آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انسٹاگرام پورن سٹارز کے اکاؤنٹ کیوں ڈیلیٹ کر رہا ہے؟
- مصنف, تھومس فیبری
- عہدہ, بی بی سی ٹرینڈنگ
رواں برس سینکڑوں پورن سٹارز اور سیکس ورکرز کے انسٹا گرام اکاؤنٹس ڈیلیٹ ہو چکے ہیں جبکہ متعدد افراد کا خیال ہے کہ ان سے عام سلیبریٹیز سے ہٹ کر سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
ایڈلٹ پرفارمرز ایکٹرز گِلڈ کی صدر ایلانا ایونز کا کہنا ہے کہ ’مجھے انسٹاگرام پر شیرن سٹون یا دوسری کسی سلیبریٹی کے طرح اپنا اکاؤنٹ چلانے کی اجازت ہونی چاہیے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنے سے میرا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا جائے گا۔‘
ایلانا ایونز ایڈلٹ سٹارز کی اس پلیٹ فارم پر موجودگی کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں۔
مِس ایونز نے ایسی 1300 فنکاروں کی فہرست بنائی ہے جن کا دعویٰ ہے کہ ان کے اکاؤنٹس کو انسٹاگرام نے ’ایپ کے معاشرتی معیار کی خلاف ورزی‘ کہہ کر ہٹا دیا ہے جبکہ انھوں نے کوئی برہنہ یا سیکس سے متعلق مواد وہاں نہیں لگایا تھا۔
مِس ایونز نے کہا ’وہ ہمارے ساتھ امتیازی سلوک اس لیے روا رکھتے ہیں کیونکہ انھیں ہمارا پیشہ پسند نہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مہم کے نتیجے میں انسٹاگرام کے نمائندوں سے جون میں ان کی ملاقات طے ہوئی جس کے بعد ہٹائے گئے اکاؤنٹس کی بحالی کے لیے اپیل کرنے کا ایک نیا نظام قائم کیا گیا۔
تاہم موسم سرما میں بات چیت رک گئی اور پورن فنکاروں کے اکاؤنٹس اب بھی بہال نہیں ہوئے ہیں۔
’یہ حرکت ناقابلِ برداشت تھی‘
مِس ایونز خاص طور پر اس وقت برہم ہوئیں جب پورن سٹار جیسیکا جیمز کے اکاؤنٹ کو ستمبر میں ان کی موت کے بعد انسٹاگرام سے ہٹا دیا گیا۔
انھوں نے کہا ’جب میں نے دیکھا کہ جیسیکا کا اکاؤنٹ بھی ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے تو میرا دل ڈوب گیا۔ یہ حرکت ناقابلِ برداشت تھی۔‘
لیکن نو لاکھ لوگوں کی جانب سے فولو کیے جانے والے اس اکاؤنٹ کو بعد میں بحال کر دیا گیا تھا۔
ایڈلٹ فنکاروں کے مطابق سنہ 2018 کے آخر میں سوشل میڈیا پر کسی ایک فرد یا مختلف افراد کی جانب سے منظم مہم چلائی گئی اور ان کے اکاؤنٹس انسٹاگرام کو رپورٹ کیے گئے جس کا مقصد صرف ان کے اکاؤنٹس کو ہٹانا تھا۔
عام طور پر اس کے بعد پیغامات میں گالی گولچ کے ذریعے ہراساں کرنے اور دھمکانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
ایک نامعلوم شخص جسے اس انڈسٹری میں 'اومد' کے نام سے جانا جاتا ہے مسلسل اس بات پر فخر کرتا ہے کہ وہ تنہا سینکڑوں اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کرانے کا ذمہ دار ہے۔
ایڈلٹ پرفارمر اور سیکس ورکرز کے حقوق کی علمبردار جِنجر بینکس کو اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے جانے کی مہم کے آغاز میں ہی نشانہ بنایا گیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’جب آپ نے اپنے اکاؤنٹ پر وقت اور قوت صرف کی ہو جس کے تین لاکھ فالوورز ہوں تو اس کے ڈیلیٹ ہونے کے بعد آپ شکست خوردہ محسوس کرتے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر آپ قوائد و ضوابط کی پابندی بھی کر رہے ہوں پھر بھی آپ کا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا جاتا ہے اور یہ بات مایوس کن ہے۔‘
