بالی وڈ ڈائری: ’کسی انسان کی قدر اس کے جانے کے بعد ہی کیوں ہوتی ہے‘

سوشانت

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

انڈیا میں سوشل میڈیا پر سرگرم بھکت چین کے ساتھ شدید کشیدگی پر خاموش رہنے کے بعد ایک بار پھر جاگ اٹھے ہیں اور واپس پاکستان کے ساتھ اپنی ’محبت‘ کا اظہار کرنے لگے ہیں۔

دراصل دنیا کی سب سے بڑی میوزک کمپنیوں میں سے ایک ٹی سیریز نے اپنے یو ٹیوب چینل پر پاکستانی گلوکار عاطف اسلم کا گانا ’کتنا سونا تینو رب نے بنایا‘ اپ لوڈ کر دیا تھا، جس پر ’ٹیک ڈاؤن عاطف اسلم سانگ‘ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا اور ٹی سیریز کو دھمکیاں ملنے لگیں۔

اس کے بعد ٹی سیریز نے نہ صرف عاطف اسلم کے اس گانے کو ہٹایا بلکہ معافی مانگتے ہوئے وعدہ کیا کہ اب وہ مستقبل قریب میں کسی پاکستانی فنکار کو پروموٹ نہیں کریں گے۔ یاد رہے کہ آل انڈیا سنے ورکرز ایسوسی ایشن نے پاکستانی فنکاروں کے انڈیا میں کام کرنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

جہاں تک ٹرولز کا تعلق ہے تو اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کا معاملہ سوشل میڈیا پر ابھی تک گرم ہے۔ لوگ ڈھونڈ ڈھونڈ کر بالی ووڈ کی پرانی خبروں کو پوسٹ کر رہے ہیں اور ہر نئی پوسٹ میں کسی نہ کسی کو ٹرول کر رہے ہیں۔

ٹرولنگ کے تازہ شکار ارجن کپور ہیں۔ سوشل میڈیا جیالوں کے خیال میں انھوں نے فلم ’ہاف گرل فرینڈ‘ میں سوشانت سنگھ کی جگہ لی تھی۔ مصنف چیتن بھگت کی ایک پرانی ٹوئٹ سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ ان کے ناول ہاف گرل فرینڈ پر بنائی جانے والی فلم میں سوشانت سنگھ راجپوت مرکزی کردار میں ہوں گے۔

ارجن کپور
،تصویر کا کیپشنسوشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کے بعد ان اداکاروں کی ٹرولنگ ہو رہی ہے اُن میں ارجن کپور بھی شامل ہیں

اب سوشل میڈیا پر لوگ ارجن کپور کے خاندان کے ساتھ ساتھ ان کی ایکٹنگ کی صلاحیتوں پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔

’اقربا پروری‘ کا یہ جِن جو کبھی کنگنا رناوت نے بوتل سے باہر نکالا تھا اتنی آسانی سے بند ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک ایسا وقت ہے جب ہر کوئی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی کوشش کرتا نظر آ رہا ہے۔

اس تمام ہنگامے میں انسٹا گرام پر اداکارہ زرین خان کی ایک پوسٹ نے لوگوں کی توجہ مبذول کی ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ دنیا کو اپنی قدر و قیمت بتانے کے لیے کسی کو موت کو گلے کیوں لگانا پڑتا ہے، کسی انسان کی قدر اس کے جانے کے بعد ہی کیوں ہوتی ہے، کسی کی ذہانت یا بلند آئی کیو سطح کو ذہنی مرض کا نام کیوں دے دیا جاتا ہے، سوشل میڈیا سے آپ کی شناخت، آپ کی خوشی یا دکھ کا اندازہ کیوں لگایا جاتا ہے اور کسی کی موت کو اپنی ٹی آر پی بڑھانے کا ذریعہ کیوں بنایا جاتا ہے؟

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام

ویسے ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کسی کے مرنے کے بعد لوگ اس کی زندگی اور اس سے وابستہ حقائق کو جانے بغیر اپنی رائے کا اظہار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

سوشانت سنگھ نے جب انڈین کرکٹر مہندر سنگھ دھونی کی بائیو پک میں کام کیا تھا تب شاید سوچا بھی نہیں ہوگا کہ بہت جلد فلسماز ان کی بائیو پک بنانے کی دوڑ میں لگ جائیں گے کیونکہ ابھی ان کی موت کو کچھ ہی دن ہوئے ہیں کہ دو فلمساز ان کی زندگی پر فلم بنانے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