آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اٹلی کا وہ علاقہ، جس کے پراسرار غار شیطانوں اور دیوتاؤں کی روایت سے جڑے ہیں
- مصنف, جوئل بالسام
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
جب میں نیچے وادی ٹسکان میں جانے کے لیے پہاڑی پر چٹانی پتھروں سے بنے پیٹیگلیانو قلعے سے نیچے اتر رہا تھا تو راستے کی پگڈنڈیوں پر اُگے جنگلی پھول میری ٹانگوں سے ٹکرا رہے تھے۔ اس پہاڑی کے دامن میں، میں نے تیز بہتی ندی کو عبور کیا اور ایک چھوٹی سے پگڈنڈی پر چلنے لگا جو نیچے کی طرف جا رہی تھی۔ اچانک میں ایک بند کمرہ نما جگہ پر موجود تھا۔
میں نے خود کو ایک ایسی خندق میں پایا جس کے چاروں طرف آتش فشاں کی راکھ سے بنے ٹف کے بڑے بڑے بلاک تھے اور تقریباً 25 میٹر تک بلند تھے۔
میں خوفزدہ ہو گیا اور وہاں میں اکیلا ایسا نہیں تھا جو اس طرح کے غار میں آکر پریشان ہو گیا ہو۔ یہ زیر زمین پگڈنڈیاں صدیوں سے شیطانوں اور دیوتاؤں کی روایت سے جڑی ہوئی ہیں۔
وہاں موجود ہائیکنگ گائیڈ الینا رونکا جو ٹسکنی کے اس علاقے میں ٹورز کی رہنمائی کرتی ہیں اور 12 برس سے یہیں پلی بڑھی ہیں کا کہنا تھا کہ ’جب ہم بچے تھے تو اس وقت کوئی وہاں نہیں جاتا تھا۔‘
وہ اس لیے کیونکہ ان پگڈنڈیوں کے متعلق زیادہ معلومات نہیں تھیں اور نہ ہی ایٹروسکن تہذیب کے متعلق زیادہ علم تھا جنھوں نے انھیں تعمیر کیا تھا۔
اس قدیم دور کے انسانوں نے اس متعلق کوئی نقشے یا تحریری ریکارڈ نہیں چھوڑا تھا اور ان میں سے بہت سے راستے غیر آباد تھے اور ان پر بڑی بڑی جنگلی جھاڑیاں اگی ہوئی تھیں۔
مگر گذشتہ چند دہائیوں میں وسطی اٹلی اور کورسیکا کے قدیم مقبروں میں آثار قدیمہ کی دریافتوں نے ایٹروسکن اور ان کے پراسرار غاروں کے بارے میں مزید انکشاف کیا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زندہ لوگوں کی زمین کو مردہ افراد کی دنیا سے جوڑتے ہیں۔
اگر ان کی آسان الفاظ میں تشریح کی جائے تو یہ وہ دیواروں والے راستے تھے جنھیں پہاڑوں اور دریاؤں کے کناروں تک آنے جانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگرچہ یہ وسطی اٹلی کے مختلف علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ (جہاں ایٹروسکن تہذیب 900 قبل مسیح سے 700 عیسوی تک پروان چڑھی تھی اور بعد میں انھیں سلطنت روم میں ضم کر لیا گیا تھا۔)
ان غاروں کو مقامی زبان میں ’وی کیو‘ کہا جاتا ہے۔
جنوبی ٹسکنی کے علاقے پیٹیگلیانو، سورانو اور سوانا میں پائے جانے والے یہ غار سب سے قدیم ہیں اور اب تک اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔
رونکا کہتی ہیں کہ ’یہ بہت شاندار ہے کہ یہ غار اب تک اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں، اس ایٹروسکن تہذیب کے باشندوں کو پتا تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔‘
اس علاقے میں میرے سفر کے دوران میں جس بھی غار میں گیا وہ دوسرے سے مخلتف تھا۔ کچھ تنگ تھے، جن کی دیواریں مجھ سے زیادہ اونچی نہیں تھیں اور ان میں چھوٹی چھوٹی سیڑھیاں تھیں۔‘
جبکہ دیگر فرن اور کائی کے سرسبز جنگل میں بدل چکے تھے جس کی اونچی اونچی دیواریں تھیں اور ان کے راستے اتنی چوڑے تھے جیسے رہائشی سڑکیں جن میں ایک یا دو گاڑیاں کھڑی ہو سکتی ہیں۔
رونکا نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اصل میں یہ غار چٹان کو کاٹنے کی ایک تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے صرف چند فٹ گہرائی میں تراشی گئی تھی۔ یہ وہ تکنیک تھی جسے قدیم مصر میں پہلی بار استعمال کیا گیا تھا جس میں ٹف میں سوراخ کرنا، لکڑی کا ایک ٹکڑا ڈالنا اور پھر سوراخ کو پانی سے بھرنا شامل تھا۔
