راولپنڈی کا میچ بہت اہم ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کل کے میچ میں وکٹ بہت زیادہ تو نہیں لیکن بیٹنگ کے لئے قدرے بہتر ہوگی۔ تھوڑی سی تیز وکٹ بنانے کی کوشش کی جاۓ گی۔ میرے خیال میں کل کے میچ میں شاہد آفریدی کو کھلانا چاہیے کیونکہ شاہد کو ٹیم میں لینے کی صورت میں ٹیم میں چھٹا بالر بھی کھیل سکتا ہے۔ شاہد آل راؤنڈر اور اچھا فیلڈر بھی ہے۔ میرے خیال یہ ایک تبدیلی آنی چاہئے۔ باقی رہا کہ میچ میں کیا ہوگا، ون ڈے کرکٹ میں تین سو پچاس رنز ہر دفعہ تو نہیں بنتے۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ پاکستان کی بالنگ تھوڑی بہتر ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ پاکستانی بالرز وکٹوں سے دور گیندیں کرتے ہیں اور بہت زیادہ تیز گیند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لائن اور لینتھ سنبھالتے نہیں ہیں اور پہلی ہی گیند سے تیز گیندیں شروع کر دیتے ہیں۔ پھر لازمی بات ہے کہ جب زیادہ زور لگتا ہے تو گیند وکٹوں سے دور ہو جاتی ہے، لائن اور لینتھ ٹھیک نہیں رہتی اور نو بالز بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ لہذا اگلا میچ جیتنے کے لئے سب سے پہلے اس خامی پر قابو پانا پڑے گا۔ اگر پاکستان یہ میچ بھی ہار جاتا ہےاور بھارت کو دو صفر کی برتری حاصل ہو گئ تو میرے خیال میں پاکستانی ٹیم کو اوپر آنے کا موقع بہت کم ملے گا۔ اسلئے یہی وقت ہے کہ پاکستان راولپنڈی کا میچ جیت کر سیریز برابر کر دے۔ اس سے سیریز میں لوگوں کی دلچسپی بھی بڑھےگی اور پاکستانی لوگوں کے حوصلے بھی بلند ہو جائیں گے۔ اگر پاکستان جیت گیا تو بھارت بھی اگلا میچ سوچ سمجھ کر کھیلے گا۔ مجموعی طور پر اس سیریز کا انحصار راولپنڈی کے میچ پر ہے۔ جہاں تک انظمام کی کپتانی کا تعلق ہے تو انظمام اپنے دستیاب بالروں ہی سے گیندیں کراۓ گا۔ یہ وائیڈ اور نو بالز کوئی ایسی بیماری نہیں جو ختم نہیں ہو سکتی۔ اس بیماری کا علاج یہ ہے کہ نیٹ پریکٹس کے دوران وائیڈ اور نو بالز پر قابو پانے کی کوشش کی جاۓ۔ اسطرح اس پر باآسانی قابو پایا جا سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے انظمام کے بھارت کو پہلے بیٹنگ کرانے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ تو بات یہ ہے کہ انظمام نے بھارت کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت یہ سوچ کر دی کہ پاکستان کی بالنگ قدرے بہتر ہے اسلئے وکٹ پر چانس لے لیا جاۓ۔ پھر صبح کے وقت وکٹ پر اوس بھی ہوتی ہے۔ بہت سے حلقے شروع میں یہ کہہ رہے تھے کہ یہ منفی حکمت عملی ہے لیکن میرے خیال میں انظمام نے بھارت کا پچھلا ریکارڈ دیکھتے ہوۓ اس کو پہلے بیٹنگ کرائی کیونکہ بھارتی ٹیم ہمیشہ رنز کا تعاقب اچھا کرتی ہے اور زیادہ تر کامیاب ہوتی ہے۔ ا سارے بالر پہلی ہی گیند سے ایک سو دس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کوشش میں اکثر زخمی بھی ہو جاتے ہیں۔ میں تیز بالروں کو یہی مشورہ دوں گا کہ وہ اپنی لائن اور لینتھ ٹھیک رکھیں۔ نئ بال کو اگر آپ سیدھا ہی پھینک دیں تو وہ اپنا رنگ خود دکھاتی ہے۔ میں نے دنیا میں نہ صرف ہر جگہ یہی دیکھا ہے بلکہ جن عظیم بالروں کو میں نے کھیلا ہے وہ سب اپنے پہلے دو چار اوورز میں تیز گیند کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے ردہم کی طرف توجہ دیتے تھے۔ ہمارے بالرز ردہم لاۓ بغیر تیز گیند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہیں چاہیے کہ اس چیز کو سمجھیں اور جیسا میں نے کہا، اس پر عمل کریں۔ پچھلے میچ میں ہماری فیلڈنگ بھی اتنی اچھی نہیں تھی اور ہم نے کافی کیچ بھی گراۓ۔ مثل مشہور ہے کہ کیچ جتاۓ میچ۔ تو ہمیں اپنی فیلڈنگ کو بھی بہتر بنانا پڑے گا۔ راولپنڈی میں اپنے کھیلنے کے تجربے کی بنیاد پر میں یہ کہوں گا کہ اگر اس وکٹ پر تھوڑا سا گھاس رکھا جاۓ تو بال اچھے رفتار پر آتی ہے۔ تھوڑی سی تیز آتی ہے یہ نہیں کہ بہت تیز آتی ہے۔ لیکن گیند اونچائی پر آتی ہے اور اچھی بیٹنگ وکٹ ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بالرز کے لئے تھوڑی سازگار ہو جاتی ہے۔ اب اگر کل بالرز کو وکٹ سے مدد ملتی ہے تو جیسے میں نے پہلے کہا کہ پاکستانی بیٹسمین کافی زیادہ ناتجربہ کار ہیں۔ ہمارے دونوں اوپنرز اور بعد میں آنے والے بیٹسمین نوجوان ہیں۔ہمارے پاس انظمام، یوسف یوہانہ اور معین خان کا صورت میں صرف دو تین تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔ پہلے میچ میں پاکستانی بیٹسمین بڑے اطمینان سے تین سو پچاس کا ٹارگٹ بنا رہے تھے۔ آخری اوور میں چھ گیندوں میں دس رنز اتنے مشکل نہیں ہوتے۔ لیکن نوید رانا کچھ ناتجربہ کاری دکھا گئے۔ اگر وہ اسٹرائیک معین خان کو دے دیتے تو پاکستان وہ میچ نہیں ہارتا۔ اگر آنے والے میچ میں پرانی غلطیوں کو نہ دہرایا جاۓ تو تو پاکستان اگلا میچ جیت بھی سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||