آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اکیسویں صدی کی سنڈریلا کی کہانی
- مصنف, وکاس ترویدی
- عہدہ, بی بی سی نیوز، نئی دہلی
زیادہ تر کہانیوں کے آخر میں شادی ہونا ’ہیپی اینڈنگ‘ مان لیا جاتا ہے۔
سنڈریلا کی کہانی آپ نے سنی ہوگی۔ سالوں پرانی اس کہانی کے آخر میں ایک خوبصورت شہزادہ سنڈریلا کو شادی کی پیشکش کرتا ہے۔ سنڈریلا فوراً راضی ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد دونوں خوشی سے رہتے ہوئے زندگی گزار دیتے ہیں۔
یہ اُس سنڈریلا کی کہانی ہے، جو صدیوں پرانی ہے۔ اکیسویں صدی کی سنڈریلا مارڈن خیالات والی ہے، وہ خوبصورت شہزادے کے آگے پیچھے پھرنے کے بجائے اپنی زندگی اپنی شرائط پر جینا چاہتی ہے۔
21 ویں صدی کے سنڈریلا کی کہانی
سب کو پتہ تھا کہ سنڈریلا کے پاپا شہر سے باہر تھے لیکن وہ چپ چاپ سنڈریلا سے واٹس ایپ پر بات کیا کرتے تھے۔ اس بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا۔
سنڈریلا گھر کے کاموں سے جب چھٹی پاتی تو فیس بک پر فعال رہتی۔ ایک فیس پوسٹ کے ذریعے سنڈریلا کو پتہ چلا کہ شہر میں كرسمس پارٹی ہے، وہاں رقص بھی ہوگا۔ شہزادے کو بھی پروگرام میں آنا تھا۔ مشکل یہ تھی کہ پروگرام کا انٹری پاس سنڈریلا کے پاس نہیں تھا۔ اداس سنڈریلا فیس بک پر 'فیلِنگ سیڈ' سٹیٹس ڈالتی ہے۔
یہ سٹیٹس ایک پری کو ملتا ہے اور پری طے کرتی ہے کہ وہ سنڈریلا کے لیے نئے کپڑے اور انٹری پاس کا انتظام کرے گی۔
سنڈریلا کو کمرے میں جیسے ہی پری نظر آتی ہے، دونوں ساتھ میں سیلفی لیتی ہیں۔ پری سنڈریلا کو پارلر لے جاتی ہے۔ سجی دھجی سنڈریلا کے لیے پارلر سے پارٹی ہال کے لیے پری سمارٹ فون پر اپلی کیشن سے کیب بک کرتی ہے۔
سنڈریلا کے لیے پرنس کے یہاں بھیجنے سے پہلے فرشتہ ایک شرط رکھتا ہے۔ پری کہتی ہے، ’جا سنڈریلا جا، جی لے اپنی زندگی۔ جو دل کرے، وہ کرنا۔ جتنے بجے تک چاہو، تب تک باہر رہنا، کوئی پابندی نہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اوکے، تھینکس کہہ کر سنڈریلا براہ راست پارٹی ہال پہنچتی ہے۔ رقص کرتے ہوئے پرنس اور سنڈریلا ملتے ہیں، بعد میں دونوں ساتھ میں باغوں میں بہار دیکھنے جاتے ہیں۔
رات 12 بجے سے پہلے سنڈریلا کئی بار وقت دیکھتی ہے۔ 12 بجتے ہی وہ پرنس سے کہتی ہے، ’ایكسكيوزمی مسٹر، میری دوست کا آج برتھ ڈے ہے، میں ذرا اسے پہلے وش کر دوں۔‘
دونوں صبح قریب 4 بجے تک ساتھ رہتے ہیں، سنڈریلا جانے والی ہوتی ہے، تبھی پرنس سنڈریلا کو شادی کے لیے پرپوز کرتا ہے۔
جواب میں سنڈریلا کہتی ہے: ’سوری ڈوڈ، تم اچھے لڑکے ہو لیکن ہم صرف دوست ہو سکتے ہیں۔ میں شادی کے لیے تیار نہیں ہوں۔ مجھے ابھی دنیا دیکھنی ہے، رہی بات تمہاری، تو فیس بک پر بات ہوتی رہے گی، آپ انسٹاگرام پر ہو کیا؟‘
سنڈریلا کے کیریئر پلان دیکھ کر پرنس چپ رہ جاتا ہے، پرنس محل چھوڑ کر تعلیم حاصل کرنے بیرنِ ملک چلا جاتا ہے۔ سنڈریلا اب دنیا گھومتی ہے، لاکھوں لوگ اسے جانتے ہیں۔ جلد ہی سنڈریلا کی ٹریول بک بھی آنے والی ہے۔
سنڈریلا کی سوتیلی ماں اور اس کی بہنیں اے ٹی ایم کی لائن میں لگی اپنی قسمت پر رو رہی ہیں۔