مِس بینکس کہتی ہیں کہ ’سوشل میڈیا سے ایڈلٹ پرفارمرز اور سیکس ورکرز کو ہٹانے کا مطلب انھیں دیوار سے لگانے کے مترادف ہے۔ اس کا مطلب انھیں خود کو مارکیٹ کرنے کے بنیادی اور بعض اوقات واحد چینل سے محروم کرنا ہے‘۔
انھوں نے کہا ’جو لوگ ہماری شکایت کرتے ہیں وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ اس سے ہماری آمدن متاثر ہوتی ہے یا پھر انھیں اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں۔ ان کے خیال میں ہمیں یہ کام نہیں کرنا چاہیے یا پھر اس کا وجود ہی نہیں ہونا چاہیے۔‘
ٹیکنالوجی کا انقلاب
ٹیکنالوجی کے انقلاب نے پورنو گرافی کے شعبے کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے اور اس کے لیے نئے راستے کھولے ہیں اور بہت سے پورن سٹارز اور سیکس ورکرز کو ویب کیم سائٹس، سبسکرپشن سروسز اور کسٹم ویڈیو پلیٹ فارمز کے ذریعے آزادانہ طور پر کام کرنے کی سہولیات فراہم کی ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر فنکار انسٹا گرام کا استعمال اپنے آپ کو متعارف کرانے اور اپنی تشہیر کے لیے کرتے ہیں۔
ایڈلٹ پروڈکشن ہاؤسز کسی بھی منظر کے لیے کسی فرد کو کاسٹ کرنے کے لیے اس کے انسٹاگرام کے فالوورز کو دیکھتے ہیں۔
جب کسی پرفارمر کا اکاؤنٹ دیلیٹ کر دیا جاتا ہے تو اس کا اپنے مداحوں کے ساتھ رابطہ اور جو بزنس تعلقات بنائے تھے وہ ختم ہو جاتے ہیں جس سے ان کی آمدن اور گزر بسر پر خاطر خواہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
بہت سی پوسٹس میں سب کچھ کہہ دیا جاتا ہے لیکن پرفارمرز کا کہنا ہے کہ گائیڈ لائنز انتہائی مبہم اور ان کا نفاذ غیر مربوط ہیں۔
ان کا یہ دعویٰ ہے کہ معروف سیلبریٹیز کو پورن سٹار اور سیکس ورکرز کے مقابلے میں اپنے اکاؤنٹس پر زیادہ آزادی میسر ہوتی ہے اور ان پر پابندیاں نہیں لگتیں۔
جِنجر بینکس نے کہا ’میں نے انسٹا گرام پر کبھی بھی بہت زیادہ برہنہ تصاویر پوسٹ نہیں کیں۔ تاہم صرف لیگِنگز میں لی جانے والی میری تصاویر بھی بعض اوقات کسی کو اشتعال دلا سکتی ہیں اور انھیں رپورٹ کیا جا سکتا ہے۔
’ہم اس بزنس کو یہ طے کرنے کی اجازت دے رہے ہیں کہ کیا فن اور کیا پورنوگرافی ہے اور اسے بنیاد بنا کر وہ ہماری سزا کا تعین کر رہے ہیں۔‘
فیس بک کا جواب
انسٹاگرام اب فیس بک کی ملکیت ہے۔ فیس بک کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’دنیا بھر میں متنوع برادریوں کے باعث ہمیں جنسی ترغیب اور برہنہ مواد کے لیے ضوابط بنانے پڑے ہیں تاکہ یہ یقین دہانی کرائی جا سکے کہ یہ مواد سب کے لیے اور بطور خاص نوجوانوں کے لیے مناسب ہے‘۔
انھوں نے کہا ’اگر کوئی مواد ضابطے کے خلاف ہے اور اس کے خلاف ہمارے پاس شکایات آئیں تو ہم اس پر کارروائی کریں گے۔ ہم لوگوں کو فیصلے کے خلاف اپیل کا موقع دیتے ہیں اور اگر کوئی چیز غلطی سے ڈیلیٹ ہو گئی ہے تو ہم اسے بحال کر دیتے ہیں۔‘
فیس بک کی تازہ ترین گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے کہ صارف عریاں تصاویر کی فرمائش یا پیشکش نہیں کر سکتے۔ اس کے ساتھ وہ جنسی مواد، سیکس والی اِموجِیز کے استعمال کے ساتھ سیکس چیٹ، ’مقامی طور پر رائج جنسی فقرے‘ یا سلینگ جن میں کچھ جنسی عنصر موجود ہو یا اسی قسم کی دوسری بہت سی تصاویر یا مواد نہیں ڈال سکتے ہیں۔
