آسیان اجلاس میں شرکت کے لیے مودی ملائیشیا کیوں نہیں جا رہے؟

انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے ملائیشیا میں ہونے والے ایسوسی ایشن آف جنوب مشرقی ایشیائی ممالک (آسیان) سربراہی اجلاس میں براہ راست شمولیت کے بجائے ورچوئل یعنی آن لائن شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔

انڈین وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق ’وزیر اعظم مودی 26 اکتوبر کو آسیان اجلاس میں آن لائن شامل ہوں گے جبکہ ایس جے شنکر 27 اکتوبر کو ملائیشیا میں ہونے والی آسیان ممالک کی 20ویں کانفرنس میں وزیر اعظم مودی کی نمائندگی کریں گے۔‘

واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی عالمی تقریبات میں عام طور پر براہ راست شمولیت کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ اسی لیے کوالالمپور سمٹ میں ان کی غیر حاضری کو ایک غیر معمولی فیصلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی کے ملائیشیا نہ جانے کا مطلب ہے کہ ان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست سامنا نہیں ہو گا۔

انڈیا کی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نےمودی کے ملائیشیا کا دورہ نہ کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھایا ہے۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے سوال اٹھایا کہ آیا وزیر اعظم مودی امریکی صدر ٹرمپ کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔

یاد رہے کہ 26 سے 28 اکتوبر تک منعقد ہونے والے آسیان اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائچی، برازیل کے صدر لولا ڈیسلوا اور جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا بھی شرکت کریں گے۔

صدر ٹرمپ کا ایشیا کا دورہ اتوار کو ملائیشیا سے شروع ہو کر جاپان اور جنوبی کوریا میں اختتام پزیر ہو گا۔ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی جنوبی کوریا میں ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) سربراہی اجلاس میں ملاقات متوقع ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ سابق امریکی صدور براک اوباما اور لنڈن بی جانسن کے بعد ملائیشیا کا دورہ کرنے والے تیسرے امریکی صدر ہوں گے۔

مودی کے علاوہ آسیان سربراہی اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن بھی شرکت نہیں کریں گے۔

غیر معمولی فیصلے کی وجوہات

نریندر مودی نے 2014 میں وزیر اعظم بننے کے بعد سے لگ بھگ تمام آسیان سربراہی اجلاسوں میں براہ راست شرکت کی ہے، ماسوائے 2020 اور 2021 کے جب انھوں نے کووڈ کی عالمی وبا کے باعث آسیان سربراہی اجلاس میں ورچوئل شرکت کی تھی۔ جب کہ 2022 میں ان کی نمائندگی اس وقت کے نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے کی تھی۔

2023 میں انڈیا میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس سےعین پہلے بھی نریندرمودی نے جکارتہ میں آسیان سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کی تھی۔

حالیہ مہینوں میں وزیر اعظم مودی نے کچھ عالمی پروگراموں میں براہ راست شرکت سے گریز کیا ہے جس میں مصر کے شرم الشیخ میں منعقدہ غزہ امن کانفرنس بھی شامل ہے۔

انڈیا کے میڈیا میں خبریں آئی تھیں کہ ستمبر کے مہینے میں پی ایم مودی نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے تاہم وزیر اعظم مودی نے اس سے خود کو الگ کرلیا اور ایس جے شنکر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔

ماہرین آسیان میں نریندر مودی کی غیر موجودگی کو امریکہ سے دوری برقرار رکھنے کے لیے ایک سوچی سمجھی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کے ساتھ اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے جمعرات کو سوشل پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’آسیان، انڈیا اس کانفرنس میں ورچویل شرکت کرنے اور آسیان-انڈیا جامع سٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید گہرا کرنے کا منتظر ہے۔‘

دوسری جانب ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے بھی لکھا کہ نریندر مودی اس وقت انڈیا میں دیوالی کے تہوار کی وجہ سے اجلاس میں آن لائن شرکت کریں گے۔

کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے آسیان سربراہی اجلاس کے لیے ملائیشیا نہ جانے کے فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں۔

جے رام رمیش نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کی تعریف میں پوسٹ کرنا ایک الگ بات ہے لیکن ان سے روبرو ملنا ایک بالکل مختلف بات ہے۔‘

جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا کہ ’وزیر اعظم مودی کے ملائیشیا نہ جانے کی وجہ واضح ہے، مودی وہاں موجود صدر ٹرمپ کا سامنا نہیں کرنا چاہتے، انھوں نے کچھ ہفتے قبل اسی وجہ سے مصر میں غزہ امن اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ بھی ٹھکرا دیا تھا۔‘

جے رام رمیش نے کہا کہ ٹرمپ سے ملاقات مودی کے لیے ’بہت خطرناک‘ ہو سکتی ہے۔

سٹریٹجک امور کے تجزیہ کار برہما چیلانی نے ایکس پر لکھا کہ ’وزیراعظم مودی کے آسیان سربراہی اجلاس میں ٹرمپ کی شرکت نہ کرنے کے فیصلے کو امریکی صدر سے فاصلہ برقرار رکھنے کی ان کی خواہش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔‘

