بنگلہ دیشی وزیراعظم نے چین کا دورہ ادھورا چھوڑ کر ’تیستا پراجیکٹ‘ کے لیے انڈیا کو کیوں چنا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جانب سے چین کے دورے سے قبل از وقت واپس آنے اور انڈیا کو ایک انتہائی اہم ترقیاتی منصوبے تیستا ماسٹر پلان کی تکمیل کی ذمہ داری سونپنے کے بعد بنگلہ دیش کے چین اور انڈیا کے ساتھ روابط زیرِ بحث ہیں۔
شیخ حسینہ نے چین کے دورے سے واپسی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اور چین دونوں تیستا منصوبے میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن وہ چاہتی ہیں کہ انڈیا اس منصوبے کو مکمل کرے۔
انڈیا کو ایک ارب ڈالر کے تیستا ریور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ سے متعلق سکیورٹی خدشات تھے کیونکہ اگر یہ منصوبہ چین کے پاس چلا جاتا تو انڈیا کے لیے یہ ایک بہت بڑا دھچکا ہوتا۔
جنوبی ایشیا میں چین کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ انڈیا کے لیے ایک عرصے سے تشویش کا باعث رہا ہے۔
بنگلہ دیش میں انڈیا اور چین دونوں کا اثر و رسوخ ہے لیکن شیخ حسینہ کی حکومت انڈیا کے قریب سمجھی جاتی ہے۔
یہ 414 کلومیٹر طویل تیستا دریا انڈیا سے بنگلہ دیش میں بہتا ہے۔
جون کے مہینے میں جب شیخ حسینہ نے انڈیا کا دورہ کیا تو اس پراجیکٹ پر خاصی بحث ہوئی۔ انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان بہت سے مشترکہ دریا ہیں جو ہمالیہ سے نکل کر خلیج بنگال سے ملتے ہیں۔
انڈیا کے معروف سٹرٹیجک ماہر برہما چیلانی دریائے تیستا پراجیکٹ پر شیخ حسینہ کے فیصلے کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برہما چیلانی نے ٹویٹ کیا کہ ’تقریباً ایک ارب ڈالر کا یہ پراجیکٹ انڈیا کے لیے بہت حساس تھا۔ اس منصوبے کو چین کے ہاتھ سے نکالنا انڈیا کے لیے خوشی کی بات ہے۔‘
شیخ حسینہ نے کہا کہ ’میں چاہتی ہوں کہ انڈیا اس منصوبے کو مکمل کرے کیونکہ تیستا کا پانی انڈیا کے راستے آتا ہے۔ اگر ہمیں ان سے پانی چاہیے تو انڈیا یہ کام کرے۔ انڈیا اس منصوبے میں جو بھی درکار ہو گا وہ فراہم کر سکے گا۔‘
شیخ حسینہ نے کہا کہ ’ہمارے جنوبی بنگال کو بڑی حد تک نظر انداز کیا گیا ہے۔ میں نے چین سے کہا ہے کہ وہ جنوبی علاقے کی ترقی پر توجہ دے۔ پسماندہ ہونے کی وجہ سے یہاں کام کرنا مشکل ہے۔ میں نے کام تقسیم کر دیا ہے۔ ایسا کرنے سے ہمارا کام آسان ہو جائے گا۔‘
شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ ’سب سے دوستی چاہتی ہیں۔‘
تیستا پراجیکٹ کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جون میں شیخ حسینہ نے تیستا پراجیکٹ کے لیے چین سے آسان شرائط پر قرض فراہم کرنے کی درخواست کرنے کی بات کی تھی۔
اسی دوران مئی 2024 میں انڈیا کے خارجہ سکریٹری کے ڈھاکہ کے دورے کے دوران بنگلہ دیشی وزیر خارجہ حسن محمود نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ انڈیا تیستا پراجیکٹ کے لیے مالی مدد فراہم کرنا چاہتا ہے۔
ایسے میں سوال یہ ہے کہ تیستا پراجیکٹ دراصل کیا ہے؟
اس پراجیکٹ کے تحت سیلاب کو کنٹرول کرنے، مٹی کے کٹاؤ کو روکنے اور اس زمین کا بہتر استعمال کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت بنگلہ دیش کی جانب ایک بیراج تعمیر کیا جانا ہے۔
کئی مقامات پر تیستا کی چوڑائی پانچ کلومیٹر ہے، اسے کم کیا جائے گا۔ بعض مقامات پر دریا کی گہرائی بھی بڑھانا پڑ سکتی ہے اور پشتوں کو مضبوط کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس منصوبے کے ذریعے ساحلی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی مشکلات میں بھی کمی آئے گی۔
