’تم اسے غصہ مت دلاؤ، برداشت کر لو‘: گھریلو تشدد کا شکار خواتین مدد حاصل کرنے سے کتراتی کیوں ہیں؟

women

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ثمرہ فاطمہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

بات شروع ہوئی تھی کھانے میں تیز نمک سے اور ختم ہوئی بیوی کے قتل پر۔

پولیس کے مطابق چند ماہ قبل ممبئی میں پیش آنے والے اس واقعے میں شوہر کو کھانے میں نمک تیز ہونے پر اتنا غصہ آ گیا تھا کہ اس نے طیش میں آ کر اپنی اہلیہ کو گلا دبا کر قتل کر دیا۔

اسی طرح گذشتہ دنوں دلی میں رہنے والی شردھا والکر کا اپنے ’لِو ان پارٹنر‘ آفتاب پوناوالا کے ساتھ جھگڑا ہوا۔

پولیس کے مطابق مبینہ طور پر غصے میں پوناوالا نے شردھا کا گلا دبا دیا اور لاش کے 35 ٹکڑے کر کے جنگل کے مختلف حصوں میں پھینک دیے۔

انڈیا میں پیش آنے والے یہ واقعات انوکھے ہرگز نہیں ہیں اور ایسے واقعات صرف انڈیا میں ہی نہیں پاکستان میں بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ مرد کو آنے والے غصے اور غصے میں اس کے پُرتشدد ہو جانے کا معاشرہ اس حد تک عادی ہو چکا ہے کہ اکثر یہ پوچھنے کے بجائے کہ ’اس کی اتنی ہمت کیسے ہوئی‘ سوال یہ کیا جاتا ہے کہ ’عورت نے ایسا کیا کیا کہ مرد اتنا طیش میں آ گیا۔‘ 

قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ ایسے حادثات کا شکار ہونے والی خواتین کا تعلق ہمیشہ غیر تعلیم یافتہ یا معاشی اعتبار سے کمزور طبقوں سے نہیں ہوتا۔ بلکہ تعلیم یافتہ، پیشہ ورانہ اور اپنے معاملات میں بظاہر ہوش مند خواتین بھی ایسے حالات سے متاثر پائی جاتی ہیں۔

آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ کیوں وہ تشدد کے خلاف آواز نہیں اٹھا پاتیں، مدد نہیں مانگ پاتیں یا اپنے تحفظ کے لیے قانونی راستے کا انتخاب نہیں کر پاتیں؟

شردھا والکر کا تعلق ممبئی سے تھا اور وہ ایک بہتر زندگی کی امید میں آفتاب پونا والا کے ساتھ دلی آئی تھیں۔

پولیس کی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پوناوالا جب ممبئی میں رہتے تھے تب بھی شردھا پر تشدد کرتے تھے اور دلی میں بھی اُن کا رویہ نہیں بدلا۔

women

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پولیس کے مطابق پوناوالا نے 18 مئی سے پہلے بھی شردھا کو جان سے مارنے کی کوشش کی تھی۔

ابھی یہ کیس عدالت میں ہے، لیکن اِس ہولناک قتل نے ایک رشتے میں رہتے ہوئے خواتین پر ہونے والے تشدد کے بارے میں متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔ اس معاملے نے رشتوں میں منسلک، اپنے گھروں کے اندر، خواتین کے تحفظ پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ 

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں ہر تین میں سے ایک خاتون ایسی ہے جو جنس کی بنیاد پر ہونے والے تشدد سے متاثر ہے۔

یہی تناسب پاکستان اور انڈیا پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ سنہ 2021 میں انڈین پولیس کو شوہر یا اس کے گھر والوں کی طرف سے تشدد کی تقریباً 138000 شکایتیں موصول ہوئیں، یعنی ہر چار منٹ میں ایک شکایت۔

اصل حالات کا اندازہ اِس بات سے ہوتا ہے کہ گھریلو تشدد کا شکار ہونے والی خواتین میں سے صرف 14 فیصد ہی مدد مانگتی ہیں۔

’ایسے جرائم کا سامنے آنا کوئی نئی بات نہیں ہے پھر بھی شردھا کے معاملے کے بعد بار بار یہی خیال آ رہا ہے کہ لڑکیوں کے خلاف اس قسم کے جرائم کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟‘

یہ خیالات دلی یونیورسٹی کے دولت رام کالج کی ایک طالبہ کے ہیں۔

ایک اور طالبہ نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کہ ’بعض اوقات والدین بچوں کی بات سے متفق نہیں ہوتے، لیکن اگر والدین اور بچوں کے درمیان بات چیت ختم ہو جاتی ہے تو اس قسم کے ہولناک حادثات کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے ان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ کبھی نہیں ٹوٹنا چاہیے۔‘

انڈین قانون کے مطابق ’لِو ان‘ تعلقات یعنی شادی کے بغیر لڑکے اور لڑکی کے مستقل عرصے ساتھ رہنے میں خواتین کے پاس اپنے تحفظ کے لیے گھریلو تشدد سے متعلقہ ایکٹ کے تحت وہ تمام قانونی حقوق ہوتے ہیں جو کسی شادی شدہ عورت کے پاس ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بہت بڑی تعداد ایسی خواتین کی ہے جو اپنے تحفظ کے لیے قانون کا سہارا نہیں لے پاتیں۔

women

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سپریم کورٹ آف انڈیا میں وکیل شرین خان نے بتایا کہ ’یہ قانون خواتین کے خلاف جسمانی، نفسیاتی، ذہنی یا زبانی کیے جانے والے کسی بھی تشدد کے خلاف ان کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ خواتین آگے آتی ہی نہیں ہیں۔ جو آتی بھی ہیں انھیں اکثر میڈیئیشن کورٹ کا راستہ دکھایا جاتا ہے جہاں دونوں فریقوں سے سمجھوتے کی توقع کی جاتی ہے۔‘ 

