بی بی سی: ’مردوں کی تنخواہوں میں کٹوتی ممکن ہے‘

بی بی سی میں زیادہ تنخواہیں حاصل کرنے والے مردوں سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ تنخواہوں میں کٹوتی کو تسلیم کریں جس کی وجہ کارپوریشن کی جانب سے مرد و خواتین کی تنخواہوں میں موجود فرق کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔

بی بی سی نے بدھ کو جاری ہونے والی اپنی سالانہ رپورٹ میں زیادہ تنخواہیں دینے کا دفاع کیا۔

کارپوریشن نے سنہ 2020 تک صنفی مساوات کا وعدہ کیا ہے۔

بی بی سی ریڈیو اور ایجوکیشن کے ڈائریکٹر جیمز پرنِل کا کہنا ہے کہ تنخواہیوں میں کٹوتی مسئلے کے حل کا حصہ ہیں۔

بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام میں ان کا کہنا تھا کہ ’بہت سے مردوں کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جارہی ہے، جان ہمفریز نے یہ آج آن ائیر کہا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اب آن ائیر آنے والے مزید مردوں کی تنخواہوں میں بھی کٹوتی ہو گی تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں لائیو بات چیت شروع نہیں کر رہا لیکن یہ واضح اقدامات ہیں جو ہم کر سکتے ہیں اور ہم وہ کر رہے ہیں۔‘

بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹونی ہال کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مرد و خواتین کے درمیان تنخواہوں میں اس فرق کے لیے ’مزید کچھ کرنا ہوگا۔‘

بی بی سی نے بتایا ہے کہ اس کے معروف اور مشہور چہروں میں ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈز سے زیادہ تنخواہ لینے والوں میں دو تہائی مرد ہیں اور ان میں سرفہرست کرس ایونز ہیں جن کی آمدن 22 سے 25 لاکھ پاؤنڈز کے درمیان ہے۔

بی بی سی کی سالانہ رپورٹ 2016 -2017 کے مطابق ان معروف شخصیات میں کلاڈیا ونکلمین سب سے زیادہ تنخواہ لینے والی خاتون ہیں جن کی آمدن گذشتہ سال چار لاکھ پچاس ہزار اور پانچ لاکھ پاؤنڈز کے درمیان رہی۔

’دا ون شو‘ کے ایلکس جونز اس فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں جن کو چار لاکھ سے ساڑھے لاکھ پاؤنڈز کے درمیان دیے گئے۔

اس فہرست میں سب سے بہترین 96 سٹارز میں سب سے زیادہ آمدن والے سرفہرست تمام سات مرد ہیں۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ڈیڑھ لاکھ پاؤنڈز سے زیادہ تنخواہ لینے والوں کی فہرست کو عوام کے سامنے ظاہر کیا گیا ہے۔

بی بی سی کے نئے رائل چارٹر کے تحت وہ اس طرح کی معلومات کو ظاہر کرنے کا پابند ہے۔

ایل بی سی ریڈیو پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم ٹریزا مے نے کہا: ’ہم دیکھ رہے ہیں کہ بی بی سی خواتین کو وہی کام کرنے کے کم پیسے دے رہا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ خواتین کو بھی برابر تنخواہ دی جائے۔‘