شو بز راؤنڈ اپ: سیف علی خان اپنی بیٹی سارہ کے بارے میں فکر مند کیوں ہیں؟

    • مصنف, نصرت جہاں
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان بالی وڈ کے افق پر چمکنے والا وہ نیا ستارہ ہے جس کے بارے میں ہر کوئی بات کر رہا ہے اور کیوں نہ کرے سارہ نے انڈسٹری میں آتے ہی دو فلمیں دی ہیں جن میں سے پہلی فلم' کیدار ناتھ' کامیاب رہی اور دوسری 'سمبا' باکس آفس پر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔

اداکاری کے علاوہ سارہ جس طرح سے میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتی ہیں وہ بھی لوگوں کو کافی متاثر کر رہا ہے۔ جس طرح سارہ میڈیا میں چھائی ہوئی ہیں اس سے ان کے پاپا سیف علی خان فکر مند ہو گئے ہیں کیونکہ میڈیا سارہ کی ہر سرگرمی پر نظر رکھنے لگا ہے۔

سوال یہ ہے کہ شو بز میں قدم رکھنے کے بعد اپنی بیٹی کا میڈیا میں اتنا ایکسپوز ہونے پر سیف اتنی فکر کیوں ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

میڈیا کی بے تحاشا کوریج کا شکار صرف سارہ ہی نہیں سیف کے سب سے چھوٹے بیٹے تیمور علی خان بھی تو ہیں جس پر سیف یا ان کی بیگم کرینہ نے کبھی لگام کسنے کی کوشش نہیں کی جبکہ سارہ بالغ ہیں اور دو فلمیں دے چکی ہیں پھر سارہ کی اتنی فکر کیوں۔؟

ویسے والدین کی فکر یا ڈانٹ بچوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہے یہ کوئی اداکار کارتک آرین سے پوچھے۔ فلم 'سونو کے ٹیٹو کے سوئٹی' سے کامیابی حاصل کرنے والے کارتک آرین کہتے ہیں کہ اپنی فلم کی کامیابی کے بعد ان کے زمین پاؤں پر رہیں اس لیے انھوں نے میڈیا سے بات کرنی بند کر دی تھی۔

اب ان کی فلم 'لکا چھپی' کا ٹریلر ریلیز ہوا ہے تو وہ میڈیا کے سامنے موجود ہیں۔ کارتک کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے ممی پاپا آج بھی انھیں ڈانٹتے ہیں یہاں تک کہ کبھی کبھی کان کے نیچے تھپڑ بھی رسید کر دیتے ہیں تاکہ ان کے پاؤں زمین پر رہیں۔ کارتک صاحب آپ کے پاؤں نہ ہوئے باز کے پر ہو گئے جنھیں باندھنا مشکل ہے۔

کرن جوہر نے آخر کار کرکٹر ہاردک پانڈیہ اور کے ایل راہل کے اس قسط پر اپنی زبان کھول ہی دی جس میں ان دونوں کرکٹرز نے خواتین کے بارے میں قابلِ اعتراض باتیں کی تھیں۔

’کافی ود کرن‘ کی اس قسط کے بعد دونوں کرکٹرز کو بی سی سی آئی نے معطل کر دیا تھا۔

کرن کہتے ہیں کہ انھوں نے ان دونوں سے وہی سوال کیے جو وہ دوسرے لوگوں سے کرتے ہیں لیکن جواب پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ اگر کرن کی بات ٹھیک ہے تو پھر اس دوران وہ ہاردک کی حوصلہ افزائی کرتے کیوں نظر آئے یا پھر انھوں نے اس کی ایڈیٹنگ کیوں نہیں کی؟ کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو انھیں ٹی آر پی کیسے ملتی اور ساتھ ہی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بے تحاشہ پبلسٹی بھی۔