کیا یہ بالی وڈ کا MeToo# لمحہ ہے؟

حال ہی میں بالی وڈ کی ایک اداکارہ تنوشری دتا نے اس وقت ایک ہلچل سی مچا دی جب انہوں نے ایک انٹرویو میں سینیئر اداکار نانا پاٹیکر پر دس سال پہلے ایک فلم کی شوٹِنگ کے دوران انہیں ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ اس انٹرویو کے بعد بالی ووڈ میں جنسی ہراس اور انڈین MeToo# جیسی موومنٹ کی باتیں ہونے لگی۔ نانا پاٹیکر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

اس انٹرویو کے بعد جب بالی ووڈ سپرسٹار امیتابھ بچن سے ان کے ردعمل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ ’نہ میں نانا ہوں اور نہ تنوشری۔ اس لیے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘

ٹوئٹر پر اس حوالے سے بحث چھڑ گئی کہ بالی وڈ کبھی اس طرح سامنے آنے والی اداکاراؤں کی حمایت میں آواز نہیں اٹھاتا۔ لیکن پھر دیکھتے ہی دیکھتے کچھ آوازیں سامنے آنے لگیں۔

شروعات صحافی جینس سکویرا نے کی۔ انہوں نے کئی ٹویٹس پر مشتمل ایک تھریڈ میں کہا کہ ’کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں کہ ایک دہائی گزر جانے کے بعد بھی آپ کے ذہن سے نہیں اترتے۔ فلم ’ہارن اوکے پلیز‘ کے دوران تنوشری دتا کے ساتھ جو ہوا وہ ایسا ہی واقعہ تھا۔ میں وہاں موجود تھی۔۔۔‘

اس کے بعد بالی وڈ کی کئی جانی پہنچانی شخصیات نے تنوشری دتا کے حق میں ٹویٹس کیں۔

سونم کپور نے لکھا، ’مجھے تنوشری دتا اور جینس پر یقین ہے۔ جینس میری دوست ہے اور نہ وہ جھوٹ بولتی ہے اور نہ ہی چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے۔ اس وقت ہم سب کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔‘

اسی طرح ٹونکل کھنہ نے، جو کہ اداکارہ رہ چکی ہیں اور اب ایک کامیاب مصنف ہیں، جینس کے ٹویٹس کے حوالے سے لکھا کہ، ’تنوشری دتا کے بارے میں رائے قائم کرنے یا ان کی تضحیک کرنے سے پہلے ایک بار یہ تھریڈ پڑھ لیں۔ ہراس اور ڈر کے بغیر کام کرنا ہر ایک شخص کا بنیادی حق ہے، اور اس بہادر عورت نے اپنی آواز بلند کرکے ہم سب کے لیے اس ہدف کو حاصل کرنے کا راستہ وضع کیا ہے۔‘

اداکاراؤں کے ساتھ ساتھ کچھ اداکاروں نے بھی تنوشری دتا کے حق میں ٹویٹس کیں۔ فرحان اختر نے بھی جینس سکویرا کے تھریڈ کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا، ’یہ تھریڈ بہت کچھ واضح کرتا ہے۔ جینس اس وقت وہاں موجود تھیں۔ دس سال پہلے جب تنوشری کا کیرئیر اس وجہ سے خطرے میں پڑ سکتا تھا، وہ چپ نہیں رہیں، اور ان کا بیان آج تک نہیں بدلا ہے۔ ان کے عزائم پر سوال اٹھانے کی جگہ ان کی ہمت کی داد دی جانی چاہیے۔‘

اور پھر انڈین ادادکارہ پریانکا چوپڑا نے بھی، جو کہ ہالی ووڈ میں بھی کافی مقبول ہیں، فرحان اختر کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے ٹویٹ کی۔

جنوبی انڈیا سے تعلق رکنے والے مقبول اداکار سدہارتھ نے ٹویٹ کیا، ’جب ایک عورت بدسلوکی کے بارے میں بات کرتی ہے، تو اس کی بات سنی جانی چاہیے۔ بھلے ہی وہ پچاس سال بعد، اس کی آخری سانسوں کے ساتھ بیان کیوں نہ کی جائے۔ اگر آپ اس طرح کی باتیں کریں کہ اس نے پہلے کیوں نہیں کہا، یا پھر اس کی بات نظرانداز کریں، تو آپ مسئلے کا حصہ ہیں۔ تحقیقات ضرور ہوگی، لیکن پہلے، اس کی بات سنیں۔ بس۔‘

اس سب کے بعد ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا تنوشری دتا کی پہل، واقعی ہالی وڈ کی طرح بالی وڈ میں بھی ایک تحریک کی شکل اختیار کرے گی یا نہیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ پہلی بار اتنے بڑے ناموں نے کھل کر انڈسٹری میں جنسی ہراس کے معاملے پر اس طرح اپنی آواز بلند کی ہے۔