تیستا معاہدے پر 2011 میں اس وقت کے انڈیا کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دورہ ڈھاکہ کے دوران دستخط کیے جانے تھے لیکن مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی کی مخالفت کی وجہ سے یہ التوا کا شکار ہو گیا۔
سنہ 2014 میں مرکز میں اقتدار میں آنے کے ایک سال بعد، وزیر اعظم نریندر مودی ممتا بینرجی کے ساتھ بنگلہ دیش کے دورے پر گئے۔ وہاں انھوں نے تیستا کے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر رضامندی کا یقین دلایا تھا۔
لیکن 10 سال گزرنے کے باوجود تیستا کے مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شیخ حسینہ کا دورہ چین قبل از وقت ختم کیوں ہوا؟
گذشتہ ہفتے شیخ حسینہ اپنے دورہ چین سے درمیان میں واپس آگئی تھیں۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔
کہا جا رہا ہے کہ شیخ حسینہ نے چین جاتے ہوئے جو منصوبہ بنایا تھا وہ حاصل نہیں ہو سکا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق چین سے اپنی خواہش کے مطابق مالی مدد نہ ملنے کی وجہ سے حسینہ خوش نہیں تھیں۔
چین نے پانچ ارب ڈالر قرض کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن بنگلہ دیش کو چین سے صرف دو ارب ڈالر کی امداد ملی۔
شیخ حسینہ سے جب اس بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ دورہ چین سے کچھ حاصل نہیں ہوا وہ میری توہین کے لیے افواہیں پھیلا رہے ہیں۔
حسینہ نے کہا کہ ’میں اس معاملے کو اہمیت نہیں دینا چاہتی۔ میں اس سب کی عادی ہوں۔ جو لوگ یہ سارے سوالات اٹھا رہے ہیں، کیا وہ یہ جان بوجھ کر کہہ رہے ہیں یا وہ میری توہین کرنا چاہتے ہیں؟ تنقید کرنے والے بہت بولتے ہیں۔ بولنے والوں کو بولنے دو۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔‘
حسینہ واجد نے کہا کہ ان کے دورہ چین کے دوران 21 معاہدوں پر دستخط کیے گئے اور سات اعلانات کیے گئے۔
چین کے ساتھ تعلقات پر شیخ حسینہ نے کہا کہ ہمارے چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ اس سے پہلے جب میں انڈیا کے دورے پر گئی تھی تو کہا گیا تھا کہ میں نے ملک انڈیا کو بیچ دیا ہے۔ جب میں چین گیا تو مجھے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ یہ سب بیانات آتے رہتے ہیں۔ میرے خیال میں لوگ ذہنی مریض ہیں۔
حسینہ واجد کے دورہ چین سے بنگلہ دیش کو کیا ملا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیشی وزیراعظم کے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ شیخ حسینہ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات ہوئی۔ چین نے بنگلہ دیش کو دو ارب ڈالر دینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
یہ رقم چار طریقوں سے دی جائے گی:
- امداد
- سود سے پاک قرض
- رعایتی شرح پر قرضے
- تجارتی قرض
شیخ حسینہ نے بنگلہ دیش میں بڑے انفراسٹرکچر کی تعمیر پر شی جن پنگ کا شکریہ ادا کیا۔ پریس کانفرنس میں حسینہ واجد نے کہا کہ چینی صدر کو چٹاگانگ میں 800 ایکڑ اراضی میں سرمایہ کاری کرنے کو کہا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بنگلہ دیش نے بھی روہنگیا بحران سے نمٹنے کے لیے چین سے مدد مانگی ہے۔
حسینہ نے امید ظاہر کی ہے کہ چین علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بنگلہ دیش کی حمایت جاری رکھے گا۔
اگلے سال بنگلہ دیش اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 50 سال مکمل ہوں گے۔
حسینہ نے امید ظاہر کی ہے کہ تحقیق، تعلیم، آئی سی ٹی ٹیکنالوجی، ثقافت کے معاملات میں رابطے اور تعاون کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔










