آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’پدماوتی‘ کی جان اور عزت ایک بار پھر خطرے میں
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بہت سے راجپوت یہ مانتے ہیں کہ رانی پدماوتی نے اپنی عزت بچانے کے لیے خود اپنی جان لی تھی اور سات سو سال بعد ایک بار پھر ان کی عزت اور جان داؤ پر ہے!
لیکن اس بار خطرے میں ہیں بے چاری اداکارہ دیپیکا پاڈوکون جنھوں نے سکرین پر پدماوتی کا کردار نبھایا ہے۔
تین راجپوت میدان میں اترے ہیں۔ ایک کی خواہش ہے کہ دیپیکا خود یہ محسوس کرسکیں کہ جلنے کا احساس کیسا ہوتا ہے، جیسا پدماوتی نے کیا تھا۔ انھوں نے انعام رکھا ہے ایک کروڑ روپے کا۔
فلم ’پدماوتی‘ سے متعلق تنازع کے بارے میں جاننے لے لیے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسرے صاحب دپپیکا اور فلم کے ڈائریکٹر سنجے لیلا بھنسالی کا سر قلم کرنے والے کو پانچ کروڑ روپے دینے کے لیے تیار ہیں اور تیسرے، جو شمالی ریاست ہریانہ میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے چیف میڈیا کوآرڈینیٹر بھی ہیں، وہ دس کروڑ روپے دینے کو تیار بیٹھے ہیں۔
فی الحال تینوں افراد آزاد گھوم رہے ہیں لیکن فلم کی نمائش 'رضاکارانہ' طور پر مؤخر کر دی گئی ہے۔ مورخین مانتے ہیں کہ پدماوتی ایک شاعر کی تخلیق تھیں، لیکن یہ دھمکیاں اصلی ہیں۔
آیا ان کا مقصد واقعی دیپیکا پاڈوکون کو نقصان پہنچانا ہے یا سستی شہرت حاصل کرنا ہے یہ تو پولیس اپنی تفتیش کے بعد ہی بتائے گی لیکن فلم کی مخالفت کرنے والے تقریباً تمام لوگ اب یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ نمائش کی اجازت دینے سے پہلے فلم انہیں بھی دکھائی جائے اور اس میں سے تمام 'قابل اعتراض' مناظر کاٹ دیے جائیں۔
فری میں فلم دیکھنے کی خواہش رکھنے والوں کی لمبی ہوتی ہوئی فہرست کو دیکھ کر ہی تو کہیں پدماوتی کی نمائش مؤخر کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا؟ فلمیں عام طور پر اس لیے بنائی جاتی ہیں کہ لوگ ٹکٹ خرید کر انہیں دیکھیں۔
اگر سب پہلے ہی فلم دیکھ لیں گے تو پھر ریلیز کرنے کی ضرورت ہی کیا باقی رہ جائے گی۔
اس مسئلے کا آسان حل یہ ہے کہ فلم کے دو ورژن ایڈٹ کیے جائیں، ایک میں سے دلی کے سلطان علاؤالدین خلجی کو نکال دیا جائے، اور دوسرے میں سے پدماوتی کو۔
پھر جس کی جس میں دلچسپی ہو وہ اپنی پسند کی فلم دیکھ سکے گا۔ یا پھر پروڈکشن کمپنی یہ اعلان کردے کہ فلم صرف اس لیے ریلیز کی جارہی ہے تاکہ لوگ بتا سکیں کہ انہیں کن کن مناظر پر اعتراض ہے، اور تمام قابل اعتراض مناظر ہٹانے کے بعد بھی اگر فلم میں کچھ باقی رہتا ہے تو اسے دوبارہ ریلیز کردیا جائے۔
پدماوتی کو 'بدنامی' سے بچانے کے لیے راجپوت تو میدان میں اترے ہوئے ہیں بس شکر یہ ہے کہ علاؤالدین خلجی کا ابھی کوئی پیروکار سامنے نہیں آیا ہے۔
علاؤالدین خلجی کی عزت بھی داؤ پر ہے۔ ایک طاقتور سلطان کے لیے یہ کہنا کہ اس نے ایک پرائی رانی کے حسن کی وجہ سے ایک آزاد ریاست پر چڑھائی کی، اور خون خرابہ کیا، یہ بھی تو توہین ہے!
ملک محمد جائسی نے یہ چنگاری سولہویں صدی میں سلگائی تھی، اسے بجھانے کا وقت آگیا ہے۔
بہتر یہی ہوگا کہ جائسی کی کہانی پدماوتی، اور بھنسالی کی فلم میں سے پدماوتی اور خلجی دونوں کو ہی نکال دیا جائے۔