آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ، سلمان خان کو ایک دن اور جیل میں گزارنا پڑے گا
جودھپور کی سیشن کورٹ نے بالی وڈ سٹار سلمان خان کی ضمانت کا فیصلہ سنیچر تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔
سلمان خان کو گذشتہ روز ہرنوں کے شکار کے معاملے میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جس کے بعد انھوں نے سیشن کورٹ میں ضمانت پر رہائی کے لیے درخواست داخل کر رکھی ہے۔
اداکار سلمان خان کے وکیل مہیش بوڑا نے بتایا کہ عدالت میں ضمانت پر بحث مکمل ہو چکی ہے۔ جج نے جوڈیشل مجسٹریٹ سے جمعرات کے فیصلے کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔ ریکارڈ دیکھنے کے بعد سلمان خان کو ضمانت پر رہا کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وہ سنیچر کو سنائیں گے۔
مہیش بوڑا نے بتایا کہ سیشن کورٹ میں انھوں نے یہ دلیل پیش کی کہ ذیلی عدالت کا جمعرات کا فیصلہ بالکل غلط ہے اور اس میں بعض گواہ ایسے پیش کیے گئے تھے جن کی گواہی ایک متعلقہ معاملے میں مسترد کر دی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ان کے موکل کا کردار اور طور طریقہ بہت اچھا رہا ہے اس لیے انھیں ضمانت پر رہائی ملنی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سرکاری وکیل نے ضمانت کی مخالفت کی اور کہا کہ کالے ہرنوں کو مارنے کا جرم بہت سنجیدہ نوعیت کا ہے اور مجرم کو ضمانت نہیں دی جانی چاہیے۔
سماعت کے دوران سلمان خان کی دونوں بہنیں ارپیتا اور الویرا عدالت میں موجود تھیں۔ سلمان خان جودھپور کی سینٹرل جیل میں ہیں۔ انہیں کب تک جیل میں رہنا ہو گا اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سیشن کورٹ ان کی ضمانت کے بارے میں کیا فیصلہ سناتا ہے۔
سلمان خان کو جمعرات کو جودھپور کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے 1998 مین راجستھان میں دو نایاب کالے ہرنوں کے شکار کے جرم یمں پانچ برس قید کی سزا دی تھی۔ فیصلے کے بعد انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا تھا۔