'دلیپ کمار، کے آصف، گرو دت وغیرہ کی صلاحیتوں کی بےعزتی'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بالی وڈ میں اقربا پروری کی بحث جاری ہے۔ حال ہی میں آئیفا ایوارڈ کے موقعے پر سیف علی خان، کرن جوہر اور ورون دھون نے کنگنا رناوت کی جانب سے اقربا پروری کے الزام پر پر مزاح انداز میں تیر چلایا تھا۔
پھر ایک مضمون کے ذریعے سیف علی خان نے کنگنا سے معافی مانگی لیکن انھوں نے بالی وڈ میں اقربا پروری پر اپنی پوزیشن بھی رکھی۔ سیف نے اپنے کھلے خط میں کئی مسائل کو اٹھاتے ہوئے بات کی تھی۔
آئیفا ایوارڈ کے بعد ہی لوگوں کو کنگنا کے ردِعمل کا انتظار تھا تاہم وہ سیف علی خان کے خط کے جواب میں آیا۔
کنگنا نے سیف کو جو جواب لکھا وہ ان کے الفاظ میں اس طرح سے ہیں:
اقربا پروری کی بحث میں کمی ہوتی نظر نہیں آ رہی، تاہم اس بحث میں ہر کوئی اپنا نقطۂ نظر پرامن ڈھنگ سے رکھ رہا ہے۔ اس بحث میں مجھے کچھ باتیں اچھی لگیں تو کچھ پریشان کن۔ صبح میں جاگی تو سیف علی خان کا آن لائن اوپن لیٹر دیکھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پچھلی بار اس مسئلے پر فلم ساز کرن جوہر کے لکھے بلاگ سے کافی دل برادشتہ اور پریشان ہوئی تھی۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ فلم بزنس کو بڑھانے کے لیے بہت سے پیمانے ہیں۔ ان پیمانوں میں ٹیلنٹ یا صلاحیت کا کہیں ذکر نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ یا غلط فہمی کا شکار ہیں یا بالکل بھولے ہیں۔ اس کا مجھے علم نہیں لیکن انھوں نے ایسا کہہ کر دلیپ کمار، کے آصف، بمل رائے، ستیہ جیت رے، گرو دت اور ان جیسی بہت سی صلاحیتوں کی بےعزتی کی ہے۔ جن کا میں نے نام لیا ان میں غیر معمولی صلاحیت تھی اور ہے، جن سے ہماری معاصر فلم کی ریڑھ کی ہڈی تیار ہوئی ہے۔ کرن جوہر کا ایسا کہنا کتنا مضحکہ خیز ہے!

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقربا پروری کئی سطحوں پر کارفرما ہے۔ اس میں غیر جانبداری اور منطقی سوچ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ میں نے ان اقدار کو ان لوگوں سے حاصل کیا ہے جنھوں نے سچائی کی بدولت کامیابی کے پرچم بلند کیے۔ یہ اقدار لوگوں کی زندگی میں کوئی خفیہ راز نہیں ہیں بلکہ عام معمولات زندگی کا حصہ ہیں۔ اس پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عظیم شخصیات میں وویکانند، آئن سٹائن اور شیکسپیئر کا تعلق کسی خاص گھرانے سے نہیں تھا۔ یہ سب کو شامل کرنے والی انسانیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے کاموں سے ہمارے مستقبل کی سمت و رفتار طے ہوئی ہے۔ اسی طرح ہمارے کاموں کی بدولت ہماری آنے والی نسلوں کو سمت ملے گی۔
آج میرے پاس ان اقدار کے ساتھ ڈٹے رہنے کی قوت ہے۔ ممکن ہے میں کل کمزور پڑ جاؤں اور اپنے بچوں کے سٹار بننے کا خواب پورا کرنے میں لگ جاؤں۔ اس صورت میں میرا خیال ہے کہ میں ذاتی طور پر ناکام ہو جاؤں گی، لیکن اس سے ان اقدار کی عظمت کم نہیں ہوتی۔ یہ اقدار وقت کے ساتھ مضبوطی سے قائم رہیں گی۔ ہم لوگوں کے جانے کے بعد بھی۔
اس لیے ہمیں ان لوگوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جن میں یہ اقدار ہیں یا جو ان اقدار کو اپنانا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ میں کہتی ہوں ہم وہ لوگ ہیں جو آنے والی نسل کے مستقبل کی صورت گری کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آپ نے میڈیا کو بھی مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ اقربا پروری کے حقیقی علم بردار وہی ہیں۔ آپ کی بات سے ایسا لگ رہا ہے کہ اس کے بارے میں بات کرنا کوئی گناہ ہے۔ بہر حال اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اقربا پروری انسانی مزاج کی محض ایک کمزوری ہے۔ ہمیں اس سے سے اوپر اٹھنے کے لیے بہت اندرونی قوت اور قوت ارادی کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات ہم جیت جاتے ہیں بعض اوقات ایسا نہیں ہوتا۔ کوئی بھی کسی کے سر پر ہم بندوق رکھ کر یہ نہیں کہتا کہ اس صلاحیت کو لو جن میں ان کا بھروسہ نہیں۔ ایسے میں اپنے انتخاب کے لیے دفاعی ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
واقعی اس مسئلے پر میری باتوں کا مطلب یہ ہے کہ باہری لوگ ان راستوں پر چلیں جن پر کم لوگ چلے ہوں۔ دیگر شعبوں کی طرح انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں بھی داداگري، حسد، اقربا پروری اور علاقائیت جیسی انسانی خصلتیں موجود ہیں۔ اگر آپ مرکزی دھارے میں قبول نہیں تو دوسری طرف جائیں۔ آپ کے لیے بہت سے راستے ہیں۔
میرے خیال سے اس بحث میں مراعات یافتہ لوگوں الزام لگانا درست نہیں کیونکہ وہ اس نظام کا حصہ ہیں جو ان کے آس پاس رد عمل کے طور پر پھیلاہوا ہے۔ تبدیلی صرف ان لوگوں کی وجہ سے آئے گی جو تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔ یہ خواب دیكھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ کیا کیا حاصل کرنا چاہتاہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تو کیا ہمیں اقربا پروری کے ساتھ صلح کر لینی چاہیے؟ جن کا اقربا پروری سےکام چلتا ہے وہ اس کے ساتھ رہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک کے لیے ایک سخت قنوطی رجحان ہے جہاں بہت سے لوگوں کی کھانے، گھر، کپڑے اور تعلیم تک رسائی نہیں ہے۔ دنیا کوئی مثالی جگہ نہیں ہے اور شاید کبھی ہو بھی نہ۔ یہ وجہ ہے کہ ہمارے پاس فن کی صنعت ہے۔ ایک طرح سے ہم لوگ امید کا پرچم لے کر چلنے والے ہیں۔