برہما چیلانی کے مطابق ’ٹرمپ نے بھاری محصولات اور بالواسطہ پابندیوں کے ذریعے انڈیا پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ مودی ٹرمپ سے صرف اس وقت ملاقات کرنا چاہیں گے جب تجارتی معاہدے کا مسودہ تیار ہو جائے گا، اس سے قبل نہیں۔‘

واشنگٹن ڈی سی میں قائم ولسن سینٹر کے ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ اب دونوں ممالک کے درمیان اعتماد تجارتی معاہدے کے ذریعے ہی بحال ہو سکتا ہے۔

مائیکل کوگل مین نے لکھا کہ ’مودی کے آسیان سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے اور مودی ٹرمپ میٹنگ نہ ہونے کے بعد امریکہ-انڈیا تعلقات کو ایک نئی شروعات دینے کا بہترین موقع تجارتی معاہدہ ہے (جس کی جلد توقع ہے)۔ یہ اعتماد سازی کا ایک قدم ہو گا جو پچھلے کئی مہینوں سےبڑھتی کشیدگی کو کم کر سکتا ہے۔‘

امریکہ اور انڈیا کئی مہینوں سے تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے ہیں لیکن یہ مذاکرات اس لیے پیچیدہ ہو گئے ہیں کیونکہ انّڈیا نے روس سے تیل کی درآمدات بڑھا دی تھیں۔

اس وجہ سے امریکہ نے اگست میں انڈیا کی اشیا پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جس سے کل ٹیرف 50 فیصد ہو گیا۔ امریکی فیصلے کے جواب میں انڈیا کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’یہ اقدام بلاجواز، غیر معقول اور غیر معقول ہے۔

انڈیا کے سابق سکریٹری خارجہ کنول سبل نے نریندرمودی کے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اسے درست قرار دیا ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’اگرمودی کوالالمپور جاتے تو انھیں ٹرمپ سے ملنا پڑتا۔ ٹرمپ کے غیر متوقع اور مضحکہ خیز بیانات سے سیاسی خطرات پیدا ہوتے ہیں۔‘

کنول سبل نے دعویٰ کیا کہ جب تک امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہیں ہو جاتا ٹرمپ سے ملاقات سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔

’وزیراعظم شاید یہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتے‘

دہلی میں واقع آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن میں شعبہ مطالعہ اور خارجہ پالیسی کے نائب صدر پروفیسر ہرش وی پنت نے

بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ یہ کوئی اچانک یا پراسرار فیصلہ نہیں ہے۔

ہرش وی پنت کا کہنا ہے کہ ’انڈیا اور امریکہ کے درمیان اس وقت تجارتی بات چیت جاری ہے۔ ایسے میں صدر ٹرمپ دباؤ بنانے کے لیے ہر حکمت عملی اپناتے ہیں۔ وہ اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے مذاکرات میں ہر چیز کا استعمال کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعظم ٹرمپ سے براہ راست ملاقات کرتے تو وہ ان دباؤ کے نکات سے اپنے پتے کھول کر سامنے رکھ دیتے۔

ان کے مطابق ’اگر براہ راست بات چیت ہو اور وہ (ٹرمپ) عوامی طور پر کچھ کہہ دیں تو آپ وہاں کیا جواب دے سکتے ہیں؟‘

ہرش وی پنت کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ حکمت عملی کے لحاظ سے سمجھنے والا اہم اقدام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ

’جب تک تجارتی معاہدے پر کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلتا، ٹرمپ جیسے لیڈر کے ساتھ براہ راست ٹاکرا ہونا خطرناک ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم شاید یہ خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔‘

ہرش وی پنت کہتے ہیں کہ ’اگر ہمارے اور امریکہ کے درمیان کچھ مسائل ہیں اور بات چیت جاری ہے تو انڈیا کو ایسے وقت میں خود کو کیوں ایکسپوز کرنا چاہیے؟ ٹرمپ اس طرح کے بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں کہ وہ کہیں بھی کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایسے میں اگر وزیر اعظم مودی عوامی طور پر ان کے ساتھ ہوں تو کچھ بعید نہیں لہذا وزیر اعظم اس قسم کی عوامی بے چینی کا سامنا کیوں کریں۔‘

’ایک لیڈر کے ساتھ اس قدر غیر متوقع، عوامی معاملات کو محدود کرنا دانشمندی ہے۔ تجارتی معاہدوں پر اتفاق ہونے تک ان سے بچنا بہتر ہے۔‘

یاد رہے کہ اگلے ماہ جنوبی افریقہ میں G-20 سربراہی اجلاس ہونے والا ہے اور اس کانفرنس میں انڈین وزیراعظم مودی کے شرکت کے تمام امکانات ہیں۔

ٹرمپ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اس سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کی پالیسیاں بہت خراب ہیں۔ کواڈ سمٹ کا انعقاد اس سال انڈیا میں ہونا تھا تاہم اس کا انعقاد ابھی تک نہیں ہوسکا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس سال وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان ایک اور ملاقات کا امکان موجود نہیں ہے۔