسے ہمسائیوں اور رشتہ داروں کے خیالات اور احساسات کی قدر ہے۔
لیکن اگر وہ ایسی باتیں کر رہے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہ ہو، کوئی مقصد نہیں ہو، تو اسے فوری طور پر اپنے ذہن سے نکال دینا چاہیے۔ ان سے بات کیجیے اور وجہ جانیے اور بتائیے تاکہ آپ کے آس پاس معاشرے میں بھی لوگ بیدار ہوں۔ آپ کو وہ شخص بننا ہو گا جو اپنی عقل استعمال کرتا ہے۔ سماجی اعتبار سے حساس ہونا اچھا ہے، لیکن اس سے صحیح اور غلط کے بارے میں فرق نہیں مٹنا چاہیے۔'
مدیحہ امام کا تعلق پاکستان کے شہر کراچی سے ہے۔ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہیں کہ ان کے والدین نے ان کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا اختیار دیا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے والدین نے ان کو صرف یہ نہیں کہہ دیا کہ یہ صحیح ہے اور وہ غلط بلکہ یہ بھی بتایا کہ کسی چیز کو صحیح اور غلط سمجھنے کی وجہ کیا ہے۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ بدقسمتی سے معاشرے میں ایسے لوگوں کی شرح بہت کم ہے جو اس طرح سوچتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 'ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ان باتوں کے بارے میں غور کر کے انھیں سمجھ کر اور ان سے متاثر ہوئے بغیر انھیں حل کرنے اور تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔‘
'مردوں کو شکایت کا حق نہ دینا غیر حساس رویہ ہے'
اس بات سے بھی مدیحہ امام متفق ہیں کہ معاشرے میں عام طور پر کسی مرد کی سب سے بڑی خوبی یا 'مردانگی' کا اندازہ اس کی تکلیف برداشت کرنے کی قوت سے لگایا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بغیر شکایت ہر قسم کی ذمہ داریاں اٹھانا اس کے لیے لازمی ہو جاتا ہے۔
لیکن مدیحہ امام کی نظر میں یہ انسانیت کے خلاف ہے کہ مردوں سے شکایت کرنے یا تکلیف میں رونے کا انسانی حق یہ کہہ کر چھین لیا جائے کہ 'تم مرد ہو تم شکایت کیسے کر سکتے ہو۔'
وہ کہتی ہیں کہ 'کسی بھی رشتے کی بنیاد جن باتوں پر ہوتی ہے ہم اکثر مردوں کو ان ہی سے محروم کر دیتے ہیں۔ باہر سے رشتہ دیکھ کر لگتا ہے کہ واہ واہ کیا بات ہے، لیکن اندر ان کے ساتھ ظلم اور تشدد ہو رہا ہوتا ہے۔ تشدد صرف جسمانی نہیں ہوتا، آپ اگر کھل کر ہنس نہیں پا رہے، آپ خوش نہیں ہو پا رہے، تو یہ سب اخلاقی اعتبار سے تشدد ہے۔ آپ نے ایک انسان کی زندگی کو صرف ذمہ داریوں کے نام کر دیا اور وہ اُف تک نہ کرے، یہ کہاں کا انصاف ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ 'یہ وہ تمام باتیں ہیں جو معاشرے میں عام ہیں اور جو سماجی اخلاقیات کے ایسے عجیب سے اصولوں کی وجہ سے ہم پر دباوٴ ڈالتی ہیں جو اصل میں ہم نے خود اپنے لیے بنائے ہوئے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں ’ہم معاشرے میں جس دباوٴ کو محسوس کر کے فیصلے لیتے ہیں وہ خود ہمارا بُنا ہوا جال ہیں۔ اس جال میں پھنس کر ہم یہ طے کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہمارے لیے کیا صحیح ہے کیا نہیں۔ یہ چیزیں چلتی چلی جا رہی ہیں۔ ہم سوچتے ہیں بھئی یہ تو سماج ہے، سماج میں ہی ہمیں رہنا ہے، زندگی گزارنی ہے، تو اب بس ایسے ہی چلے گا۔۔۔یہ سوچنا غلط ہے کیوں کہ سماج کوئی اور نہیں ہم ہیں۔'
'کام مشکل ہے، لیکن کرنا پڑے گا'
مدیحہ امام کہتی ہیں 'فلموں اور ڈراموں میں ہم جو کہانیاں دیکھتے ہیں وہ سماج کی عکاسی کرتی ہیں۔ اسی طرح پردے پر دکھائی جانے والی کہانیوں کا اثر ہماری اصل زندگی پر پڑتا ہے۔ لوگ ان کہانیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایسے میں ڈرامہ بنانے والوں پر بھی سماج میں صحیح اور غلط کے درمیاں توازن کو بنائے رکھنے کی زبردست ذمہ داری ہوتی ہے۔'
مدیحہ امام کا خیال ہے کہ 'جس طرح ہم تعریف کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اسی طرح غلطیوں پر آنے والے ردعمل کو بھی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ مجھ سے غلطی ہونے کا مطلب ہے کہ مجھے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ وہ غلطی نہ ہو۔ میری غلطی سے بہت سے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں، یعنی مجھے مستقبل میں خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔'
انھوں نے کہا کہ 'ڈرامے بنانے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ان کے مواد کا معاشرے پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے لیکن ہماری انڈسٹری میں بہت سمجھدار اور باشعور لوگ ہیں۔ جتنا زیادہ اچھا کام ہوگا اتنا زیادہ اچھا اثر پڑے گا اور آپ معاشرے میں فرق بھی دیکھیں گے۔'
وہ اس بات پر بار بار زور دیتی ہیں کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف غریبوں کے مسائل ہیں، 'معاشی اعتبار سے بہتر طبقات میں بھی یہ مسئلہ اتنا ہی بڑا ہے۔ اور معاشرے میں بہت کم لوگ ہیں جو یہ سمجھ چکے ہیں کہ رشتے نہ ملنے کے خوف سے بچوں کے مواقعے محدود کر دینا صحیح نہیں ہے۔ اس لیے وہ لوگ یہ طے کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت میں ان باتوں کو نہیں شامل کریں گے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بہت بڑی تعداد ان والدین کی ہے جنھیں خود نہیں پتا کہ زمانے کی توقعات کے دباوٴ میں آ کر وہ اپنے بچے کے ساتھ اچھا نہیں برا کر رہے ہیں۔'