بیوی کو مارنے کے مذاق پر پاکستانی یو ٹیوبر کی کڑی سرزنش: ’گھریلوتشدد مذاق نہیں ہے‘

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- مقام, کراچی
لڑکی کا قد پانچ فٹ اور شوہر کا قد چھ فٹ تھا بات مذاق سے شروع ہوئی جس کے بعد تلخ کلامی اور تشدد تک آجاتی، دوبارہ دوستی ہوجاتی یہ معاملہ یوں ہی چلتا رہا۔
اس خاتون نے سائیکلوجسٹ سے تھراپی کے لیے رجوع کیا تو اسے معلوم ہوا کہ اسے صرف جسمانی تشدد ہی نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی استحصال کا بھی سامنا ہے جس کے بعد اس خاتون نے خلع لے لی۔
ماہر نفسیات حمیرا عفان نے اس خاتون کو تھراپی فراہم کی تھی، ان کا کہنا ہے کہ ’مذاق بھی بدسلوکی و استحصال میں آجاتا ہے اگر بال کھینچے جائیں، تھپڑ رسید کیا جائے یا جملے کسے جائیں لیکن اس میں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس میں کمفرٹ کی سطح کیا ہے کیونکہ کچھ خواتین اس کو مذاق تسلیم کرتی ہیں جبکہ کچھ اس کو بدسلوکی اور تشدد مانتی ہیں۔‘
پاکستان کے اداکار اور نامور یوٹیوبر شاہ ویر جعفری نے ٹک ٹاک پر بظاہرایک مذاحیہ ویڈیو پوسٹ کی جس میں ان کی اہلیہ ایک صوفے پر سوئی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، شاہ ویر ایک تکیہ لے کر ان کے منہ پر رکھ کر دباتے ہیں اور ان کی سانس روکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن چند لمحے بعد ان کی اہلیہ صوفے کے دوسرے جانب سے سر اٹھاتی ہیں تو شاہ ویر کو پتا چلتا ہے کہ وہ ان کے پیروں پر تکیہ دبا رہے تھے۔ جس کے بعد وہ وہی تکیہ پیار سے ان کے سر کے نیچے رکھتے ہیں اور اپنی پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے وہاں سے چل دیتے ہیں۔
ان کی اس پوسٹ پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے صارفین نے ناراضگی کا اظہار کیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’گھریلوتشدد مذاق نہیں ہے‘
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سول سسٹرز کی بانی کنول احمد لکھتی ہیں کہ ’ایک ایسے ملک میں جہاں گھریلو تشدد سے ہر سال ہزاروں خواتین ماری جاتی ہیں – مشہور یو ٹیوبر کا اپنی بیوی کا گلا گھونٹنا ’مضحکہ خیز‘ لگتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
سیدہ سندس رضا لکھتی ہیں کہ ’کچھ مہینے پہلے گھریلو تشدد کی وجہ سے کسی قریبی عزیز کو کھو دیا۔ جب بھی کوئی گھریلو تشدد کے بارے میں مذاق کرتا ہے تو میرا خون کھولنےلگتا ہے۔‘
صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مرد حضرات بھی اس پوسٹ پر ناراضی ظاہر کرتے دکھائی دیے۔ عبداللہ زاہد لکھتے ہیں کہ ’کتنا گھٹیا مذاق ہے۔ آپ اپنی بیوی کا گلا گھونٹ رہے ہیں ایسے میں جب وہ سو رہی تھیں۔ ان کی منفی ذہنیت کے کس حصے نے سوچا کہ لوگوں کو ہنسانے کے لیے یہ ایک اچھا خیال ہے، کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب اخبارات کے صفحہ اول پر ایسے واقعات کی خبر نہ ہو۔ گھریلوتشدد مذاق نہیں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
نشاط لکھتی ہیں کہ ’ایک ویڈیو پر 41.3 ہزار لائکس شاہ ویر جعفری، ایک ایسے ملک میں اپنی بیوی کا مذاق کے طور پر گلا گھونٹ دیتا ہے جہاں گھریلو تشدد عروج پر ہے، جہاں خواتین دراصل اپنے شوہروں کے ہاتھوں ماری جاتی ہیں! میرا خون کھول رہا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
دانیال اظہر نامی ایک صارف کا کہنا تھا ’میں اس سے متفق ہوں کہ یہ ہرگز مذاق نہیں ہے۔ یہ انفلواینسر مثبت انداز اپنانا کب سیکھیں گے۔ ‘
ہانیہ لکھتی ہیں کہ ’عورتوں کو یہ مت بتائیں کہ کس چیز سے ڈرنا ہے۔ آپ کواندازہ نہیں ہے کہ ہمیں کیا کیا خوف ہیں۔‘
’چلو میں بھی کر کے دیکھتا ہوں‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
ماہر نفسیات حمیرا عفان کہتی ہیں کہ ’کوئی اگر ایسا عمل دیکھتا ہے تو اس کو کاپی کرتا ہے یعنی اگر کوئی مذاق میں گلا گھونٹ رہا ہے تو وہ سوچتا ہے کہ چلو میں بھی یہ کرکے دیکھتا ہوں۔‘
تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن آج کل شعور و آگاہی زیادہ ہے اس پر لوگ فوری رد عمل کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ غلط ہے لہٰذا جو مثبت پہلو ہیں انھیں کاپی کرنا چاہیے۔‘
نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد خواتین کو جسمانی یا جذباتی تشدد کا سامنا ہے، ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گھریلو تشدد کے روزانہ 20 سے 25 کیسز سرکاری ہسپتالوں تک آتے ہیں، پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق جناح میں 8 سے 10، سول ہسپتال میں 4 سے 6 اور عباسی شہید ہسپتال میں 8 سے 10 کیسز روزانہ کی بنیاد پر آتے ہیں۔
ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق اگر تشدد رپورٹ ہوجائے تو یہ بدترین شکل بھی اختیار کرلیتا ہے۔’میرے پاس ایک 25 سے 30 سال کی عمر کی ایک شادی شدہ لڑکی آئی جس کے دو بچے تھے اور جسم پر تشدد کے نیل پڑے تھے چند روز کے بعد وہ دوبارہ آئی اس روز میری جونیئر نے اس کا معائنہ کیا اس بار اس کا ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا، تیسری بار جب وہ آئی تو مردہ حالت میں لائی گئی اس قدر تشدد کیا گیا تھا۔‘
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق اب وہ گھریلو تشدد کی تشریح کو مزید وسیع کر رہے ہیں یعنی اس میں گالم گلوچ، نفسیاتی دباؤ، معاشی استحصال اور آزادانہ نقل حرکت کی اجازت نہ دینے کو بھی شامل کر رہے ہیں۔