شرین کے مطابق یہ ماحول بیشتر خواتین کو آگے آنے سے روکتا ہے۔

شردھا کے والدین ان کے پونا والا کے ساتھ تعلقات سے خوش نہیں تھے اور شردھا کے ساتھ رابطے میں بھی نہیں تھے۔

کئی ماہ شردھا سے کوئی رابطہ نہ ہو پانے پر جب ان کے بھائی نے والدین سے اس بارے میں بات کی تب انھوں نے پولیس کو مطلع کیا۔

پولیس کی تفتیش میں سامنے آیا کہ شردھا کا قتل کئی ماہ قبل ہو چکا تھا۔ 

دلی کی ماہر نفسیات ڈاکٹر پوجا کا کہنا ہے کہ ’عام طور پر جب بات میچیورٹی کی آتی ہے تو ہم والدین کو بچوں سے زیادہ میچیور سمجھتے ہیں۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے، کوئی بھی پریشانی آئے یا تعلقات میں بدلاؤٴ آ جائے، والدین کو بچوں کے ساتھ بات چیت ختم نہیں کرنی چاہیے۔‘

’بچوں کے لیے والدین سے بات کرتے رہنا ایک بہت بڑا سیفٹی نیٹ ہوتا ہے۔‘

’ایسا کرنا والدین کے لیے مشکل ضرور ہو سکتا ہے لیکن بحیثیت والدین یہ ان کی ذمہ داری ہے۔‘

عورتوں کی اس خاموشی کی ایک بڑی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ اس طرح کے تشدد کو معاشرے میں بڑی حد تک نارمل سمجھا جاتا ہے۔ 

wmen

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈین مصنفہ میگھنا پنت خود ماضی میں گھریلو تشدد کا شکار رہ چکی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ’خواتین کے خلاف تشدد کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بارے میں زیادہ سے زیادہ بات ہو۔‘

 ان کا خیال ہے کہ بہت سی خواتین اس لیے بھی اپنے تحفظ کے لیے اقدامات نہیں اٹھا پاتیں کیونکہ انھوں نے بچپن سے اپنے ماحول میں اپنے گھروں کی خواتین کے ساتھ جو سلوک دیکھا ہوتا ہے وہ اسے ہی ٹھیک سمجھتی ہیں۔

بعض معاملات میں خواتین کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ ان کا نصیب ہے۔

ان حالات کو خاموشی سے برداشت کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے کیونکہ معاشرہ طلاق یافتہ خواتین کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا۔

ایسے متعدد ذہنی دباؤ خاموشی کے ایک خوفناک ماحول کو فروغ دیتے ہیں جو خواتین کے خلاف تشدد کو شکست دینے کے بجائے استحکام بخشتا ہے۔

میگھنا کا خیال ہے کہ ’گھریلو تشدد کی صورتحال میں اکثر متاثرہ خاتون سے ہی کہا جاتا ہے کہ تم اسے غصہ مت دلاؤ۔ تم برداشت کر لو۔ اس لیے بہت سی لڑکیاں وہ سب کچھ برداشت کرتی چلی جاتی ہیں جو انھیں نہیں کرنا چاہیے۔‘

’اس کے علاوہ معاشرے پر میڈیا کا بھی بہت اثر ہوا ہے۔ بہت سی خواتین کو لگتا ہے کہ پیار کے نام پر کسی بھی حد تک برداشت کرنا ٹھیک ہے۔‘ 

انڈیا کے نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق ملک میں 40 فیصد سے زیادہ خواتین کو یہ لگتا ہے کہ کچھ حالات میں بیوی پر ہاتھ اٹھانا جائز ہے اور 38 فیصد مردوں کو بھی بیویوں پر ہاتھ اٹھانا جائز لگتا ہے۔ 

انڈیا کی چار جنوبی ریاستوں، آندھرا پردیش، تیلینگانا، تمل ناڈو اور کرناٹک میں 77 فیصد سے زیادہ خواتین اور 63 فیصد سے زیادہ مردوں کو لگتا ہے کہ کچھ حالات میں بیویوں پر ہاتھ اٹھانا جائز ہے۔

 یہ یاد رکھنا بھی اہم ہے کہ بات ہمیشہ واضح جسمانی تشدد سے شروع نہیں ہوتی۔

انڈیا کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق 2020 میں 22,372 ہاؤز واؤز یعنی گھروں پر رہنے والی خواتین نے اپنے ہی ہاتھوں اپنی جان لے لی۔ یعنی ہر25ویں منٹ میں ایک اور ہر روز 61 خواتین نے خودکشی کی۔

ایک سرکاری سروے میں نفسیاتی ماہرین نے زور دیا کہ گھروں پر رہنے والی خواتین کی خودکشی کی سب سے بڑی وجہ گھریلو تشدد ہے۔

اسی موضوع پر بی بی سی پوڈ کاسٹ ’ڈرامہ کوئین‘ میں ہم نے ایک خصوصی قسط میں ان خواتین سے بات کی جو ان حالات کو شکست دے کر زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔ اس قسط کو آپ یہاں سُن سکتے ہیں۔