آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میں انڈین ہوں اور میں نے کالا ہرن نہیں مارا: سلمان خان
انڈین اداکار سلمان خان نے شہ سرخیوں میں جگہ بنانے والے سیاہ ہرن شکار کیس میں اپنے اوپر عائد کیے گئے تمام الزامات کی مسترد کر دیا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ وہ مکمل طور معصوم ہیں اور انھیں جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے۔
جودھپور سے سلمان کے وکیل ہستيمل سارسوت نے بی بی سی کو بتایا کہ 'جرح کے دوران سلمان سے 65 سوال پوچھے گئے۔ انھوں نے اس معاملے میں اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ان کا باہر نکلنا ممکن ہی نہیں تھا۔ انہوں نے کوئی شکار نہیں کیا۔'
وکیل سارسوت کے مطابق شوٹنگ کا پروگرام بہت مصروف رہتا ہے اور سلمان خان کے پاس وقت ہی نہیں تھا کہ وہ اور کچھ کر سکیں۔
سلمان خان نے جودھپور کی عدالت میں کہا تھا کہ ڈاکٹر نیپاليا کی میڈیکل رپورٹ درست تھی۔ لیکن بعد میں محکمہ جنگلات نے میڈیکل بورڈ کی فرضی رپورٹ دی۔ سلمان نے کہا کہ ایک مقامی اخبار میں خبر شائع ہونے کے بعد محکمہ جنگلات نے ان"یں پھنسانے کے لیے مقدمہ درج کرایا۔
سلمان خان نے ان کا نام اور ذات پوچھے جانے پر خود کو 'انڈین' بتایا۔
سیاہ ہرن شکار کیس میں سلمان خان کے علاوہ سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم، تبو اور دشینت کے نام بھی شامل ہیں۔ ان تمام ملزمان کے بیانات جمعے کو درج کئے گئے ہیں۔
یہ مقدمہ 18 سال پرانا ہے جب راجستھان میں فلم 'ہم ساتھ ساتھ ہیں' کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان اور دوسرے فنکاروں پر دو سیاہ ہرنوں کے شکار کا الزام لگایا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیف علی خان نے شکار کے لیے سلمان کو اکسانے کے الزامات سے انکار کر دیا۔ سونالی بیندرے، نیلم، تبو اور دشینت نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ اس جیپ میں تھے جس میں شکار کے وقت سلمان خان سوار تھے۔
سلمان خان کے وکیل کے مطابق اس مقدمے کی اگلی سماعت 15 فروری ہوگی۔