آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغان گلوکارہ نے اعتراضات کے بعد اپنے لباس کو جلا ڈالا
افغانستان کی ایک گلوکارہ نے مذہبی حلقوں اور عوام کی جانب سے تنقید کے بعد اپنے لباس کو نظرآتش کر دیا۔
ٹی وی کی معروف شخصیت اور گلوکارہ آریانا سید کے ایک کنسرٹ میں شرکت کے موقع پر جلد کی رنگت کا چست لباس پہننے پر تنازع شروع ہوا تھا۔
گلوکارہ آریانا سید نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں متنازع لباس کو آگ میں لپٹا دیکھا جا سکتا ہے۔
آریانا سید نے 13 مئی کو پیرس میں ایک کنسرٹ میں متنازع چست لباس پہنا تھا جس پر نہ صرف مذہبی حلقوں نے اعتراضات کیے تھے بلکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
کئی لوگوں نے اس لباس کو افغان ثقافت کے منافی اور غیر اسلامی قرار دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آریانا سید اپنے لباس کو نظرِ آتش کرنے پر یقیناً زیادہ خوش نہیں تھی اور فیس بک پر اپنے 16 لاکھ مداحوں کو پیغام دیا کہ' اگر آپ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں واحد مسئلہ یہ لباس ہے تو صرف آپ کے لیے اسے آج آگ لگا دوں گی۔'
آریانا سید افغانستان کی ایک مقبول گلوکارہ، نغمہ نگار اور ٹی وی کی ایک مقبول شخصیت ہیں جو افغان گلوکاری کے علاوہ پاپ اور ہپ ہاپ گانے گاتی ہیں۔ وہ مقامی طلوع ٹی وی پر نشر ہونے والے گلوکاری کے ٹیلنٹ شو کی جج بھی ہیں۔
آریانا سید کی جانب سے لباس کو نظرآتش کرنے کے اقدام پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ملے جلے تاثرات سامنے آئے ہیں۔
بہت ساروں کی رائے میں لباس کو خاکستر کرنا مناسب تھا جس میں فیس بک کے ایک صارف نے لکھا کہ'ہم مسلمان جانتے ہیں کہ اسلام میں ایک خاتون کا برہنہ ہونا ممنوعہ ہے اور یہ ایک غلطی تھی۔'
تاہم آریانا سید کو اپنے مداحوں کی حمایت بھی حاصل ہوئی جس میں ایک نے لکھا کہ'ان کو لوگوں کے غلیظ منہ کو جلانا چاہیے تھا جو غیر مناسب طور پر تنقید کر رہے تھے جبکہ لباس کو جلانا اچھا کام نہیں تھا۔'
لیکن آریانا سید نے بھی اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے مداحوں کو لکھا کہ' اس بات کا معلوم ہونا چاہیے کہ میرے اقدام کی وجہ ان لوگوں کا دباؤ نہیں تھا جو اب بھی تاریکی کے دور میں رہتے ہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں اہم مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔'