ایرانی موسیقار مہدی رجبیان خواتین کے ساتھ کام کرنے پر گرفتار

،تصویر کا ذریعہMehdi Rajabian
- مصنف, مارک سیویج
- عہدہ, بی بی سی، میوزک رپورٹر
ایرانی موسیقار مہدی رجبیان کا کہنا ہے کہ انھیں خاتون گلوکاراؤں اور ڈانسرز کے ساتھ کام کرنے کے الزام میں مقدمے کا سامنا ہے۔
30 سالہ موسیقار مہدی رجبیان اس سے پہلے بھی اپنی موسیقی سے متعلق معاملات کی وجہ سے دو بار جیل جا چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں ان کے تازہ ترین پراجیکٹ کی وجہ سے دو ہفتے قبل حراست میں لیا گیا تھا۔
ان کی یہ البم ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے لیکن اس میں پورے مشرق وسطیٰ سے ایسی خواتین گلوکارائیں شامل ہیں جن پر ایران میں پابندی ہے۔
ایران کی وزرات ثقافت اور مذہبی رہنمائی نے بی بی سی کی جانب سے ردعمل کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔
رجبیان کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھ کہ 'حکومت میری آواز کو دبانا چاہتی ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ میں موسیقی بنانا بند کر دوں۔'
شمالی ایران کے علاقے سری سے تعلق رکھنے والے موسیقار کا کہنا ہے کہ انھیں پولیس کی جانب سے 10 اگست کو سمن بھیجے گئے ور پھر انھیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رجبیان کا کہنا ہے کہ جج نے انھیں کہا کہ ان کے نئے البم سے 'جسم فروشی کی حوصلہ افزائی ہوگی‘۔
ان کے مطابق ان کے خاندان کی وجہ سے ان کی ضمانت ممکن ہو سکی ہے۔
'اگر میں موسیقی بناتا ہوں تو وہ میری ضمانت منسوخ کردیں گے اب مجھے فیصلے کے دن کا انتظار کرنا ہوگا۔'
ان کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو کے بعد عمل میں آئی جس کے دوران انھوں نے اپنے آئندہ آنے والے البم کا ذکر کیا تھا۔ اس البم میں ان کے ساتھ خواتین گلوکارائیں بھی فن کامظاہرہ کر رہی ہیں اور ان کی ایک ویڈیو بھی نشر ہوئی جس میں ایک ایرانی کلاسیکل رقاصہ هليا بنده ان کی موسیقی پر فن کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
Instagram پوسٹ کا اختتام

ایران کے پینل کوڈ کے مطابق اگر حکام کو لگتا ہے فنکاروں کے اقدمات 'غیر اخلاقی اور نازیبا' ہیں تو ان کے خلاف مقدمہ قائم ہو سکتا ہے۔ کاغذوں میں تو خواتین کو طائفے کی صورت یا صرف خواتین شائقین کے لیے گانے کی اجازت ہے تاہم یہ اجازت بھی شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔
اپنے فن کے لیے قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنے والے رجبیان تنہا نہیں ہیں۔ گذشتہ مئی خاتون گلوکارہ نگار معظم کو بھی سیاحوں کے ایک گروہ کے سامنے روایتی لباس میں گانا گانے پر عدالت میں طلب کیا گیا تھا۔
کچھ ماہ قبل موسیقار علی قمصری پر بھی فن کا مظاہرہ کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی کیونکہ انھوں نے اپنے ایک کنسرٹ کے دوران ایک خاتون گلوکارہ کو نہ شامل کرنے کے حکم سے انکار کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہNegar Moazzam/Instagram
رجیبان کو اپنی موسیقی کی وجہ سے دو بار جیل جانا پڑا ہے۔ پہلی بار سنہ 2013 میں انھیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر تین ماہ تک قید تنہائی میں رکھا گیا۔
دوسری بار انھیں چھ سال کی سزا ہوئی اور انھیں تہران کی بدنام زمانہ ایون جیل میں ڈال دیا گیا۔ وہاں وہ ھوک ہڑتال کرنے کے باعث ایمنسٹی انٹرنیشنل اور آزادی اظہار کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’فری میوز‘ کی توجہ حاصل کرنے کے بعد پیرول پر رہا ہو سکے۔
رجبیان کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد ان کی سرگرمیوں پر حکومت کی کڑی نگرانی رہی ہے اور وہ قریباً تنہائی کی زندگی گزار رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’کورونا وائرس کے دن میری زندگی کے معمول کے دن ہیں کیونکہ کئی برسوں سے میں اپنے گھر پر تنہا ہی ہوتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ میں چھوٹے قید خانے سے نکل کر بڑے قید خانے میں آ گیا ہوں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ان کی ساتھی فنکار ان کا ساتھ دینے سے ڈرتے ہیں۔ رواں ماہ ایک صحافی کو خواتین گلوکاراؤں اور رجبیان کی موسیقی کے بارے میں اپنے ایک آرٹیکل میں ذکر کرنے پر گرفتار کر کے ایون جیل کئی دنوں تک قید رکھا گیا۔
مہدی رجبیان کہتے ہیں کہ ’اب مجھ پر دباؤ ہے کہ میں مزید فن تخلیق نہ کروں۔ اس کا مطلب ہے مکمل موت، ان کا منصوبہ ہے کہ مجھے مکمل طور پر تباہ کیا جائے۔‘

،تصویر کا ذریعہMehdi Rajabian
تاہم اس دباؤ نے انھیں متزلزل نہیں کیا۔ گذشتہ برس انھوں نے ترکی میں سونی میوزک کے تعاون سے نیا البم جاری کیا۔
خفیہ طور پر ریکارڈ کیے گئے اس البم میں 12 ممالک کے 100 فنکاروں نے شرکت کی۔ اس میں شام، یمن، اردن ، لبنان اور عراق کے فنکار شامل تھے۔ کئی موسیقاروں کو رجیبان جیسے سزائیں ملیں۔ ایک گانا ایک فضائی حملے کے دوران ریکارڈ ہوا اور دوسرا ایک پناہ گزین کی جانب سے ایک کشتی میں۔
لیکن ان کا مشرق وسطی کے ممالک کی خواتین گلوکاراؤں (ان میں سے کوئ بھی ایران میں نہیں) کے ساتھ نیا البم کرنے کا فیصلہ تھا جس نے ایک بار پھر حکام کی توجہ حاصل کی۔
ان کا کہنا تھا ’میرا سوال یہ ہے کہ ایرانی حکومت اتنی خوفزدہ کیوں ہے۔‘
اس کا جواب ان کے خیال میں یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی فن جو سوچنے پر مجبور کرے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’وہاں صرف ایسے فن کا مطالبہ ہوتا ہے جس میں صرف تفریح ہو نہ کہ فلسفہ یا کوئی پیغام۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’میں انھیں صرف اپنے فن سے محظوظ نہیں ہونے دوں گا میں چاہتا ہوں میری موسیقی میں موجود فلسفہ اور درد انسانیت کے لیے سوُر پھونکنے کا کام کرے۔‘
’چاہے اس کے لیے مجھے سو بار قید ہونا پڑے۔ میرے پراجیکٹ میں خواتین گائیں گی، مجھے فلسفے اور سوچ کے ساتھ خاتون کا رقص بھی چاہیے۔ ‘
’جب بھی مجھے یہ موسیقی بنانے کی ضرورت محسوس ہوگی میں اسے ضرور بناؤں گا، میں خود کو سنسنر نہیں کروں گا۔‘













