آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
یاسمین کا سونو نگم کے نام ویڈیو پیغام وائرل کیوں؟
مذہبی مقامات میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر سوال اٹھانے والے گلوکار سونو نگم سے ایک لڑکی نے سوال کیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
اپنا نام یاسمین ارورہ منشی بتانے والی اس لڑکی نے 17 اپریل کو اپنے فیس بک کے صفحے پر سونو نگم سے سوال کرتے ہوئے ایک لائیو ویڈیو پوسٹ کی تھی اور اس ویڈیو کو 80 لاکھ بار دیکھا گیا ہے جبکہ ڈیڑھ لاکھ مرتبہ شیئر کیا گیا۔
اس لڑکی نے سوال کیا تھا کہ 'سونو نگم جی، آپ قریب 50 برس کے ہو گئے ہیں۔ آپ کو پچاس سال بعد اچانک کس طرح یاد آیا کہ آپ کو اذان سے تکلیف ہوتی ہے۔ کیا یہ سوال ملک کی حکومت دیکھ کر اٹھایا گیا ہے۔'
سونو نگم نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مذہبی مقامات میں لاؤڈ سپیکر کے استعمال پر سوال اٹھائے تھے، جس میں سب سے پہلے اذان کا ذکر کیا گیا تھا۔
ویڈیو پیغام میں یاسمین نے کہا کہ'جب بیف کھانے کے نام پر خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے، کیا اسے جرم نہیں کہتے؟'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاسمین نے اپنے ویڈیو میں کہا کہ گئو رکشکوں کے نام پر پہلو خان اور اخلاق کے قتل جرم نہیں تھی؟ لیکن اس وقت آپ نے ٹویٹ نہیں کی۔
وہیں سوشل میڈیا پر بہت سے دوسرے مسلمان خواتین نے بھی سونو نگم کی ٹویٹس پر ان کے حق اور مخالفت میں رائے دی۔
اے رينا اکبر نے فیس بک پر لکھا کہ 'میں سونو نگم سے اس بات پر متفق ہوں کہ صبح کی اذان کے لیے لاؤڈ سپیکرز استعمال نہیں ہونا چاہیے لیکن اس کو جرم کا نام دینا کچھ زیادہ ہو گیا۔ جرم کا مطلب ہوتا ہے لوٹ مار کرنا، خون خرابہ کرنا لیکن کسی کو نیند سے اٹھانا جرم میں شامل نہیں ہے۔
لیکن اسی کے ساتھ وہ آگے یہ بھی لکھتی ہیں کہ 'جہاں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں وہاں مسلمانوں کو اپنے پڑوسیوں کی نیند کا خیال رکھنا چاہیے اور صبح لاؤڈ سپیکرز کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ یہ معمولی سے آداب ہیں۔'
ان کے مطابق رمضان میں خاص کر صبح کی اذان سے پہلے بار بار اعلان کرنا کہ اب روزے میں 10 یا پانچ منٹ باقی ہیں، غیر مسلم لوگوں کو پریشان کرنا ہے۔
وہ آگے لکھتی ہیں کہ 'میں خلیج کے ایک ملک میں رہی ہوں اور لاؤڈ سپیکرز کا ایسا استعمال میں نے وہاں نہیں دیکھا۔ تماشہ بازی تو ہم انڈین کو ہی آتی ہے، چاہے وہ بیداری ہو یا رمضان میں بار بار کیے جانے والے اعلانات۔'