آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
#HamzaAliAbbasi: پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی کا شوبز چھوڑنے کا فیصلہ، سوشل میڈیا پر ملاجلا ردعمل
معروف پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی نے ایک ویڈیو پیغام میں شوبز کی دنیا چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے اور یہ ان کے مطابق ان کی زندگی کا ’سب سے بڑا فیصلہ ہے۔‘
جمعرات کو حمزہ علی عباسی نے یو ٹیوب پر 23 منٹ طویل ویڈیو ’دِہریت سے اسلام تک‘ کے نام سے شائع کی جس میں انھوں نے بچپن سے جوانی تک اپنے ایک دہائی تک چلنے والے سفر کا ذکر کیا۔
اس کے اختتام پر انھوں نے اعلان کیا کہ وہ شوبز چھوڑ رہے ہیں اور اپنی زندگی ’دین کا ادنیٰ سا طالب علم‘ بن کر گزاریں گے۔
سوشل میڈیا پر ان کے اس فیصلے سے ملاجلا رد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حمزہ علی عباسی کا کہنا تھا کہ ’میں اب علما سے سیکھوں گا، لوگوں سے سیکھوں گا اور زندگی کا دارومدار خدا، اسلام، موت اور آخرت کو بناؤں گا۔‘
انھوں نے کہا ہے کہ وہ یوٹیوب کے لیے اپنی اسی نوعیت کے ویڈیوز بناتے رہیں گے۔ ’ابھی تک صرف اتنا ہی سوچا ہے۔ آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘
سوشل میڈیا پر رد عمل
اس پیغام کے بعد سے حمزہ علی عباسی سوشل میڈیا، خصوصاً ٹوئٹر، پر ٹاپ ٹرینڈ بنے ہوئے ہیں۔
#HamzaAliAbbasi میں لوگ معروف اداکار کے فیصلے پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ جہاں کچھ لوگ ان کے پیغام سے خوش ہیں تو وہیں بعض لوگوں کے مطابق یہ محض توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
عائشہ راؤ ٹوئٹر پر لکھتی ہیں کہ ’حمزہ علی کی ویڈیو سے مجھے احساس ہوا ہے کہ خدا کے قریب ہونا کتنا ضروری ہے۔۔۔ میں فخر سے کہہ سکتی ہوں کہ اس آدمی نے مجھے متاثر کیا ہے۔‘
’آئی سٹینڈ ود کشمیر‘ کے نام سے ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ حمزہ عباسی ’ایک نمایاں ستارہ ہیں کیونکہ انھوں نے شوبز چھوڑنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب وہ اپنے کریئر کے عروج پر ہیں۔‘
تاہم علوینہ نامی سوشل میڈیا صارف پوچھتی ہیں کہ ’لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا شخص حمزہ علی عباسی کیوں ٹرینڈ کر رہا ہے؟‘
سلیم جاوید کہتے ہیں کہ ایسے ’الجھے ہوئے‘ لوگ ’شوبز کا استعمال صرف پیسے، شہرت اور نام بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ اور پھر جب یہ مقاصد پورے ہو جائیں تو شوبز کی مذمت کرتے ہیں۔ جب ان کا شوق پورا ہوجائے تو انھیں ریٹائر ہوجانا چاہیے۔‘
عمر آفتاب بٹ لکھتے ہیں کہ حمزہ علی عباسی اب ان لوگوں میں سے ہیں ’جو ایک مرتبہ پھر مسلمان بن کر پیدا ہوئے ہیں اور اب مذہب کے ٹھیکے دار ہیں۔‘
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ حمزہ علی عباسی معروف گلوکار جنید جمشید کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔
جنید جمشید پاکستان کے معروف پاپ گلوکار تھے جنھوں نے اپنے میوزک بینڈ وائٹل سائنز سے شہرت حاصل کی تھی۔ تاہم 2000 کے عشرے میں جنید جمشید گلوکاری کو خیرباد کہہ کر مذہب کی تبلیغ اور حمد و نعت سے وابستہ ہوگئے تھے۔
ایک صارف نے لکھا ’ہم آج حمزہ علی عباسی پر تنقید کر رہے ہیں۔ لیکن انھوں نے وہی کیا ہے جو پہلے جنید جمشید نے کیا تھا‘
حسن خان نامی صرف نے لکھا کہ ان کے مطابق ’حمزہ علی عباسی مستقبل کے جنید جمشید بنیں گے۔‘
تھیئٹر سے اپنے کریئر کا آغاز کرنے والے اداکار حمزہ عباسی نے مشہور ٹی وی ڈراموں 'من مائل' اور 'پیارے افضل' میں کام کیا اور ہدایت کار بلال لاشاری کی فلم 'وار' میں داد وصول کی۔
ماضی میں بھی حمزہ علی عباسی اپنے فیصلوں کی وجہ سے خبروں کی زینت بن چکے ہیں۔
رواں سال اگست میں انھوں نے نیمل خاور سے ’صرف اللہ کی رضا کے لیے‘ شادی کا اعلان کیا تھا اور ایک سادہ سی تقریب میں رشتہ ازدواج کے بندھن میں بندھ گئے تھے۔
وہ وزیراعظم عمران خان اور حکمراں جماعت تحریک انصاف کے بڑے حمایتیوں میں سے ہیں جبکہ ماضی میں وہ پاکستان میں ایک صدارتی نظام نافذ کرنے کی بھی بات کر چکے ہیں۔
حمزہ علی عباسی نے عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کی کتاب پر تنقید کی تھی جس کے بعد ریحام خان نے انھیں قانونی نوٹس بھجوایا تھا کہ اگر انھوں نے معافی نہ مانگی تو ان کے خلاف پانچ ارب روپے کا ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔ اس نوٹس کے جواب میں حمزہ علی عباسی کا کہنا تھا کہ انھوں نے بھی ریحام خان کو ہتک عزت کا نوٹس بھجوایا دیا۔ حال ہی میں پاکستان کا ایک نجی ٹی وی چینل ریحام سے ان کے خلاف نشر کیے گئے الزامات پر معافی مانگ چکا ہے۔
حمزہ علی عباسی پاکستان کے شوبز کے ان اداکاروں میں سے ہیں جو خواتین کے حقوق کی مہم ’می ٹو‘ پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے رہے ہیں۔ گذشتہ سال اپریل میں انھوں نے کہا تھا 'ایک مرد عورت کے ساتھ ہنسی مذاق کرتا ہے اور عورت کو برا لگتا ہے لیکن بااختیار ہونے یا کسی اور وجہ کی بنا پر وہ اسے عورت کی رضامندی سمجھنے لگتا ہے اور برسوں بعد وہی عورت کہتی ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے مگر مرد کو لگتا ہے کہ وہ تو رضامندی کہ ساتھ ہنسی مذاق کر رہا تھا'۔
یاد رہے کہ وہ ہدایتکار بلال لاشاری کی فلم ’دا لیجینڈ آف مولا جٹ‘ میں نظر آئیں گے۔ اس فلم میں فواد خان، ماہرہ خان اور حمائمہ ملک جیسے بڑے ستارے شامل ہیں اور یہ سنہ 1979 میں پاکستانی سنیما کی مشہور ترین فلم ’مولا جٹ‘ سے متاثر ہے۔