آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران میں مظاہرین نے بانیِ انقلاب آیت اللہ خمینی کے آبائی گھر کو آگ لگا دی، حکام کی تردید
- مصنف, رابرٹ پلمر
- عہدہ, بی بی سی نیوز
ایران میں مظاہرین کی جانب سے ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کے آبائی گھر کے ایک حصے کو نذرِ آتش کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خمین شہر میں موجود اس عمارت کے ایک حصے کو نذرِ آتش کیا گیا ہے۔
خبررساں ایجنسیوں کی جانب سے اس علاقے کی تصدیق کی گئی ہے جس کی ویڈیو بنائی گئی ہے لیکن مقامی حکام کی جانب سے کسی بھی ایسے واقعے کی تردید کی گئی ہے۔
آیت اللہ روح اللہ خمینی اس گھر میں پیدا ہوئے تھے جسے اب ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس میں ان کی زندگی کی یادگاریں رکھی گئی ہیں۔
خمینی سنہ 1979 میں ایران کے اسلامی انقلاب کی رہنمائی کر رہے تھے جس نے ملک کے مغرب نواز رہنما شاہ محمد رضا پہلوی کو اقتدار سے ہٹانے میں کردار ادا کیا اور ایک قدامت پسند ریاست قائم کی جو آج بھی اسی حالت میں موجود ہے۔
وہ 1989 میں اپنی وفات تک ایران کے پہلے رہبرِ اعلٰی کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے اور ان کی برسی ہر سال باقاعدگی سے منائی جاتی ہے۔
خمین کی سوشل میڈیا ویڈیوز میں درجنوں افراد کو عمارت کے نذرِ آتش ہوتے وقت نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ سماجی کارکنان کے ایک نیٹ ورک کے مطابق یہ فوٹیج جمعرات کی شام کو بنائی گئی تھی۔
تاہم خمین میں ملک کے پریس آفس نے خبر رساں ایجنسی تسنیم کو مؤقف دیتے ہوئے ایسے کسی بھی حملے کی تردید کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبررساں ایجنسی کے مطابق خمینی کے آبائی گھر کے باہر کچھ لوگ اکٹھے ہوئے تھے جنھوں نے بعد میں یہ ویڈیو شیئر کی اور کہا کہ ’یہ مرحوم امام کے چاہنے والوں اور مریدوں‘ کے لیے کھلا ہوا ہے۔
ایجنسی کے مطابق ’بانی انقلابِ ایران کے گھر کے دروازہ عام عوام کے لیے کھلے رہتے ہیں۔‘
عمارت کو نذرِ آتش کرنے کا یہ واقعہ ایسے ملک گیر مظاہروں کی لہر میں تازہ ترین ہے جس میں ان کے جانشین آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔
یہ احتجاج دو ماہ قبل 22 سالہ مہسا امینی کے پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد سامنے آئے تھے جنھیں ایران کی اخلاقی پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر سخت گیر حجاب قواعد کے باعث حراست میں لیا گیا تھا۔
ایرانی ریاستی میڈیا کے مطابق سکیورٹی فورسز کے پانچ اراکین جمعرات کی تازہ ترین ہنگامہ آرائی میں ہلاک ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ نوجوان ایرانیوں کے جنازوں کے دوران جمعے کو مزید مظاہرے ہوئے۔ ان نوجوانوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انھیں سکیورٹی فورسز کی جانب سے ہلاک کیا گیا۔
جنوب مغربی شہر عزہ میں ایک نو سالے بچے کیان پیرفلک کے جنازے پر مظاہرین کی جانب سے ’علی خامنہ ای کے لیے موت‘ کے نعرے لگائے گئے۔ ان کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ انھیں سکیورٹی فورسز کی جانب سے گولی ماری گئی تھی تاہم حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ تبریز، ماہ آباد اور زاہدان میں بھی شہریوں کی ہلاکتوں پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور ان ہلاکتوں کا الزام سکیورٹی فورسز پر لگایا جا رہا ہے۔