انھوں نے کہا کہ ’وہ اس میں لکڑی ڈالتے اور گیلی لکڑی پھول جاتی اور چٹانی پتھر سے بنی اینٹ (ٹف) کو توڑتی تھی، وہ بار بار ایسا کرتے تاکہ سڑک کو اپنے مطلوبہ سائز تک گہرا اور لمبا کیا جا سکے۔ یہ طریقہ کار آسان اور سادہ نہیں۔‘
صدیوں پر محیط عرصے کے دوران غاروں کو مختلف بادشاہ اور سلطنتوں نے اپنی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ان میں تبدیلیاں کیں جن میں اوستروگوتھس، لومبارڈز اور فرینکس کی سلطنتیں شامل ہیں۔
اس راستے میں ایک نامعلوم مقام سے سیڑھیاں بنائی گئی تھیں اور کھائیوں کو مزید گہرا کیا گیا لیکن اصل حالت میں موجود پانی کے بارش کی نکاسی کے لیے بھی انتظام کیا گیا تھا۔ پر اس راستے پر جہاں سے میں گزرا میں نے پانی کو اس نظام کے ذریعے چٹان پر پڑتے دیکھا تاکہ کٹاؤ کو روکا جا سکے اور بارش کے پانی کی نکاسی کی جا سکے۔
رونکا کہتی ہیں کہ ’ایٹروسکن بہت ہی قابل انجینئرز تھے کیونکہ انھوں نے کچھ جھلیوں کی حدبندی کی اور دلدلی علاقوں کو ختم کر کے کاشتکاری کے قابل بنایا۔‘
اپنے سفر کے دوران میں ایسے ترچھے گڑھوں کے قریب سے گزرا جن پر چٹان کی یادگاریں تھیں جو انسانی ہاتھوں سے کھدی ہوئی دکھائی دیتی تھیں۔
یہ بھی پڑھیے
یہ ایٹروسکن کے قبرستان تھے جہاں افراد کی قبروں کے لیے گہرائی تک کھدائی کی جاتی تھی اور زندگی بعد از موت کے لیے ان کی لاشوں کے ساتھ سونا، خوراک اور کپڑے رکھے جاتے تھے۔
بدقسمتی سے اس علاقے میں بہت پہلے ہی ایٹروسکن کی قبروں کو کھود کر لوٹ لیا گیا تھا۔
ایک انگریز مصنف ڈی ایچ لارنس نے سنہ 1920 میں ٹسکنی کے دورے کے بعد اس علاقے کے متعلق لکھا تھا کہ ’ہمیں ان قبروں کو دیکھنے یا ان عجائب گھروں کو جہاں ان قبروں سے نکالی چیزیں رکھی گئی ہیں دیکھنے جانا چاہیے۔‘
مگر لیوکا نجروٹی جیسے مؤرخ، جو ایک ماہر آثار قدیمہ بھی ہیں اور اٹلی کی حکومت کے ساتھ کام کر رہے ہیں، اس قبرستان سے کچھ مٹی کے برتن اور اس دور کی پینٹنگز ڈھونڈ نکالنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ نوادرات شاید ان غاروں اور ہمارے کچھ سوالوں کے جوابات دے سکیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’بیشتر ایٹروسکن قبروں کو قدیم دور سے ہی لوٹا گیا ہے مگر چور ان قبروں سے صرف سونا لے کر جاتے تھے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’لہذا ماہرین آثار قدیمہ کے لیے یہ بہت دلچسپ ہے کیونکہ آپ کو اب بھی ان قبروں میں اس دور کے برتن اور دیگر ایسا سامان مل جاتا ہے، جو تاریخ کی تحقیق کے لیے واقعی بہت اہمیت رکھتا ہے۔‘
ایٹروسکن کی قبروں سے نکلنے والی روائتی پینٹنگز پیٹیگلیانوں کے علاقے میں نہیں ملتی کیونکہ جیسا کہ یہاں پینٹ چٹانی پتھروں کے ساتھ زیادہ چپکتا نہیں لیکن ترقینیا کے نیچے واقعے قبرستان میں موجود مشہور پینٹنگز کا جائزہ لینے کے بعد نجروٹی کا کہنا ہے کہ یہ غار اس دور کے مشہور افراد کے جنازوں کے جلوس کی گزرگاہ تھے۔
چند مؤرخین کے خیال میں یہ بھی ممکن ہے کہ ایٹروسکن کا یہ ماننا ہوں کہ موت کے بعد بھی ایک زندگی ہے اور یہ غار اس زندگی کی جانب جانے کے لیے ایک راہ گزر ہو۔
رونکا کہتی ہیں کہ ’ایٹروسکن درختوں اور دریاؤں کو خدا سمجھتے تھے اور ان کے نزدیک اہم ترین خدا زیر زمین رہتے تھے۔ تو شاید چٹانوں سے غار کھودنا ان کے لیے ان خداؤں سے رابطے کا ایک طریقہ ہو لیکن ہم اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دور کے ملنے والے نوادرات سے یہ پتا چلتا ہے کہ اس دور میں مرد اور عورت برابر تھے اور یہ رومن کے دور سے مختلف تھا۔
