آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان میں پیمرا کا انڈین مواد نشر کرنے پر لائسنس کی فوری منسوخی کا فیصلہ
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں میڈیا کے نگراں ادارے پیمرا نے ملک میں انڈین چینلز اور انڈین مواد دکھائے جانے پر ایسا مواد نشر کرنے والی کمپنی کا لائسنس بغیر کسی نوٹس کے فوری طور پر معطل یا منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان منگل کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق یہ فیصلہ پیر کو ہونے والے اجلاس میں کیا گیا اور اس کے مطابق اتھارٹی نے چیئرمین پیمرا کو یہ اختیارات تفویض کیے ہیں کہ خلاف قانون انڈین چینلز اور انڈین مواد کو دکھائے جانے کی صورت میں وہ بنا اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیے اور سماعت کا موقع فراہم کیے کمپنی کا لائسنس فوری طور پر معطل یا منسوخ کر سکتے ہیں۔
پیمرا کے مطابق انڈین مواد سے متعلق قواعد و ضوابط کا اعلان 31 اگست کو کر دیا گیا تھا اور اب ان کا اطلاق رواں ماہ کی 16 تاریخ سے ہو گا اور ادارہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کر سکے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے مابین حالیہ کشیدگی کے باعث عوام بھی پرزور مطالبہ کر رہے ہیں کہ انڈین چینلز اور ڈرامے مکمل بند کر دیے جائیں۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں جولائی سے جاری مظاہروں کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کے پہلے سے سرد تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے تاہم اس موقع پر پاکستان میں انڈین مواد پر پابندی کے بارے میں زیادہ اقدامات سامنے نہیں آئے۔
تاہم گذشتہ ماہ اوڑی میں فوجی کیمپ پر حملے کے بارے میں تعلقات میں تلخی آئی اور بعد میں انڈیا کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کے دعوے کے بعد یہ حالات مزید بگڑ گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کے اس دعوے کے بعد سے پاکستان میں جہاں سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فام پر متحد ہوئی ہیں وہیں مقامی سینیماز کے مالکان اور کیبل آپٹرز بھی انڈیا کی فلموں اور دیگر تفریحی مواد پر پابندیاں لگا رہے ہیں اور اب پیمرا نے سرکاری طور پر پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