آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سعودی عرب میں سینیما گھروں پر عائد پابندی ختم کرنے اعلان
سعودی عرب کی حکومت کا کہنا ہے آئندہ سال کے آغاز میں عوامی سینیما گھروں پر عائد پابندی ختم کر دی جائے گی۔
سعودی وزیر برائے ثقافت و اطلاعات عواد بن صالح العوّاد کا کہنا ہے کہ ریگولیٹرز نئے سینیما گھروں کو لائسنس جاری کرنے کے طریقہ کار پر غور کر رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے العربیہ کے مطابق وزارت ثقافت و اطلاعات کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں عواد بن صالح العوّاد نے کہا ہے کہ ’امید ہے کہ آئندہ سال مارچ 2018 میں پہلا سینیما کھل جائے گا۔‘
اس فیصلے کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے ملک میں شہریوں کے لیے تفریح اور ملکی معیشت کی بہتری کے لیے فراہم کیے جانے والے مواقعوں کی سلسلے میں شروع کی گئی مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز میں سعودی عرب میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی تھی اور اگلے سال سے خواتین کے کھیلوں کے سٹیڈیمز میں جانے کی اجازت دینے کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزارت ثقافت و اطلاعات کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ 35 سال کے بعد پہلی مرتبہ ملک میں کمرشل سینیما گھروں کو کام کرنے کی اجازت دی جارہی ہے۔
بیان کے مطابق حکومت سینیما گھروں کو فوری لائسنس کے اجرا کرنے کا کام جلد شروع کرے گی۔
خیال رہے کہ سعودی ولیِ عہد محمد بن سلمان نے ملک میں کئی اصلاحات کی ہیں۔ اُن کے ویژن 2030 منصوبے کے تحت خواتین کو معاشرے میں اہم کردار، روزگار کی فراہمی اور سعودی طرز زندگی میں بہتری کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں سعودی عرب میں مختلف کنسرٹس منعقد ہوئے ہیں اور ساتھ ایک مشہور ثقافتی میلہ 'کامک کون' کا بھی انعقاد ہوا ہے۔
گذشتہ دنوں لبنانی گلوکارہ حبا تواجی کی دارالحکومت ریاض کے کنگ فہد ثقافتی مرکز میں پرفارمنس پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔
اس کے علاوہ ملک کا قومی دن منانے کی تقریب کو مخلوط رکھا گیا تھا جس میں پہلی دفعہ سعودی عرب کی سڑکوں پر لوگوں نے الیکٹرانک طرز کی موسیقی پر سڑکوں پر رقص کیا تھا۔
پچھلے ہفتے معروف یونانی موسیقار یانی نے بھی ریاض میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا تھا جہاں تقریب میں مخلوط ماحول تھا اور گانے گانے والوں میں خواتین بھی شامل تھیں۔