اس دور کے مجسموں اور پینٹنگز میں خواتین کو نہ صرف عوامی اجتماعات اور تقریبات میں مدعو کیا جانا بلکہ انھیں متحرک انداز میں شریک ہونے کی عکاسی کی گئی ہے۔
اس دور کی تحریروں سے یہ پتا چلتا ہے خواتین کو جائیداد میں حصہ دیا جاتا اور ان کے نام کے ساتھ ان کی والدہ کا نام استعمال کیا جاتا جبکہ رومن دور میں خواتین اپنے نام کے ساتھ والد یا شوہر کا نام استعمال کرتی تھیں۔
اور اٹلی کے علاقے سروٹری میں ایٹروسکن کی قبرستان سے ملنے والے ’سارکوفاگس آف دی سپاؤسز‘ نامی مجسمے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں مرد اور عورت برابر تھے۔
رونکا کا کہنا ہے کہ ’رومن خواتین صرف خاندان کی ماں ہوا کرتی تھی، ان کے پاس صرف گھر میں اختیار اور طاقت ہوتی تھی جبکہ اس کے برعکس ایٹروسکن کے دور میں خواتین تقریباً مردوں کے برابر تھیں، وہ ایک خاندان کی سربراہی کر سکتی تھیں، وہ کسی قصبے پر حکمرانی کر سکتی تھیں۔‘
نجروٹی اور رونکا دونوں کے لیے نوادرات اور آثار قدیمہ کی تحقیق سے تجویز کردہ سب سے دلچسپ نظریہ یہ ہے کہ ایٹروسکن نے ماحول پر رومن کے مقابلے میں بہت کم اثر ڈالا تھا جبکہ رومن اکثر اوقات زمینوں کو ختم کر دیتے، دریاؤں کا رخ موڑتے اور چٹانوں کا کاٹتے تھے۔
مثال کے طور پر ان کے ’وی غار‘ نے ماحول کو کم متاثر کیا اور انھیں اسی علاقے میں ہی پائی جانے والی چیزوں سے تیار کیا گیا تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہو کہ ایٹروسکن کا ماننا تھا کہ چند قدرتی چیزیں (درخت اور دریا) خدا ہیں اور یہ انسان کا قدرت سے تعلق ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’جبکہ رومن کا ماحولیات کو لے کر رویہ زیادہ جارحانہ تھا اور وہ زمین کے محل و وقوع میں زیادہ گہرائی تک تبدیلیاں کرتے تھے۔‘
نجروٹی کہتے ہیں کہ ’ایٹروسکن تہذیب کے افراد کی نشانیاں دیکھیں تو انھوں نے ماحول پر بہت معمولی اثرات مرتب کیے، شاید اس سے ہم ان سے کچھ سیکھ سکیں۔‘
جیسے ہی میرا پہاڑ سے اترائی کا سفر سوانا کے شہر میں پہنچ کر ختم ہوا، جو ایک سابقہ ایٹروسکن شہر تھا اور جس کی تعمیر بہت عرصہ قبل ہوئی تھی۔ مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ مجھے ایٹروسکن تہذیب اور ان کے دلچسپ غاروں کے متعلق اتنا کم علم کیوں تھا جبکہ میں رومن دور کے متعلق بہت کچھ جانتا تھا۔
رونکا کے مطابق مجھے اس بارے میں برا محسوس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ صرف اطالوی ہی نہیں بلکہ یورپی اور امریکیوں کو بھی اس متعلق کچھ علم نہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ’سکولوں میں اب بھی ایٹروسکن کے بارے میں نہیں پڑھایا جاتا، انھیں واقعی کم اہمیت اور وقعت دی گئی۔‘
لیکن اب اس میں تبدیلی آ رہی ہے، رونکا کا کہنا ہے کہ گذشتہ آٹھ سے پانچ برس میں، خصوصاً کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران جب اطالوی شہریوں نے زیادہ وقت اپنے خطے کو جاننے میں صرف کیا اس دوران ان ’وی کیو‘ اور ان کے قبرستانوں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔
رونکا کا کہنا ہے کہ ’دس برس قبل تک مجھے لوگوں کو زبردستی یہ غار دکھانے کے لیے یہاں بلانا پڑتا تھا۔‘
شاید جلد ہی یہ غار دیگر رومن تاریخی مقامات کی طرح مقبول ہوں اور لوگوں کی توجہ حاصل ہو لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو رونکا امید کرتی ہیں کہ ہم اس کا تحفظ کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
رونکا کہتی ہیں کہ ’یہ غار (وی کیو) کچھ منفرد ہیں، ہم انھیں دوبارہ بنا نہیں سکتے، اگر ایک مرتبہ وہ ختم ہو گئے تو ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے۔‘