قوائد و ضوابط لاگو کرنے کے لیے ماڈریٹرز جس تربیتی مواد کا استعمال کرتے ہیں وہ عام نہیں ہے۔
سیکس ورکرز کا کہنا ہے کہ فیس بک انصاف اور اظہار رائے کی آزادی کے مقابلے میں دنیا بھر میں زیادہ تر قدامت پسندوں کو قبول کیے جانے کی بات عام کر رہا ہے۔
ایڈلٹ انٹرٹینمنٹ پر لکھنے والے صحافی گستاوو ٹرنر اور اسی شعبے سے متعلق ایکس بی آئی زیڈ کے نیوز ایڈیٹر نے اسے ’پست ترین اخلاقی قدر‘ کہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’سلیکون ویلی میں بھی ایک کلچر ہے جو اپنے صارفین کو بچگانہ تصور کرتا ہے۔ فیس بک ایک ڈیٹنگ سروس ’کرشز‘ لانچ کر رہا ہے جبکہ اس کے سیکس چیٹ کے متعلق وہ سخت قواعد پر کاربند ہے پھر چاہے وہ دو بالغوں کی مرضی سے ہی کیوں نہ ہو۔‘
فن جال میں پھنس گیا ہے
ایڈلٹ سٹارز اور سیکس ورکرز ہی صرف اس کے متاثرین میں شامل نہیں ہیں۔ ایک مصنفہ، شاعرہ اور فنکار ریچل ریبٹ وائٹ کا کہنا ہے کہ ان کے اکاؤنٹ کو صرف اس لیے ڈیلیٹ کر دیا گیا کہ انھوں نے نیویارک میں منعقدہ ایک ایسی نمائش کی تصاویر پوسٹ کر دی تھیں جو سیکس ورک سے متعلق تھی اور اس کا انعقاد لیزلی لومین میوزیم میں کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا ’میں نے انتہائی موقر گیلری سے تاریخی حیثیت کی حامل ان تصاویر کو پوسٹ کیا تھا جس میں خواتین کی ہم جنس پرستی کی شہوت انگزیز تصاویر تھیں۔ میں نے اس بات کا خیال رکھا تھا کہ کوئی بھی تصویر ایسی نہ ہو جس میں پستان یا اندام نہانی کو دکھایا گيا ہو۔ لیکن کچھ دیر بعد میرا اکاؤنٹ غائب تھا۔'
ان کا اکاؤنٹ بعد میں بحال کر دیا گيا تھا۔
پول ڈانسر اور بلاگر ’بلاگر آن پول‘ نے رواں گرمیوں میں انسٹاگرام کی جانب سے پول ڈاسنگ ہیش ٹیگ کے خلاف اقدام کے بعد 'ایوری باڈی وِیزیبل' کی شروعات کی۔ ہیش ٹیگ پول ڈانسنگ اور فیمیل فِٹنس کا تلاش پر نتیجہ صفر آيا۔ اس کے بعد پلیٹ فارم نے معافی مانگی اور اپنی پالیسی میں تبدیلی کی۔ لیکن اب بھی وہ ایسے ہیش ٹیگ کو بلاک کرتے ہیں جس کے ذریعے ایسے مواد کو شیئر کیا جا سکے جو ان کی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرتا ہو۔
مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ اسے حد سے زیادہ سنسرشپ کہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کا سیکس ورکرز، سیکس ایجوکیٹرز اور پول ڈانس کمیونٹی پر بہت اثر پڑتا ہے۔
بلاگر آن پول کا کہنا ہے کہ ’سیلبریٹیز اپنی تصاویر ایسے پلیٹ فارمز پر رکھ سکتی ہیں لیکن ہم بِکنی میں ویڈیو بھی نہیں لگا سکتے۔ اگر آپ اپنے جسم کو ایک یا دوسری طرح سے استعمال کرتے ہیں، چاہے وہ آگاہی کے لیے ہو یا جسم کے بارے میں مثبت خیال اجاگر کرنے کے لیے، آپ ایسا اب اس لیے نہیں کر سکتے کیونکہ سوشل میڈیا کو اس طرح سے چلایا جا رہا ہے۔‘
لندن میں مقیم ایک پول ڈانسر سنڈریلا جیولز کا کہنا ہے کہ وہ انسٹاگرام کے ذریعے اپنی ’پول کے سفر‘ کو دکھاتی ہیں لیکن ان کے پہلے اکاؤنٹ کو ہٹائے جانے اور سرچ میں سے پوسٹس کے غائب ہو جانے سے ان کے کام اور خود اعتمادی پر اثر پڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو اس سے لگتا ہے کہ آپ کی حوصلہ افزائی نہیں کی جا رہی اور لوگ آپ کے پیشے کے خلاف ہیں۔‘