آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میرِل سٹریپ ’اوور ریٹڈ‘ اداکارہ ہیں: ٹرمپ
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گولڈن گلوب ایوارڈز کے موقع پر میرِل سٹریپ کی طرف سے خود پر ہونے والی تنقید کا جواب دیا ہے۔
فنِ اداکاری میں اپنی خدمات کی بنیاد پر لائف اچیومنٹ ایوارڈ حاصل کرنے والی اداکارہ کے بارے میں مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے فن کو بے جا سراہا جاتا ہے۔
ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ’میرِل سٹریپ نے، جو کہ ہالی وڈ کی ضرورت سے زیادہ سراہی جانے والی اداکارہ ہیں، مجھے نہیں جانتیں لیکن گذشتہ رات گولڈن گلوب کے موقع پر انھوں نے مچھے تنقید کا نشانہ بنایا۔‘
ایک اور ٹویٹ میں مسٹر ٹرمپ نے انھیں ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن سے تشبیہ دی اور کہا کہ وہ انتخابات میں بُری طرح شکست کھا گئی تھیں۔
تین مرتبہ آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی اداکارہ میرِل سٹریپ نے اتوار کی رات گولڈن گلوب ایوارڈ حاصل کرنے کے موقع پر اپنی تقریر میں مسٹر ٹرمپ کا نام لیے بغیر ان کا حوالہ دیا تھا۔
’اس سے ایک طرح سے میرا دِل ٹوٹ گیا ہے۔‘
’یہ لوگوں کی توہین کرنے کی خصلت جس کو عوامی عہدہ رکھنے والی ایک طاقتور شخصیت نے طرح دی ہے، یہ نیچے جاتے جاتے ہر کسی کی زندگی میں سرایت کر جاتی ہے کیونکہ یہ ایک طرح سے ہر ایک لیے اجازت نامہ ہوتا ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کریں۔‘
میرِل سٹریپ نے کہا کہ وہ انتخابی مہم کے دوران نو منتخب صدر کی طرف سے ایک اپاہج رپورٹر کا تمسخر اڑائے جانے پر ششدر رہ گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں یہ سویں مرتبہ دہراتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی ایک اپاہج رپورٹر کا تمسخر نہیں اڑایا (کبھی ایسا نہیں کروں گا)۔ میں نے صرف ان کے سامنے عاجزی کا اظہار کیا تھا جب انھوں نے ایک سولہ سالہ پرانی خبر کو مکمل طور پر تبدیل کر کے میری کردار کشی کرنے کی کوشش کی تھی۔ صرف بے انتہا بے ایمان میڈیا۔‘
مسٹر ٹرمپ نے، جو دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں صدارت کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں، گذشتہ سال نومبر میں صدارتی مہم کے دوران جنوبی کیرولائنا میں سرگے کوالیسکی کی نقل اتاری تھی جو پیدائشی طور پر اپاہج ہیں۔
میرل سٹیپ نے امیگریشن کا بھی حوالہ دیا۔ عام خیال ہے کہ مسٹر ٹرمپ امیگریشن پالیسی کے بارے میں سخت گیر موقف رکھتے ہیں۔
اداکارہ میرل سٹریپ نے حاضرین کو بتایا کہ ’ہالی وڈ میں ہر طرف باہر سے آئے ہوئے اور غیر ملکی رینگ رہے ہیں اور اگر آپ ان سب کو باہر نکال دیں تو آپ کے پاس دیکھنے کے لیے صرف فٹ بال اور مارشل آرٹس رہ جائیں گے جن میں آرٹس جیسا کچھ نہیں ہے۔‘