آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سُشانت سنگھ راجپوت کی موت ’قتل کا معاملہ نہیں‘: آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ
آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ یعنی ایمز نے سُشانت سنگھ راجپوت کی موت کی میڈیکل رپورٹ سی بی آئی کو سونپ دی ہے جس کے مطابق اداکار کی موت موت قتل کا معاملہ نہیں ہے۔
ایمز کے فارینزک بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر سُدھیر گپتا نے بی بی سی کے نامہ نگار سلمان راوی کو بتایا کہ 'ہم نے اپنی رپورٹ کے نتائج تفتیش کرنے والے اہلکاروں کو سونپ دیے ہیں۔ یہ پھندے سے لٹک کر خود کشی کرنے کا معاملہ ہے۔ پھندے سے لٹکنے کے علاوہ جسم پر کسی قسم کے زخم موجود نہیں تھے۔ جسم یا کپڑوں پر کسی قسم کی زبردستی یا تشدد کے نشانات نہیں تھے۔'
ایمز کے اس فورینزک میڈیکل بورڈ کو سُشانت سنگھ کی موت کے معاملے کی تفتیش کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور اس میں سات ڈاکٹر شامل تھے۔
بورڈ نے سی بی آئی کو اپنی رپورٹ کے بارے میں تفصیلی طور پر مطلع کر دیا ہے۔ سُشانت سنگھ راجپوت کی موت کے معاملے کی تفتیش انڈیا کے وفاقی تفتیشی ادارہ سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن یعنی سی بی آئی کر رہی ہے۔
ڈاکٹر سدھیر گپتا نے یہ بھی بتایا کہ بامبے فورینزک سائنس لیب اور ایمز ٹیکنالوجی لیب نے اپنی تحقیق میں واضح کیا کہ جسم میں کسی قسم کے منشیات کی موجودگی بھی نہیں پائی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیس کے زیر تفتیش ہونے کے سبب میڈیکل بورڈ نے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کیا ہے۔
رواں برس 14 جون کو بالی وڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت اپنے گھر میں مردہ پائے گئے تھے۔
’تفتیش میں کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا‘
اداکار سُشانت سنگھ راجپوت کی موت کی تفتیش کے بارے میں پیر کو سی بی آئی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ معاملے کی پیشہ ورانہ طریقے سے تفتیش جاری ہے اور اس میں کسی بھی اہم پہلو کو نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔
اس بیان سے چند روز قبل اداکار کے خاندان کے وکیل وکاس سنگھ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’اداکار کا گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا‘ اور الزام عائد کیا تھا کہ سی بی آئی تحقیقات میں نرمی سے کام لے رہی ہے۔
پیر کو سی بی آئی کی جانب سے جاری کردہ بیان کو ان الزامات کے رد عمل کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
سُشانت سنگھ کے خاندان کے وکیل وکاس سنگھ نے کیا کہا تھا؟
وکاس سنگھ نے 25 ستمبر کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ 'سی بی آئی سشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خودکشی کی تفتیش میں انہیں خود کشی کے لیے ورغلانے کے معاملے کو قتل کے معاملے میں تبدیل کرنے میں وقت لگا رہی ہے، میں اس سے مایوس ہوں۔ ایمس ہسپتال کی میڈیکل ٹیم کے ایک ڈاکٹر نے مجھے بتایا تھا کہ میں نے انھیں جو تصویر بھیجی تھی وہ 200 فیصد اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ یہ موت گلا دبانے سے ہوئی تھی، خودکشی نہیں تھی۔'
حالانکہ مقامی میڈیا کے مطابق ایمس کی فورینزک ٹیم کے سربراہ سدھیر گپتا نے ان دعووں کو مسترد کیا تھا اور کہا تھا کہ 'سی بی آئی کو ابھی تک کوئی نتائج نہیں سونپے گئے ہیں۔ حتمی میٹنگ ابھی ہونی ہے۔ صرف تصویر دیکھ کر کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی ہے۔ ہمارا مشورہ واضح ہوگا اور مکمل طور پر شواہد پر مبنی ہوگا۔'
اس معاملے کی تفتیش کے دوران سامنے آنے والے منشیات کے استعمال کے معاملوں کی تفتیش نارکوٹکس کنٹرول بیورو یعنی این سی بی کر رہا ہے۔
اس دوران سُشانت کی سابقہ گرل فرینڈ اور اداکارہ ریا چکرورتی این سی بی کی حراست میں ہیں۔ انھیں 9 ستمبر کو 34 سالہ سُشانت سنگھ کے لیے منشیات کا انتظام کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اس معاملے میں جمعرات کو بالی وڈ ستاروں راکول پریت، شروتی مودی اور فیشن ڈیزائنر سیمیون کھمبٹا کو انسدادِ منشیات بیورو (این سی بی) کے سامنے طلب کیا گیا تھا۔