آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
توشہ خانہ ٹرائل کا آغاز: ’آپ کو پریشر ڈال کر تو نہیں بھیجا گیا کہ جاؤ عمران خان کے خلاف ریفرنس دائر کردو؟‘
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں توشہ خانہ ریفرنس میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کے حوالے سے اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں سماعت کا اغاز کر دیا گیا ہے۔
سابق وزیر اعظم کے خلاف الیکشن کمیشن کی طرف سے بیجھے گئے ریفرنس پر منگل کو سماعت اسلام آباد کے ایڈشنل سیشن جج ظفر اقبال نے کی۔
اس ریفرنس پر سماعت شروع ہوئی تو سماعت کے آغاز میں ہی ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے مسکراتے ہوئے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا کہ آپ کو پریشر ڈال کر تو نہیں بھیجا گیا کہ جاؤ جاکر عمران خان کے خلاف ریفرنس دائر کردو؟
اس کے ساتھ ہی انھوں نے وضاحت کی کہ وہ ویسے ہی کہہ رہے ہیں جس پر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر وقاص ملک نے عدالت کے جج کو جواب دیا کہ وہ اپنی ڈیوٹی نبھا رہے ہیں اور اس ریفرنس پر قانون کے مطابق جو کارروائی بنتی ہے اس کو پورا کرنے کے لیے ہی عدالت میں آئے ہیں۔
توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کے آغاز سے پہلے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرسے عدالت کے سامنے حلف لیا گیا۔ وقاص احمد ملک نے عدالت کے سامنے بیان حلفی لکھا۔
ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے عدالت کے سامنے دیے گئے بیان حلفی میں کہا کہ مجھے اتھارٹی دی گئی ہے 21 نومبر کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی پیروی کروں۔
انھوں نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کی سیکشن 190 کو 167 اور 173 کے ساتھ ملا کر کارروائی کی اتھارٹی دی گئی، یہ کارروائی سابق وزیر اعظم عمران خان کے کرپٹ پریکٹیسسز سے متعلق ہیں۔
اپنے بیان حلفی میں انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا یہ اختیار ہے کہ وہ ریفرنس کی بنیاد پر رکن اسمبلی کے نااہلی معاملے کو دیکھ سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر وقاص احمد نے اپنے بیان حلفی کے متن میں کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت سالانہ 31 دسمبر تک رکن اسمبلی اور سینیٹرز کو گوشواروں کی تفصیلات جمع کرانا ہوتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان نے سنہ 2018 ، سنہ 2019، سنہ 2020 اور سنہ 2021 کے گوشوارے جمع کروائے۔ انھوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے اثاثوں کی جھوٹی تفصیلات جمع کرائیں اور ان کے بقول وہ کرپٹ پریکٹیسسز کے مرتکب ہوئے۔
انھوں نے کہا کہ سیکشن 174 کے تحت جھوٹی تفصیلات جمع کرانے کی سزا بھی ہے۔ ڈسٹرکٹ ایکشن کمشنر نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت شکایت منظور کرکے عمران خان کو سیکشن 167 اور 173 کے تحت سزا دے۔ واضح رہے کہ ان دفعات کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں عمران خان کو تین برس قید اور جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے۔
عدالت نے سابق وزیر اعظم کو اس ضمن میں منگل کے لیے نوٹس جاری کیا تھا لیکن وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کی طرف سے ان کا کوئی وکیل عدالت میں پیش ہوا۔
عدالت نے اس ریفرنس پر سماعت آٹھ دسمبر تک ملتوی کردی۔
’یہ ریفرنس عمران خان کی سیاسی زندگی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے‘
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کے خلاف یہ ریفرنس ایک ڈراؤنا خواب ثابت ہوسکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس ریفرنس میں جرم ثابت ہونے کی صورت میں تین سال کی قید تو ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان پر کم از کم پانچ سال کے لیے کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے کی پابندی بھی لگ سکتی ہے۔
امجد شاہ کا کہنا تھا کہ یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جو معاملہ فوجداری کارروائی کے لیے مقامی عدالتوں میں بیھجے جاتے ہیں ان کے فیصلہ ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ صورت حال عمران خان کے حق میں جاتی ہے اور ان کے وکلا متعقلہ عدالتوں سے لمبی لمبی تاریخیں لینے کی کوشش کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ اگر اس عرصے کے دوران ملک میں عام انتخابات کا اعلان بھی ہو جائے تو پھر بھی عمران خان الیکشن لڑنے کے اہل ہوں گے۔
امجد شاہ کا کہنا تھا کہ اگرعام انتخابات کے انعقاد کے بعد بھی اس ریفرنس پر فیصلہ عمران خان کے خلاف آتا ہے تو عمران خان کو قید کے ساتھ ساتھ نااہلی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
انھوں نے کہا کہ چاہے عدالت عمران خان کو ایک دن کی قید کی سزا بھی کیوں نہ سنا دے لیکن اس سزا کے بعد عمران خان کی نااہلی کم از کم پانچ سال کے لیے ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ ریفرنس میں دیے گئے فیصلے میں عمران خان کے خلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا تھا
توشہ خانہ ریفرنس الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137 ،167 اور 170 کے تحت بھجوایا گیا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر کیا جانے والا توشہ خانہ ریفرنس حکمران اتحاد کے پانچ ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔
ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف کو فروخت کر کے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ڈکلیئر نہیں کیا۔
آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے اس ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 ون ایف کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے انھیں نااہل کردیا تھا اور ان کی نااہلی صرف ایک مرتبہ کی ہی ہوئی ہے اور وہ موجودہ اسمبلی میں میانوالی سے جو نشست جیتے تھے اس پر انھیں نااہل قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے توشہ خانہ ریفرنس میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو معطل کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی تاہم عدالت نے عمران خان کی درخواست پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ فوری طور پر معطل کرنے کی استدعا مسترد کردی تھی۔
توشہ خانہ سے حاصل کی جانے والی ایک خاص گھڑی کی دبئی میں فروخت سے متعلق خبریں چلانے پر عمران خان نے نجی ٹی وی چینل جیو اور جنگ گروپ کے خلاف پاکستان، دبئی اور برطانیہ میں مقدمات دائر کرنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